BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 December, 2007, 23:14 GMT 04:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظاہرے روکنے میں ناکامی پر نوٹس

لاہور ہائی کورٹ
سہ رکنی بنچ نے رہائشگاہوں کے باہر مظاہروں کو بلاجواز،غیر قانونی قرار دیا
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چودھری کی سربراہی میں سہ رکنی فل بنچ نے معزول جج جسٹس ایم اے شاہد صدیقی سے سرکاری رہائشگاہ خالی کرانے پر ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی پر چیف سیکرٹری پنجاب، کیپٹل سٹی پولیس چیف اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

ادھر جمعرات کو رات گئے پولیس نے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سرکاری رہائشگاہ پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے دس افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس نے دو خواتین وکلاء سمیت دس افراد کے خلاف ریس کورس تھانے میں اندیشۂ نقص امن اور پولیس کے کام میں بے جا مداخلت سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

وکلاء، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ان گرفتاریوں کے خلاف پولیس سٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس سے قبل سابق ججوں کی بیگمات، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے جمعرات کی دوپہر جسٹس صدیقی کی رہائشگاہ کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔

 جسٹس ایم اے شاہد صدیقی دل میں تکلیف کے باعث مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ وکلاء ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے نوٹس کے اجراء کے بعد سے جسٹس صدیقی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے گھر باہر جمع ہوتے رہے ہیں۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے سہ رکنی بنچ نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اس بات کا سخت نوٹس لیا ہے کہ پولیس جی او آر کے علاقے ’ٹولٹن روڈ‘ میں امن وامان قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور چیف جسٹس کےسیکرٹری نے ہدایات کی روشنی میں چیف سیکرٹری پنجاب، کیپیٹل سٹی پولیس چیف اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے ملاقات کی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جی او آر میں ٹولٹن روڈ پر واقع ججوں کی اقامت گاہوں کے اردگرد کوئی غیر قانونی سرگرمی نہ ہو لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

درخواست میں کہا گیا کہ پانچ نومبر کی رات بعض شریر عناصر ٹولٹن روڈ پر جمع ہوئے اور آدھی رات کے وقت نعرے لگائے جس سے علاقے کا سکون برباد ہوگیا۔ ان افراد نے ججوں کی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں کو روکا اور الیکٹرنک میڈیا علاقے میں ان کارروائیوں کی کوریج کرتا رہا حالانکہ میڈیا کو اس علاقہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

ہائی کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے اس کارروائیوں کو بلاجواز اور غیر قانونی قرار دیا اور قرار دیا کہ متعلقہ سرکاری حکام عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں جو توہین عدالت کے مترادف ہے۔ فل بنچ نےسرکاری حکام کو جمعہ کو ساڑھے گیارہ بجے طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی دل میں تکلیف کے باعث مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ وکلاء ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے نوٹس کے اجراء کے بعد سے جسٹس صدیقی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے گھر باہر جمع ہوتے رہے ہیں۔

انکاری جججنہوں نے انکار کیا
پاکستان کی تاریخ میں ’نہ‘ کہنے والے جج
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
وکلاء کا احتجاجیہاں بھی ایمرجنسی
اسلام آباد ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
اسی بارے میں
انکاری ججوں کے شام و سحر
12 November, 2007 | پاکستان
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
30 November, 2007 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک
29 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد