قائم علی شاہ: پی پی پی کے پرانے رکن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سید قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے وہ واحد رہنما ہیں جنہیں صوبہ سندھ میں دوسری بار وزارت اعلی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں 1988ء میں بھی وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں تاہم ان کی وزارت اعلیٰ چند ماہ ہی چل سکی اور بعد میں پارٹی نے ان کی جگہ آفتاب شعبان میرانی کو وزیر اعلیٰ مقرر کردیا تھا۔ قائم علی شاہ کو ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کا تجربہ ضرور ہے، اگرچہ ایم کیو ایم ایک سال بعد ہی پیپلز پارٹی کی حکومت سے علحیدہ ہوگئی تھی۔ اس کا شکوہ تھا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت نے بنگلہ دیش میں محصور بہاریوں کو پاکستان لانے، کوٹہ سسٹم ختم کرنے اور پارٹی کے کارکنوں پر قائم مقدمات ختم کرنے کے اس کے مطالبات پورے نہیں کیے۔
وہ 1970ء کے بعد سے اپنے آبائی ضلع خیرپور سے عام انتخابات کے دوران چھ بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کے سید غوث علی شاہ سے ہار گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد پارٹی کے ٹکٹ پر وہ سینیٹر منتخب ہوگئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بھی وہ صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کے جن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا تھا ان میں قائم علی شاہ بھی شامل تھے۔ قائم علی شاہ سندھ میں بننے والی اینٹی کالا باغ ڈیم اینڈ تھل کینال ایکشن کمیٹی کے کنوینر بھی رہے ہیں جو اب غیرفعال ہوچکا ہے۔ یہ اتحاد مختلف وفاقی اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل تھا جو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے کچھ برسوں بعد دریائے سندھ پر مزید ڈیموں اور کینالوں کی تعمیر کے خلاف جدوجہد کرنے کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کی کچھ رکن جماعتیں بعد میں اے پی ڈی ایم میں شامل ہوگئیں۔ ان کی صاحبزادی نفیسہ شاہ بھی سیاست میں ہیں۔ وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ پہلے انسانی حقوق کی کارکن اور صحافی تھیں لیکن 2002ء میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے عوام دوست پینل سے ضلع خیرپور کے ضلع ناظم کے عہدے کے لیے الیکشن لڑا جس میں وہ کامیاب ہوئیں۔ اس بار پیپلز پارٹی نے انہیں قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے اپنی سرفہرست امیدواروں میں نامزد کیا ہے اور قوی امکان ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے امیدواروں میں وہ بھی شامل ہوں گی۔ | اسی بارے میں پی پی پی متحدہ ملاقات’خوش آئند‘28 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی پی، ایم کیو ایم مذاکرات27 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی درخواستیں، نتیجہ روکنے کا حکم26 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟25 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم 21 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ کو نظرانداز کرنا آسان نہیں20 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی پی کارکنوں پر متحدہ کے الزامات20 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||