مولانا عبدالعزیز کی ضمانت منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے بدھ کے روز لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی تھانہ بارہ کہو میں درج سی ڈیز جلانے کے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے وکیل صفائی سے کہا کہ وہ پچاس ہزار روپے مالیت کے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔ اسی عدالت نے جامعہ حفصہ کی پرنسپل اور مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان، ان کی بیٹی طیبہ دعا اور معلم محمد افضل کو آبپارہ مارکیٹ میں ذبردستی دوکانیں بند کروانے کے مقدمے میں چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف پچیس سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں ذیادہ ترمقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے عدالت کے باہر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نفاذ شریعت کے موقف پر قائم ہیں اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے طالبعلموں کو فوری رہا کر دیا جائے کیونکہ ان کے گیارہ اگست کو امتحانات شروع ہونے ہیں۔ ادھر اسی عدالت نے لال مسجد ہنگامہ کیس میں گرفتار ہونے والے سینتالیس افراد میں سے بتیس افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ پندرہ افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت میں بتیس افراد کی فہرست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوران تفتیش مذکورہ افراد کے خلاف پولیس کو کوئی ثبوت نہیں ملا لہذا ان کو رہا کر دیا جائے۔ ادھر لال مسجد از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ جاوید اقبال چیمہ نےسپریم کورٹ میں لال مسجد کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس میاں شاکراللہ جان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے رپورٹ پیش کرتے ہوئے جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے دوران 662 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے چھ سو چار افراد کو رہا کر دیا گیا اور ستاون افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ ایک زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہے جو پولیس کو مطلوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران 470 خواتین جامعہ حفصہ سے باہر آئیں انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کے رجسٹر کے مطابق وہاں پر 1770 طالبات زیر تعلیم تھیں جبکہ 158 اساتذہ وہاں پر طالبات کو تعلیم دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 1526 طالبات وہاں پر رہائش پذیر تھیں۔ نیشنل کرائسزمینجمنٹ سیل کے انچارج نے کہا کہ اس آپریشن میں 77 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے 22 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے نو افراد کی لاشوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ دو افراد کو ان کے ورثاء کی ہدایت پر ایچ الیون قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 40 افراد کی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے ہیں لیکن ان کے نتائج ابھی تک نہیں آئے۔ |
اسی بارے میں اٹھارہ رہا، سینتالیس کا ریمانڈ30 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کھلنے پر ہنگامہ آرائی27 July, 2007 | پاکستان ’لال مسجد مشن جاری رکھیں گے‘31 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی 27 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: از خود نوٹس پر خدشات23 July, 2007 | پاکستان لال مسجد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم23 July, 2007 | پاکستان لال مسجد میں غیر ملکی تھے: چیمہ17 July, 2007 | پاکستان عبدالرشید غازی کو دفن کر دیا گیا11 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||