’سوات: ریلیف کیمپ مگر مکین نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحصیل بریکوٹ میں نقل مکانی پر مجبور افراد کے لیے جس گاؤں میں ریلیف کیمپ لگایا گیا ہے اُس کا بڑی شاہراہ سے فاصلہ تو دس کلومیٹر ہے لیکن کیمپ تک بذریعہ گاڑی پہنچنے کے لیے کچے اور ناہموار راستے پر کم از کم پینتالیس منٹ لگتے ہیں۔ اسی فاصلے کو پیدل طے کرنے کے لیے دو سے تین گھنٹے درکار ہوں گے۔ نہ صرف یہ کہ اس ریلیف کیمپ تک رسائی انتہائی مشکل ہے بلکہ یہاں پر ضروریاتِ زندگی کی دیگر سہولیات بھی ناپید ہیں۔ نہ تو پینے کے پانی کا بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے دامن میں قائم اس کیمپ کے مکینوں کے لیے رات کی تاریکی میں روشنی کے انتظام کے لیے بجلی مہیا کی گئی ہے۔ بازار قریب نہ ہونے کی صورت میں یہاں کے رہائشیوں کو روزمرہ اشیاء کی خریداری کے لیے لمبی مسافت طے کرکے بریکوٹ جانے کے سوا کوئی اور متبادل راستہ میسر نہیں۔ نقل مکانی پر مجبور افراد کو عارضی قیام گاہ مہیا کرنے کے لیے جس جگہ کو کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے وہ متعلقہ حکام کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ ان ہی مشکلات کے پیشِ نظر کیمپ کو قائم ہوئے تین ہفتے سے زائد عرصہ ہونے کو ہے لیکن سینکڑوں خیموں پر مشتمل اس کیمپ میں دس سے بھی کم خیمے آباد ہو سکے ہیں جن میں سے کچھ میں گزشتہ بدھ سے شمالی ضلع شانگلہ کے سات خاندانوں نے رہنا شروع کیا ہے۔ ضلع شانگلہ کے علاقے شانگلہ پار سے اپنے خاندان کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور اُدھیڑ عمر بخت مرین بلو کلے میں لگے اس ریلیف کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے فی الحال کیمپ میں رہنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ بقول ان کے ’نہ تو یہاں کوئی روزگار کا ذریعہ میسر ہوسکے گا اور نہ ہی اس کیمپ میں پانی ، بجلی جیسی دیگر سہولیات میسر ہیں‘۔ کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار ضلع شانگلہ کے بہادر کوٹ گاؤں سے تعلق رکھنے والے فلکناز نے بھی کیا۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ غُربت کی وجہ سے اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہیں سوائے اس کے وہ اس ہی کیمپ میں رہیں۔ سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال کا ماننا ہے کہ ریلیف کیمپ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرکاری ترجمان نے کہا کہ ضلعی اور صوبائی حکومت نے صورتِ حال کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے بعد اب ضلع مردان میں سوات اور شانگلہ کے بے گھر ہونے والوں کے لیے پکے مکانوں پر مشتمل ایک کالونی میں عارضی رہائش گاہ مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کے مطابق یہ عارضی ریلیف کیمپ اگلے چند روز میں قائم ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا: ’مینگورہ ہی میں بعض سرکاری سکولوں میں بھی ہجرت پر مجبور افراد کو عارضی طور پر ٹھہرانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے جبکہ جن لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی اُن کے لیے اس کا بھی انتظام کیا جائے گا‘۔
جب اُن سے ریلیف کیمپ کے لیے نامناسب جگہ کے انتخاب کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’اس فیصلے کا تعلق ضلعی حکومت سے ہے‘۔ البتہ ضلعی حکومت کے اس غلط فیصلے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بلو کلے کا انتخاب ضلعی حکومت کے محکمۂ ریونیو نے سروے کرنے کے بعد کیا تھا۔ گو کہ صوبائی اور ضلعی حکومتوں نے غلطی محسوس کرتے ہوئے اب ہجرت پر مجبور خاندانوں کے لیےضلع مردان میں ریلیف کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت کی غلط حکمتِ عملی کے سبب ہزاروں مستحق افراد اس سہولت سے مستفید نہ ہوسکیں گے کیونکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ضلع شانگلہ اور سوات کی خراب صورتِ حال کے حامل علاقوں سے بیشتر آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی ہے۔ تاہم آنے والے چند دنوں میں ضلع سوات کی تحصیل مٹہ اور خوازہ خیلہ سے نقل مکانی متوقع ہے کیونکہ فوجی آپریشن کا دائرہ کار آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں تک پھیل جانے کا امکان ہے۔ |
اسی بارے میں سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک14 November, 2007 | پاکستان سوات اور شانگلہ میں جھڑپیں18 November, 2007 | پاکستان سوات و شانگلہ: ہلاکتوں کے دعوے20 November, 2007 | پاکستان سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک15 November, 2007 | پاکستان گولہ باری سے ہزاروں نقل مکانی پر مجبور21 November, 2007 | پاکستان سوات میں دوبارہ رات کا کرفیو23 November, 2007 | پاکستان کرفیو ختم، موبائل فون بدستور بند23 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||