بارشوں کا زور ختم، کاروبار زندگی بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں روزمرہ کی زندگی تین دن کی شدید بارشوں کے بعد اب معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران ہلکی بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ گزشتہ تین دنوں میں محکمۂ موسمیات نے کراچی میں ایک سو اکانوے ملی میٹر بارش ریکارڈ کی ہے اور اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں بارش سے متعلقہ حادثات میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتیں کرنٹ لگنے، چھتیں گرنے اور ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ صوبائی وزیر صحت سید سردار احمد نے بتایا کہ مرنے والوں میں پندرہ مرد، آٹھ خواتین اور تین بچے ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹوں میں کراچی میں مطلع ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش کا امکان ہے کیونکہ شدید بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ اب بہتر ہو رہا ہے۔ شہری حکومت کا عملہ شہر کی مختلف سڑکوں اور شاہراہوں پر پانی کی نکاسی میں مصروفِ عمل دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن شدید بارش اور پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
طبقۂ امراء کا رہائشی علاقہ ڈیفنس بارشوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں گھروں کے اندر بارش کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ ڈیفنس کے ایک رہائشی بلال احمد نے بتایا کہ ان کے گھر میں بارش کا پانی داخل ہونے کی وجہ سے گھر کا سامان خراب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ اور شہری حکوت کو بارہا شکایت درج کرائی ہے، لیکن گزشتہ تین دنوں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں جب شہری حکومت کے ناظم اعلیٰ مصطفٰے کمال سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ شہری حکومت کا عملہ دن رات متاثرہ سڑکوں سے پانی کی نکاسی کا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے برساتی نالوں میں پانی کی سطح بہت بلند رہی اور نتیجتاً سڑکوں اورگلیوں میں پانی جمع ہوگیا، تاہم بارش کا زور ٹوٹنے سے برساتی نالوں میں پانی کی سطح میں کم ہوئی ہے اور نکاسی آب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ کراچی کے شہری جہاں ایک جانب شدید بارش اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے پریشان تھے وہیں کئی علاقوں میں بجلی کی عدم فراہمی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا۔ شہر کے کئی علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں بجلی کی ترسیل تعطل کا شکار رہی۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے نیورولوجی وارڈ میں داخل ایک مریض کے بھائی سلمان نے بتایا کہ بجلی سارا دن سے غائب رہی، جس کی وجہ سے مریضوں کا برا حال ہے۔ شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان حسن کا کہنا ہے کہ اس وقت کراچی میں ایک سے دو فیصد علاقے’لوکل فالٹ‘ کی وجہ سے بجلی سے محروم ہیں اور ان خرابیوں کو درست کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے اندرون سندھ اور ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والی ٹرینیں چار سے چھ گھنٹے تاخیر سے کراچی پہنچ رہی ہیں اور اسی طرح چار سے چھ گھنٹے تاخیر کے ساتھ کراچی سے روانہ ہو رہی ہیں۔ ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ میر محمد خاصخیلی نے بتایا کہ ریلوے نے مسافروں کو آگاہ کرنے کے لیے تبدیل شدہ اوقات سٹیشن پر آویزاں کردیے ہیں اور ریلوے کے انکوائری نمبر سے بھی یہ معلومات عوام کوفراہم کی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں نظامِ زندگی متاثر، ہلاکتوں میں اضافہ11 August, 2007 | پاکستان سندھ: بارشوں سے زندگی متاثر 09 August, 2007 | پاکستان بارشیں: ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ25 July, 2007 | پاکستان سیلاب: امدادی کارروائیاں تیز کریں06 July, 2007 | پاکستان 200 سےزائدہلاک، سینکڑوں لاپتہ03 July, 2007 | پاکستان گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||