ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | بارشوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر بل بورڈز کی زد میں آئے |
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کو ہرجانہ کی ادائیگی کے لیے دائر ہونیوالی ایک درخواست پر متعلقہ حکام کو سات اگست کو طلب کر لیا ہے۔ ہیومن سیفٹی فاؤنڈیشن نامی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں میں ہلاک ہونے والے دو سو اٹھائیس افراد میں سے اکثر بل بورڈز کی زد میں آئے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ راستوں پر دیوقامت بل بورڈز آویزاں ہیں، جو حادثات کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بل بورڈز کے لیے سائز مقرر کیے جائیں، جو دس سے بیس میٹر سے زیادہ نہ ہو۔ درخواست میں سندھ حکومت، کراچی سٹی گورنمنٹ، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کنٹونمنٹ بورڈ اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو فریق بنایا گیا ہے۔  | بِل بورڈز کا سائز  عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بل بورڈز کے لیے سائز مقرر کیے جائیں، جو دس سے بیس میٹر سے زیادہ نہ ہو  |
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس ندیم اظہر فاروقی پر مشتمل بینچ نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکتوں کے بعد دو ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے تھے اور شہر میں کئی مقامات سے یہ بل بورڈ یا تو ہٹا دیئے گئے ہیں یا ان کا سائز کم کیاگیا ہے۔ سٹی ناظم مصطفٰی کمال کا کہنا ہے کہ شہر کا صرف کچھ حصہ ان کے پاس ہے جبکہ دوسرے کئی ادارے بھی شہری سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ پٹیشن میں صرف کنٹونمنٹ بورڈ اور سٹی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کا نام فریقین کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ |