BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا عبدالعزیز کی ضمانت منظور

مولانا عبدالعزیز
مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد آپریشن کے دوران برقعہ اوڑھ کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے بدھ کے روز لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی تھانہ بارہ کہو میں درج سی ڈیز جلانے کے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالت نے وکیل صفائی سے کہا کہ وہ پچاس ہزار روپے مالیت کے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔

اسی عدالت نے جامعہ حفصہ کی پرنسپل اور مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان، ان کی بیٹی طیبہ دعا اور معلم محمد افضل کو آبپارہ مارکیٹ میں ذبردستی دوکانیں بند کروانے کے مقدمے میں چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف پچیس سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں ذیادہ ترمقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے عدالت کے باہر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نفاذ شریعت کے موقف پر قائم ہیں اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے طالبعلموں کو فوری رہا کر دیا جائے کیونکہ ان کے گیارہ اگست کو امتحانات شروع ہونے ہیں۔

ادھر اسی عدالت نے لال مسجد ہنگامہ کیس میں گرفتار ہونے والے سینتالیس افراد میں سے بتیس افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ پندرہ افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت میں بتیس افراد کی فہرست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوران تفتیش مذکورہ افراد کے خلاف پولیس کو کوئی ثبوت نہیں ملا لہذا ان کو رہا کر دیا جائے۔

ادھر لال مسجد از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ جاوید اقبال چیمہ نےسپریم کورٹ میں لال مسجد کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔

جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس میاں شاکراللہ جان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے رپورٹ پیش کرتے ہوئے جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے دوران 662 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے چھ سو چار افراد کو رہا کر دیا گیا اور ستاون افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ ایک زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہے جو پولیس کو مطلوب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران 470 خواتین جامعہ حفصہ سے باہر آئیں انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کے رجسٹر کے مطابق وہاں پر 1770 طالبات زیر تعلیم تھیں جبکہ 158 اساتذہ وہاں پر طالبات کو تعلیم دیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 1526 طالبات وہاں پر رہائش پذیر تھیں۔

نیشنل کرائسزمینجمنٹ سیل کے انچارج نے کہا کہ اس آپریشن میں 77 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے 22 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے نو افراد کی لاشوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ دو افراد کو ان کے ورثاء کی ہدایت پر ایچ الیون قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 40 افراد کی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے ہیں لیکن ان کے نتائج ابھی تک نہیں آئے۔
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت آٹھ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
جوادبھاگے تو گولی
سنیچر کو مسجد سے بھاگنے والے بچے کا بیان
احتجاج فائل فوٹو برقعے نے ڈبو دیا
برقعہ میں فرار نے حامیوں کو مایوس کر دیا
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد