BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 December, 2007, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: خود کش حملوں میں 8 ہلاک

کوئٹہ میں فوج
دونوں بم حملے وقفے وقفے سے فوج کی چوکیوں پر کیے گئے ہیں
کوئٹہ چھاونی میں فوجی چوکیوں کے قریب دو علیحدہ علیحدہ خود کش حملوں میں کم سے کم تین فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دھماکوں کی آوازیں اس قدر زور دار تھیں کہ دور دور تک سنی گئی ہیں۔ یہ حملے دو علیحدہ علیحدہ چوکیوں پر چند منٹوں کے وقفے سے کیے گئے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر سیل کر دیا گیا ہے اور ہر قسم کی گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیاہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ایسا لگتا ہے کہ یہ خود کش حملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک حملہ آور نے اپنے آپ کو ایک چوکی پر اڑا دیا ہے اور پھر کچھ وقفے سے دوسرے حملہ آور نے سو گز کے فاصلے پر واقع ایک دوسری چوکی پر اپنے آپ کو اڑایا دیا۔

انہوں نے کہا کہ دو خود کش حملہ آوروں کے علاوہ آٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں فوجی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے تاہم انہوں نے زخمی اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد نہیں بتائی۔

تاہم فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق دونوں دھماکوں میں تین فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان دونوں دھماکوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

کوئٹہ چھاونی میں عام طور پر شہریوں کو مشکل سے جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور گاڑیوں کے مالکان کو کنٹونمنٹ بورڈ سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔ کچھ موڑ کے راستے پر ہنہ کے علاقے کی طرف جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں چلتی ہیں۔

اس سال فروری کے مہینے میں کوئٹہ کی کچہری میں سینیئر سول جج کی عدالت میں مبینہ خود کش حملے میں سینیئر سول جج اور سات وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ دو ہزار تین میں امام بارگاہ اثنا عشریہ اور دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملے کیے گئے تھے جن میں لگ بھگ ایک سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فوجیوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات یہاں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد