کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ دشت کے علاقے میں ریل کی پٹڑی کے قریب دھماکے سے ریلوے کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں گزشتہ روز پولیس اہلکاروں پر حملوں کے بعد سنیچر کو شہر بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور اہم مقامات پر پولیس موبائل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس وقت کوئٹہ میں تین ہزار پولیس اہلکار اور ایک ہزار سے زائد فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے علاوہ بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات ہیں۔ یاد رہے کہ جمعہ کی شام نامعلوم افراد نے جناح روڈ اور جان محمد روڈ پر فائرنگ کرکے تین سپاہیوں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا تھا۔ ادھر سنیچر کی صبح کوئٹہ سے قریباً ستر کلومیٹر دور دشت کے علاقے میں ریلوے اہلکار پٹڑی کی مرمت کے لیے گئے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ریلوے کے چیف کنٹرولر محمد شعیب نے بتایا ہے کہ اس دھماکے میں ریلوے کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔ یہ دھماکے اسی مقام پر ہوا ہے جہاں کل رات گئے ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔ اس وقت گاڑیوں کی آمدو رفت معطل ہے۔ کل رات نامعلوم افراد نے کوئٹہ چھاؤنی کے علاقے میں بھی ایک راکٹ داغا جس سے زوردار دھماکہ ہوا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ | اسی بارے میں کوئٹہ فائرنگ، تین اہلکار ہلاک23 November, 2007 | پاکستان بالاچ ہلاکت:’باہمی عناد کا شاخسانہ‘23 November, 2007 | پاکستان بلوچستان: شدید رد عمل، پانچ ہلاک 22 November, 2007 | پاکستان سندھ، بلوچستان میں احتجاج22 November, 2007 | پاکستان میر بالاچ مری ہلاک، ہنگامے21 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||