BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوشہرہ چھاؤنی میں خودکش حملہ

آرمی سروسز سینٹر کاگیٹ
دھماکے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں
پاکستان کے شمال مغربی صوبۂ سرحد کی سب سے اہم فوجی چھاؤنی نوشہرہ میں سنیچر کی صبح ایک خود کش بم حملے میں دو فوجیوں اور حملہ آور سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے نوشہرہ میں خودکش حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صبح نو بجے کے بعد آرمی سروسز سینٹر کے گیٹ پر ہوا جس میں دو فوجی اور تین شہری مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں نوشہرہ کے فوجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

نوشہرہ کے پولیس سربراہ مبارک زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ سائیکل پر سوار ایک خود کش بمبار نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب آرمی سروسز سینٹر کے گیٹ پر تعینات فوجیوں نے اس کو مشکوک سمجھ کر روکا۔ ان کے بقول حملے کے نتیجے میں خودکش حملہ آور، دو فوجی اور تین عام شہریوں سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ دس کے قریب زخمی ہوگئے۔

پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کے جسم کے ٹکڑے ملے ہیں اور اس سلسلے میں مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ ان کے بقول تازہ حملہ فوجی چھاؤنی کے سخت سکیورٹی والے علاقے میں پیش آیا ہے۔

یاد رہے کہ صوبۂ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں واقع فوجی چھاؤنی قیام پاکستان سے پہلے قائم کی گئی تھی اور یہ صوبے میں فوج کی سب سے بڑی اور اہم چھاؤنی ہے جہاں پر فوجیوں کے کئی تربیتی مراکز بھی قائم ہیں۔

فائل فوٹو
گزشتہ دنوں کوئٹہ چھاؤنی میں فوجی چوکیوں کے قریب دو الگ الگ خودکش حملے ہوئے تھے

دھماکے کے مقام پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق زخمیوں میں سکول کے تین بچے بھی شامل ہیں جو اے ایس سی کالونی کے سکول میں زیرِ تعلیم ہیں اور دھماکے کے وقت وہ ایک سوزوکی وین میں سوار ہو کر سکول جا رہے تھے۔

نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مبارک زیب کے مطابق دھماکے کی جگہ سے کچھ دور ہی آرمی کا ایک تربیتی مرکز بھی واقع ہے اور عام طور پر اسی وقت زیر تربیت فوجی جوان بھی اس گیٹ سے گزر کر تربیتی مرکز میں جاتے ہیں۔

ان کے مطابق دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی ایک فوجی ٹرک وہاں سے گزر کر آرمی ٹریننگ سینٹر کے اندر گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حملہ آور نے ٹارگٹ مِس کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے والی جگہ سے حملہ آور کے جسم کے کچھ ٹکرے بھی ملے ہیں۔

نامہ نگار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ سائیکل پر سوار خود کش بمبار جب دھماکے کے مقام پر پہنچا تو وہاں پر موجود گارڈز نے اسے روکا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کی وہاں موجود گارڈز سے کچھ دیر تکرار ہوئی جس کے بعد سائیکل سوار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے بعد ملٹری پولیس نے اے ایس سی کالونی جانے والی سڑک کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا۔

واضح رہے کہ نوشہرہ میں پہلی مرتبہ فوجی چھاؤنی کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس سے قبل چار دسمبر کو پشاور چھاؤنی میں ایک مشتبہ خاتون خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا تاہم اس حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

پاکستان میں گزشتہ تین دن کے دوران تین مبینہ خودکش حملہ آوروں نے دو مرتبہ فوجی چھاؤنیوں کو حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی چھاؤنی میں فوجی چوکیوں کے قریب دو الگ الگ
خودکش حملوں میں کم سے کم تین فوجیوں سمیت آٹھ سے زائد افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔

قبضہ یا تحفظ
بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں کہاں اور کیوں؟
بلوچبلوچ کہانی،12
سوئی کی چار سو ایکڑ زمین کا مالک کو ن ہے؟
بم دھماکےتصویروں میں
راولپنڈی کینٹ میں خود کش بم دھماکے
پشاور شہر کے حالات
دھماکے، سخت سکیورٹی، عوام کے لیے مشکلات
اسی بارے میں
لاہور چھاؤنی میں دھماکہ
04 August, 2006 | پاکستان
بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ
12 March, 2006 | پاکستان
کوہاٹ چھاؤنی میں دھماکہ
28 July, 2004 | پاکستان
خاتون خودکش حملہ آور ہلاک
04 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد