’شراکتِ حکومت، دعوت ابھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو اب تک سندھ کی آئندہ حکومت میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی ہے تاہم انہوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کے امکان کو کلی طور پر رد بھی نہیں کیا ہے۔ جمعہ کو کراچی میں اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وفد نےگزشتہ روز حکومت سازی کے سلسلے میں نہیں بلکہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور انہیں یہ پیغام دیا تھا کہ پیپلز پارٹی تصادم کی سیاست نہیں چاہتی بلکہ صوبے میں امن و استحکام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے تاکہ غربت، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہی ہے جبکہ ایم کیو ایم دوسرے نمبر پر ہے اس لیے پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت کی ہے ’لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم نے انہیں حکومت میں آنے کی دعوت دی ہے ابھی یہ مرحلہ آیا نہیں ہے، آگے چل کر ان سے اتحاد کی بات ہوتی ہے یا نہیں ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے پارٹی قیادت نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی اس کے پاس محدود مینڈیٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ’ہمیں صرف یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ ہم جائیں اور ان سے خیر سگالی کی بات کریں، اگر پارٹی اس سے آگے بات کرنا چاہے گی تو وہ بھی سندھ کے عوام کے مفادات اور پارٹی کے جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بھی ق لیگ کے ارکان سے کوئی بات نہیں ہوگی تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مفاہمت پیپلز پارٹی کے ووٹروں سے بے وفائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو لوگوں نے اس کے پروگرام اور بے نظیر بھٹو کے نام پر ووٹ دیے ہیں اور بےنظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں بھی کہا تھا کہ ہم سب سے بات کریں گے۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’میں گواہ ہوں کہ جب اٹھارہ اکتوبر کے بعد بےنظیر صاحبہ سے ایم کیو ایم کا وفد ملا تھا تو شہید بے نظیر بھٹو نے ان سے کہا تھا کہ آگے چل کر آپ سے بات چیت ہوسکتی ہے تو ہم ان کے نقوش پر چل رہے ہیں‘۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری کی جانب سے تشکیل دیےگئے پارٹی کے ایک تین رکنی وفد نےگزشتہ روز ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا دورہ کرکے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جو لگ بھگ ایک گھنٹہ جاری رہی تھی۔ ملاقات کو دونوں جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ ایم کیو ایم خواہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف میں، پیپلز پارٹی کے تمام مثبت اقدامات کی غیرمشروط حمایت کرے گی۔ | اسی بارے میں پی پی پی متحدہ ملاقات’خوش آئند‘28 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی پی، ایم کیو ایم مذاکرات27 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی درخواستیں، نتیجہ روکنے کا حکم26 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟25 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم 21 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ کو نظرانداز کرنا آسان نہیں20 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی پی کارکنوں پر متحدہ کے الزامات20 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||