BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سوات: ریلیف کیمپ مگر مکین نہیں‘

News image
 آنے والے چند دنوں میں ضلع سوات کی تحصیل مٹہ اور خوازہ خیلہ سے نقل مکانی متوقع ہے کیونکہ فوجی آپریشن کا دائرہ کار آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں تک پھیل جانے کا امکان ہے
صوبہ سرحد کے شمالی اضلاع سوات اور شانگلہ میں امن و عامہ کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور افراد کی بحالی کے لیے سوات کی تحصیل بریکوٹ میں لگائے گئے کیمپ کی ناکامی کے بعد اب مردان کے قریب رسالپور میں بے گھر افراد کے لیے عارضی قیام گاہ کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

تحصیل بریکوٹ میں نقل مکانی پر مجبور افراد کے لیے جس گاؤں میں ریلیف کیمپ لگایا گیا ہے اُس کا بڑی شاہراہ سے فاصلہ تو دس کلومیٹر ہے لیکن کیمپ تک بذریعہ گاڑی پہنچنے کے لیے کچے اور ناہموار راستے پر کم از کم پینتالیس منٹ لگتے ہیں۔ اسی فاصلے کو پیدل طے کرنے کے لیے دو سے تین گھنٹے درکار ہوں گے۔ نہ صرف یہ کہ اس ریلیف کیمپ تک رسائی انتہائی مشکل ہے بلکہ یہاں پر ضروریاتِ زندگی کی دیگر سہولیات بھی ناپید ہیں۔ نہ تو پینے کے پانی کا بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے دامن میں قائم اس کیمپ کے مکینوں کے لیے رات کی تاریکی میں روشنی کے انتظام کے لیے بجلی مہیا کی گئی ہے۔ بازار قریب نہ ہونے کی صورت میں یہاں کے رہائشیوں کو روزمرہ اشیاء کی خریداری کے لیے لمبی مسافت طے کرکے بریکوٹ جانے کے سوا کوئی اور متبادل راستہ میسر نہیں۔

نقل مکانی پر مجبور افراد کو عارضی قیام گاہ مہیا کرنے کے لیے جس جگہ کو کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے وہ متعلقہ حکام کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔

 مینگورہ میں بعض سرکاری سکولوں میں ہجرت پر مجبور افراد کو عارضی طور پر ٹھہرانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے جبکہ جن لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی اُن کے لیے اس کا بھی انتظام کیا جائے گا
سرکاری ترجمان

ان ہی مشکلات کے پیشِ نظر کیمپ کو قائم ہوئے تین ہفتے سے زائد عرصہ ہونے کو ہے لیکن سینکڑوں خیموں پر مشتمل اس کیمپ میں دس سے بھی کم خیمے آباد ہو سکے ہیں جن میں سے کچھ میں گزشتہ بدھ سے شمالی ضلع شانگلہ کے سات خاندانوں نے رہنا شروع کیا ہے۔

ضلع شانگلہ کے علاقے شانگلہ پار سے اپنے خاندان کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور اُدھیڑ عمر بخت مرین بلو کلے میں لگے اس ریلیف کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے فی الحال کیمپ میں رہنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ بقول ان کے ’نہ تو یہاں کوئی روزگار کا ذریعہ میسر ہوسکے گا اور نہ ہی اس کیمپ میں پانی ، بجلی جیسی دیگر سہولیات میسر ہیں‘۔

کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار ضلع شانگلہ کے بہادر کوٹ گاؤں سے تعلق رکھنے والے فلکناز نے بھی کیا۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ غُربت کی وجہ سے اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہیں سوائے اس کے وہ اس ہی کیمپ میں رہیں۔

سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال کا ماننا ہے کہ ریلیف کیمپ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرکاری ترجمان نے کہا کہ ضلعی اور صوبائی حکومت نے صورتِ حال کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے بعد اب ضلع مردان میں سوات اور شانگلہ کے بے گھر ہونے والوں کے لیے پکے مکانوں پر مشتمل ایک کالونی میں عارضی رہائش گاہ مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اُن کے مطابق یہ عارضی ریلیف کیمپ اگلے چند روز میں قائم ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا: ’مینگورہ ہی میں بعض سرکاری سکولوں میں بھی ہجرت پر مجبور افراد کو عارضی طور پر ٹھہرانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے جبکہ جن لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی اُن کے لیے اس کا بھی انتظام کیا جائے گا‘۔

سوات اور شانگلہ میں امن و عامہ کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں

جب اُن سے ریلیف کیمپ کے لیے نامناسب جگہ کے انتخاب کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’اس فیصلے کا تعلق ضلعی حکومت سے ہے‘۔

البتہ ضلعی حکومت کے اس غلط فیصلے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بلو کلے کا انتخاب ضلعی حکومت کے محکمۂ ریونیو نے سروے کرنے کے بعد کیا تھا۔ گو کہ صوبائی اور ضلعی حکومتوں نے غلطی محسوس کرتے ہوئے اب ہجرت پر مجبور خاندانوں کے لیےضلع مردان میں ریلیف کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت کی غلط حکمتِ عملی کے سبب ہزاروں مستحق افراد اس سہولت سے مستفید نہ ہوسکیں گے کیونکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ضلع شانگلہ اور سوات کی خراب صورتِ حال کے حامل علاقوں سے بیشتر آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی ہے۔

تاہم آنے والے چند دنوں میں ضلع سوات کی تحصیل مٹہ اور خوازہ خیلہ سے نقل مکانی متوقع ہے کیونکہ فوجی آپریشن کا دائرہ کار آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں تک پھیل جانے کا امکان ہے۔

سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
بالاکوٹ میں زلزلے کے متاثرینشانگلہ: خیمے نہیں
متاثرین آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں: عینی شاہد
 سوات وزیرستان کا راستہ
کیا سوات دوسرا وزیرستان بننے جا رہا ہے؟
عینی شاہدین
لوگ مدد کے لیے چیختے چلاتےرہے
اسی بارے میں
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
سوات اور شانگلہ میں جھڑپیں
18 November, 2007 | پاکستان
سوات میں دوبارہ رات کا کرفیو
23 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد