BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 03 March, 2008 - Published 16:39 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قائم علی شاہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد

قائم علی شاہ
کوشش ہوگی کہ سندھ میں دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ لیکر چلیں: آصف زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ میں وزارت اعلی کے عہدے کے لیے سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کو نامزد کیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو کو سپیکر اور پیر مظہر الحق کو پارلیمانی لیڈر کے عہدوں کے لئے نامزد کیا ہے۔

ان اہم عہدوں کے لئے نامزدگیوں کا اعلان پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری نے پیر کو بلاول ہاؤس میں پارٹی کے اہم رہنماؤں اور سندھ سے نومنتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ اور دیگر صوبائی عہدوں کے لئے نامزدگیاں دوستوں سے صلاح مشوروں کے بعد کی جائیں گی اور اس سلسلے میں ان کی کوشش ہوگی کہ سندھ میں دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ لیکر چلیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کے معاملے پر ابھی پارٹی میں مزید غور اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ میری طرف دیکھے
 میں سندھ سے کہوں گا کہ وہ میری طرف دیکھیں۔ میرے مصائب کو دیکھیں۔ میں نے آٹھ سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارا اور اس کے بعد پھر (بے نظیر بھٹو کو قتل کرکے) مجھ پر اور پارٹی پر ظلم کیا گیا۔ اسکے باوجود ہم پاکستان اور جمہوریت کی بات کررہے ہیں اور بے نظیر بھٹو کا بھی یہی پیغام تھا کہ پاکستان کو بچانا ہے
آصف علی زرداری

اسی ضمن میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کے ووٹر ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کو صوبے کے ساتھ زیادتی تصور نہیں کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’میں سندھ سے کہوں گا کہ وہ میری طرف دیکھیں۔ میرے مصائب کو دیکھیں۔ میں نے آٹھ سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارا اور اس کے بعد پھر (بے نظیر بھٹو کو قتل کرکے) مجھ پر اور پارٹی پر ظلم کیا گیا۔ اسکے باوجود ہم پاکستان اور جمہوریت کی بات کررہے ہیں اور بے نظیر بھٹو کا بھی یہی پیغام تھا کہ پاکستان کو بچانا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ابھی تک کسی کی بھی نامزدگی کا فیصلہ نہیں ہوا ہے اور ان کی جماعت کی چونکہ مرکز میں اکثریت نہیں ہے اس لیے تمام حلیف جماعتوں کے مشورے سے کوئی بھی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آپ کو بہت جلد خوشخبری ملے گی۔

وزیر اعظم کا امیدوار سندھ سے ہوگا یا پنجاب سے؟ یہ سوال انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں آپ کو یہ بتاسکتا ہوں کہ کم سے کم میں خود وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں۔

اس سوال پر کہ کیا وہ پیپلز پارٹی کی سربراہی اور وزارت عظمی کو الگ الگ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، آصف زرداری نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسی بات کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پارٹی کا سربراہ حکومت سے باہر رہ پارٹی کو مضبوط، منظم اور فعال بنانے پر توجہ مرکوز کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کے تمام مسائل پارلیمینٹ میں لے جائے گی۔ ’وکلاء اور مزدوروں کے مسائل اور بلوچستان، کشمیر اور صوبہ سرحد وغیرہ کے مسائل ہم پارلیمینٹ میں لے جائیں گے اور دوستوں کی رائے لیکر انہیں حل کریں گے‘۔

نئی پارلیمینٹ پہلے کیا کرے گی
پیپلز پارٹی پارلیمینٹ میں پہنچتے ہی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے اور ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے اس پر معافی مانگنے کی قراردادیں پیش کرے گی
آصف علی زرداری

آصف زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمینٹ میں پہنچتے ہی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے اور ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے اس پر معافی مانگنے کی قراردادیں پیش کرے گی۔

کیا پیپلز پارٹی کے نومنتخب ارکان قومی اسمبلی صدر جنرل پرویز مشرف سے حلف لیں گے؟ اس سوال پر ان کا جواب تھا کہ جب ہم پارلیمینٹ میں جائیں گے تب یہ فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد ایسی سیاست کرے گی جس سے پارٹی کے دوستوں اور سیاسی مخالفین کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ’پیپلز پارٹی دس سال تک اقتدار سے باہر رہی ہے۔ ہمیں عوام کے مسائل اور ملک کو درپیش خطرات، جمہوریت کے استحکام، دہشتگردی کے خاتمے، بھوک افلاس اور معاشی زوال کا ذمہ داری سے مقابلہ کرنا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک کی سلامتی چاہتے ہیں اور پاکستان کی حالت اس وقت بہت نازک اور حساس ہے۔

انہوں نے چاروں صوبوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’عوام ہم سے امید رکھتے ہیں اور ہم ان امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے دوبئی کے حالیہ دورے میں متحدہ عرب امارات کے فرمان روا شیخ محمد بن النہیان سے ملاقات کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اور بے نظیر بھٹو بھی اپنی زندگی میں جب بھی دوبئی جاتی تھیں تو ان سے ملاقاتیں ہوتی تھی کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے ان کے والد سے دوستانہ تعلقات تھے۔

اسی بارے میں
پی پی پی، ایم کیو ایم مذاکرات
27 February, 2008 | الیکشن 2008
متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟
25 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی
24 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد