BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 22:04 GMT 03:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج کوگھرخالی کرنے کا حتمی نوٹس

لاہور ہائی کورٹ
کئی ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کو منگل کی صبح تک سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔

ان کے گھر کے ٹیلی فون کاٹ دیے گئے ہیں اور سرکاری اقامت گاہ پر مامور گارڈ اور عملہ بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے دو روز قبل سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کے لیے ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے جاری نوٹس پر از خود کارروائی کرتے ہوئے انہیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔تاہم سوموار کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے انہیں گھر خالی کرنے کا دوبارہ نوٹس دیا گیا ہے۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں لاہور ہائی کورٹ کی انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ان سے رہائشگاہ طاقت کے ذریعے خالی کرائی جائےگی۔

ان کے بقول انہوں نے اس معاملے پر نگران وزیراعلٰی پنجاب جسٹس (ریٹائرڈ) شیخ اعجاز نثار سے بھی بات کی تاہم نگران وزیراعلٰی نے اس معاملہ میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ’یہ آپ( جسٹس صدیقی) کا اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا معاملہ ہے۔ میرا کام انتخابات کرانا ہے‘۔

ان کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے تین ایڈیشنل رجسٹراروں کو ان سے گھر خالی کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے جن میں سے ایک نے انہیں بتایا کہ اگر انہوں نے آرام سے گھر خالی نہیں کیا تو ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کو مکمل تعاون کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

 جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کو سرکاری گھر خالی کرنے کے نوٹس کی اطلاع پر وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان رات گئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کی سرکاری رہائشگاہ کے باہر جمع ہوگئے اور صدر پرویز مشرف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف نعرے بازی کی

جسٹس صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کا اپنا کوئی گھر نہیں ہے اور فوری طور پر کرائے کے گھر کا انتظام کرنا بھی ان کےلیے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ’میں نے آئین کے تحت حلف لیا ہے اور کسی فرد واحد کی خواہشات کی پیروی نہیں کر سکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ’میں معزول جج نہیں ہوں اور اس وقت تک لاہور ہائیکورٹ کا جج ہوں جب تک عہدے کے میعاد مکمل نہیں ہو جاتی‘۔

جسٹس صدیقی نے وکلاء کی جدوجہد کو سراہا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تحریک میں شامل نہیں ہونگے کیونکہ عہدے پر فائز جج کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کو سرکاری گھر خالی کرنے کے نوٹس کی اطلاع پر وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان رات گئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کی سرکاری رہائشگاہ کے باہر جمع ہوگئے۔ مظاہرین نے صدر پرویز مشرف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف نعرے بازی کی۔اس موقع پر وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کی رہائشگاہ کے باہر چراغاں بھی کیا۔

واضح رہے کہ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے اپنے گھر میں عدالت لگاتے ہوئے از خود کارروائی کے تحت ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر جواب دائر کریں کہ انہوں نے کس کے کہنے پر ایک جج کو گھر خالی کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے عدالت عالیہ لاہور کے دو جج جسٹس ایم اے شاہد اور جسٹس اعجاز احمد چوھدری جی او آر لاہور میں واقع سرکاری گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں جنہیں دو دسمبر تک گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

انکاری جججنہوں نے انکار کیا
پاکستان کی تاریخ میں ’نہ‘ کہنے والے جج
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
وکلاء کا احتجاجیہاں بھی ایمرجنسی
اسلام آباد ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
اسی بارے میں
انکاری ججوں کے شام و سحر
12 November, 2007 | پاکستان
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
30 November, 2007 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک
29 November, 2007 | پاکستان
منیر اے ملک کو رہا کر دیا گیا
25 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد