BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 September, 2007, 16:38 GMT 21:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان، سرحد و سندھ میں یومِ سیاہ

جلسے
مقررین نے جلسوں میں نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کی مذمت کی ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نواز شریف کی دوبارہ جلا وطنی کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر یومِ سیاہ منایا گیا اور ریلیاں و جلسے کیے گئے۔ اس موقعہ پر کراچی میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی اور متعدد سیاسی رہنماؤں اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ کی رپورٹ کے مطابق آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ کی اپیل پر منگل کو بلوچستان میں یوم سیاہ منایا گیا جب کہ سیاسی جماعتوں نے میزان چوک پر احتجاجی مظاہر ے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی دوسری مرتبہ جلاوطنی کی مذمت کی ہے۔


منگل کو بلوچستان میں مختلف عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے جب کہ سیاسی کارکنوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ، اے پی ڈی ایم کے قائدین نے ریلی نکالی جو مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی میزان چوکی پہنچی جہاں تحریک میں شامل سیاسی جماعتوں کے صوبائی قائدین نے خطاب کیا ہے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر جلا وطن کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور موجودہ فوجی حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے تحریک شروع ہو چکی ہے۔

جلسے
احتجاجی ریلیاں جلسے میں تبدیل ہو گئیں

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اتنا کچھ ہو گیا لیکن مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے کچھ نہیں کیا اب بھی اگر سیاستدان بغلیں جھانکتے رہے اور سول نافرمانی تحریک شروع نہ کی گئی تو فوجی حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نواز)، تحریک انصاف، جمہوری وطن پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا ہے۔

ریلی اور جلسے میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے قائدین نے شرکت نہیں کی ہے۔ یاد رہے گزشتہ روز اہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں بھی جمعیت علماءاسلام کے نمائندے شریک نہیں ہوئے تھے۔

بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام مخلوط حکومت کا حصہ ہے اور اس پر پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتراض رہا ہے کہ ایک طرف جے یو آئی حکومت میں شامل ہے اور دوسری جانب حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں بھی آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیراہمتام سابق وزیراعظم نوازشریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔

یومِ سیاہ
کارکنوں نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں

اس سلسلے میں منگل کو کابلی چوک میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ تاہم جلسے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد توقع سے کم رہی۔

جلسے میں شامل شرکاء نے پلے کارڈز اور بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’گومشرف گو‘ کے نعرے بھی لگائے۔

شرکاء سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ نواز شریف کی زبردستی جلاوطنی ان کی خواہش کے برعکس اور سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کے علاوہ سولہ کروڑ عوام کی خواہشات کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی حکومت پر پاکستان کی اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کہا کہ سعودی حکومت نے ایک آمر کا ساتھ دے کر پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جلسے کے اختتام پر شرکاء نے قصہ خوانی بازار سے چوک یادگار تک مارچ بھی کیا۔

اس سے قبل پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ نے سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا حکمرانوں کی حمایت چھوڑ دے کیونکہ اس سے سعودی عرب اور پاکستانی عوام کے مابین قائم مقدس رشتے میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

کراچی سے ارمان صابر کی رپورٹ کےمطابق منگل کو پولیس نے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے دو درجن سے زائد ارکان اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا جو ایمپریس مارکیٹ کے سامنے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف کی ملک بدری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے آئے تھے۔

کراچی پولیس
کراچی کے مرکز ایمپریس مارکیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی

ایمپریس مارکیٹ جہاں مظاہرہ ہونا تھا پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور ٹریفک کو متبادل سڑکوں پر موڑ دیا گیا۔ سندھ حکومت نے پیر ہی سے دفعہ 144 نافذ تھی اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے کراچی میں داخلے پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی تھی۔

پولیس نے اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جمع ہی نہیں ہونے دیا۔ سب سے پہلے پہنچنے والوں میں جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر ڈاکٹر معراج الہدٰی اور ممبر صوبائی اسمبلی نصراللہ شجیح تھے جن کو پولیس نے اپنی موبائل وینوں میں دھکیلا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

کچھ دیر کے بعد اے پی ڈی ایم میں شامل پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی کے رہنماء بشارت مرزا جیسے ہی اپنی گاڑی سے اترے تو انہیں پولیس نے آ لیا اور ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

یہ سلسلہ تقریباً دو گھنٹے سے زائد جاری رہا اور وقفے وقفے سے رہنماء اور ارکان مظاہرے کی جگہ پہنچتے رہے اور پولیس ان کو گرفتار کرتی رہی۔ گرفتار ہونے والوں میں ممبر قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، ممبر قومی اسمبلی لئیق خان، یوسف منیر، اور محمد طاہر خان شامل ہیں۔

آخر میں گرفتار ہونے والے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد تھے جن کو پولیس نے ان کی گاڑی سے بھی نہیں اترنے دیا اور انہیں ان کی گاڑی

نصراللہ شجیح
کراچی میں یوم سیاہ پر جماعتِ اسلامی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نصراللہ شجیح کی گرفتاری
سمیت لے گئے۔ تاہم انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ گرفتاریاں اور ریاستی ہتھکنڈے بحالیِ جمہوریت کی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور اس کے آخری دن چل رہے ہیں۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ پولیس نے ایم ایم اے کے سینکڑوں افراد کو کراچی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کرلیا ہے۔

خدشات اور سکون
’ان کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا‘
سابق وزیراعظم میاں نواز شریفنواز فلائٹ
ہیتھرو سے اسلام آباد تک کا سفر
جھنڈے، بینرز غائب
آمد سےقبل، جی ٹی روڈ پر پراسرار خاموشی
پاکستانی پریس جلاوطنی کا معاہدہ
کیا بلی تھیلے سے باہر آ گئی؟ پاکستانی اخبارات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد