پی پی پی کارکنوں پر متحدہ کے الزامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان پیپلز پارٹی کو عام انتخابات میں ملنے والے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے اور پیپلز پارٹی کو بھی کھلے دل سے ایم کیو ایم کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا الزام لگایا ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لے اور اپنا مؤقف واضح کرے۔ فاروق ستار نے یہ بات بدھ کو رات گئے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ قبل ازیں انہوں نے رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جو چار گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ آئندہ حکومت میں اتحاد کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے غور کیا گیا تاہم پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار نے اس بارے میں اپنی جماعت کا مؤقف بتانے سے گریز کیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام لگایا کہ کراچی میں مختلف انتخابی حلقوں میں شکست کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں پر قاتلانہ حملے کیے ہیں جن میں ان کے بقول رنچھوڑ لائن کے علاقے میں ایک کارکن محمد علی کو گولیاں مار کر اور مچھر کالونی میں ببلو ولد رستم علی کو خنجر مارکر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ محمودآباد کے علاقے میں راشد ولد یاسین کو فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد، میرپورخاص اور نوابشاہ اور سکھر میں الیکشن کے بعد ریلیاں نکالی گئیں جن میں ایم کیو ایم اور اسکے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرے لگائے گئے اور مغلظات دی گئیں جبکہ نوابشاہ میں متحدہ کے امیدوار رشید بھیا کے گھر کے قریب فائرنگ کی گئی جس سے ان کی بچی زخمی ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بعد ان علاقوں میں شدید کشیدگی ہے لیکن ’ہم شرافت اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور صبر کے گھونٹ پی رہے ہیں‘۔ انہوں نےالزام لگایا کہ کراچی کے علاقے لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کراچی میں ان پرتشدد واقعات میں ملوث ہیں جن کا پیپلز پارٹی کی قیادت کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔ قبل ازیں بی بی سی بات کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بتایا تھا کہ رابطہ کمیٹی غور کر رہی ہے کہ آیا ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہو یا نہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا جائے یا نہیں۔ یاد رہے کہ بدھ کی شام آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ مل کے حکومت بنائیں اور اگر ایم کیو ایم حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتی تب بھی اسے ساتھ لے کر چلا جائے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پیر کو انتخابات کے بعد کراچی کے مختلف حلقوں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے الزام لگایا تھا کہ ایم کیو ایم نے انتخابات کے دوران کراچی کے مختلف انتخابی حلقوں میں طاقت اور تشدد کے زور پر دھاندلی کی اور پیپلز پارٹی کے بعض پولنگ ایجنٹوں کو اغواء کرلیا جن میں سے ایک کی لاش اگلے دن ملی۔ |
اسی بارے میں کراچی میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ19 February, 2008 | الیکشن 2008 ایم کیو ایم کو نظرانداز کرنا آسان نہیں20 February, 2008 | الیکشن 2008 ابتدائی رجحانات: ایم ایم اے پیچھے، غیر متوقع نتائج کا امکان18 February, 2008 | الیکشن 2008 پنجاب: متحدہ کی انتخابی سرگرمیاں13 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 حصص بازار میں غیر معمولی تیزی19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||