کراچی: بارش سے تباہی، تیرہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سمیت سندھ کے زیریں علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری ہے اور صوبائی دارالحکومت میں چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور پانی میں ڈوبنے سےتیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکومت سندھ کے محکمۂ صحت کے وزیر سید سردار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تازہ ترین واقعے میں دو افراد پیرآباد کے علاقے میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد تیرہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی وجہ سے ہلاکتیں صرف کراچی میں ہوئی ہیں اور اندرون سندھ سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ سماجی تنظیم ایدھی کے ترجمان انور کاظمی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے سات کرنٹ لگنے، ایک برساتی نالے میں ڈوب کر اور پانچ چھتیں گرنے سے ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک بچہ اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق کراچی کے علاقے مسرور بیس اور اس کے اطراف گزشتہ 20 گھنٹوں میں 142 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اندرون سندھ کے علاقے بدین میں 57.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ بارش سے شہر کے سات بڑے برساتی نالے اُبل گئے اور پانی قریب کی آبادیوں میں داخل ہوگیا جس سے لیاقت آباد، گلبہار، پاک کالونی، لیاری، ملیر کے علاقے متاثر ہوئے اور متعدد کچے مکانات بہہ گئے۔ مقامی انتظامیہ نے ان آبادیوں سے ایک سو اسی افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جو ہنگامی بنیادوں پر سرکاری عمارات میں قائم کیے گئے ہیں۔ شہری حکومت کے ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ لیاری ندی، ملیر ندی، گجر نالہ، اورنگی نالہ، چکور نالہ اور محمود آباد نالہ سمیت کل سات نالوں کے ذریعے شہر کا گندا پانی سمندر میں پھینکا جاتا ہے مگر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی بارش سے ان تمام نالوں کی سطح اس حد تک بڑھ گئی کہ پانی سمندر میں گرنے کے بجائے واپس آ گیا جس کی بناء پر زیادہ متاثر وہ مکانات ہوئے جو ان برساتی نالوں میں تجاوز کر کے بنائے گئے تھے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ریکارڈ بارش کے باوجود شہری زندگی مفلوج نہیں ہوئی اور شہر کی کوئی بڑی شاہراہ ایسی نہیں جو ٹریفک کے لئے بند ہو۔ تاہم شہری حکومت کے دعوؤں کے برعکس کراچی کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں گھٹنوں گھٹنوں پانی موجود ہے اور جا بجا گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بارش کا پانی جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوگیا جس سے مریضوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے ایمرجنسی وارڈ کو عارضی طور پر دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا۔ ہسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اسپتال کی نکاسی آب کا نظام نیچے ہے جس کی وجہ سے بارشوں کے دوراں پورا اسپتال زیرِ آب آ جاتا ہے۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں جمعرات کو بارش کے بعد معطل ہونے والی بجلی جمعہ کو بھی بحال نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ ڈیفنس، کلفٹن، کوئنز روڈ، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، نیو کراچی، نارتھ کراچی، بفرزون، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گلبہار، ملیر اور اولڈ سٹی ایریا کے بعض علاقےگزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی سے محروم ہیں۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجماں کے مطابق اس وقت شہر کا پچیس فیصد حصہ بجلی سے محروم ہے اور ان تمام علاقوں میں بارش کے دوراں نقائص پیدا ہوئے جن کی مرمت کا کام جاری ہے۔ جمعہ کو کراچی کے 120 سے زائد فیڈر ٹرپ ہوئے جس سے تقریباً تیس فیصد شہر بجلی سے محروم ہوگیا۔ کے ای ایس سی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مسلسل ہونے والی کے باعث مرمت کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں اور جونہی بارش رکتی ہے مرمت کا کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں سندھ کے زیریں علاقوں کراچی، میر پور خاص، ٹھٹہ، مٹھی، عمر کوٹ اور نوابشاہ سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہونے والی بارشیں بھارتی گجرات میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ: بارشوں سے زندگی متاثر 09 August, 2007 | پاکستان سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ08 August, 2007 | پاکستان ساحلی علاقوں میں طوفان کا خدشہ07 August, 2007 | پاکستان بارشیں: ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ25 July, 2007 | پاکستان کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان طوفان کےبعد زندگی معمول کی طرف25 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||