نظامِ زندگی متاثر، ہلاکتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سمیت زیریں صوبہ سندھ میں گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں سے وقفہ وقفہ سے جاری بارش کے دوران مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھائیس ہوگئی ہے۔ یہ ہلاکتیں کرنٹ لگنے، چھتیں گرنے، ڈوبنے اور آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔کراچی میں مرنے والوں کی تعداد چوبیس سے بڑھ کر چھبیس ہوگئی ہے جبکہ دو افراد بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت سید سردار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں مرنے والوں میں پندرہ مرد، آٹھ خواتین اور تین بچے ہیں جبکہ بدین میں آسمانی بجلی کا نشانہ بننے والے دونوں مرد ہیں۔ تازہ ہلاکتوں میں کورنگی کے علاقے میں چھت گرنے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ چار افراد ڈیفنس، قصبہ کالونی اور دیگر علاقوں میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے۔ کراچی میں شدید بارش میں ہفتہ کے روز کمی آئی ہے لیکن سڑکوں پر بے تحاشہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے اب تک زندگی معمول پر نہیں آسکی ہے۔ بارش کے بعد شہر کے نشیبی اور مضافاتی علاقوں سمیت شاہراہ فیصل، ایم اے جناح روڈ اور کورنگی کی سڑکیں تاحال زیر آب ہیں جس وجہ سے شہر میں مختلف مقامات پر شدید ٹریفک جام ہے اور دفاتر میں تیسرے روز بھی حاضری معمول سے کم ہے۔ بارش کے دوران درخت اور بجلی کے تارگرنے کی وجہ سے سے معطل ہونے والی بجلی کی فراہمی کئی علاقوں میں تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن کے ترجمان سید سلطان حسن کا کہنا ہے کہ شہر کے صرف دس فیصد علاقے میں بجلی نہیں ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رات بھر بارش جاری رہنے کی وجہ سے مرمت کا کام نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ کلفٹن کے پلازوں اور اونچی عمارتوں میں پی ایم ٹی زیر زمین ہیں جن میں بارش کا پانی داخل ہوگیا ہے اس لیے وہاں بجلی کی فراہمی بند کی ہوئی ہے، جیسے ہی پانی کی نکاسی ہو جائےگی بجلی بحال کر دی جائےگی۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلستان جوہر کے کچھ علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے، جہاں واٹر بورڈ نے لائن ڈالنے کے لیے گڑھا کھودا ہوا تھا اور وہاں کے ای ایس سی کی زیر زمین کیبل بھی گزر رہی تھی، جس وجہ سے حفاظتی انتظامات کے تحت وہاں بجلی کی فراہمی بند کی گئی ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کا ایمرجنسی وارڈ دوسرے روز بھی زیر آب ہے۔ ہسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ پورے ہسپتال کے باہر پانی موجود ہے اور باہر کا پانی اندر کی طرف آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ اپنے طور پر پانی باہر نکالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر کنٹونمنٹ بورڈ کو باہر سے پانی نکالنا ہوگا۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جب تک پانی نکل نہیں جاتا ایمرجنسی وارڈ او پی ڈی میں ہی قائم رہیگا
شہر میں ہونے والی حالیہ بارش سے شہر کے سات بڑے برساتی نالے اُبل گئے اور پانی قریب کی آبادیوں میں داخل ہوگیا تھا جس سے لیاقت آباد، گلبہار، پاک کالونی، لیاری، ملیر کے علاقے متاثر ہوئے اور متعدد کچے مکانات بہہ گئے۔ مقامی انتظامیہ نے ان آبادیوں سے ایک سو اسی افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جو ہنگامی بنیادوں پر سرکاری عمارات میں قائم کیے گئے ہیں۔ شہری حکومت کے ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ لیاری ندی، ملیر ندی، گجر نالہ، اورنگی نالہ، چکور نالہ اور محمود آباد نالہ سمیت کل سات نالوں کے ذریعے شہر کا گندا پانی سمندر میں پھینکا جاتا ہے مگر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی بارش سے ان تمام نالوں کی سطح اس حد تک بڑھ گئی کہ پانی سمندر میں گرنے کی بجائے واپس آ گیا جس کی بناء پر زیادہ متاثر وہ مکانات ہوئے جو ان برساتی نالوں کے کناروں پر تجاوز کر کے بنائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں کراچی: بارش سے تباہی، تیرہ ہلاک10 August, 2007 | پاکستان سندھ: بارشوں سے زندگی متاثر 09 August, 2007 | پاکستان سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ08 August, 2007 | پاکستان ساحلی علاقوں میں طوفان کا خدشہ07 August, 2007 | پاکستان بارشیں: ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ25 July, 2007 | پاکستان کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان طوفان کےبعد زندگی معمول کی طرف25 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||