BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 20:13 GMT 01:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد میں غیر ملکی تھے: چیمہ

لال مسجد
حکومت کے مطابق لال مسجد آپریشن میں کل ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے
حکومت کا کہنا ہے کہ لال مسجد فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والوں میں سے بہت سارے افراد اب بھی ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کسی نے دعویٰ نہیں کیا۔ لہذٰا اُن کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثرمشتبہ غیر ملکی عسکریت پسند تھے جو کہ فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد کے اندر ہلاک ہو ئے۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے منگل کو ہفتہ وار پریس کانفرنس کے بعد بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت کے پاس لال مسجد میں ہلاک ہونے والوں میں سے اب بھی بہت سارے ایسے افراد کی تصویریں ہیں جن کو نہ تو کسی نے پہچانا ہے اور نہ ہی اُن کے بارے میں کسی نے دعویٰ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے میڈیا کو فوجی آپریشن کے چند دن بعد مسجد میں ہلاک ہونے والوں میں سے دس ایسے افراد کی تصویریں مہیا کی گئی تھیں جن کے بارے میں حکومت کا کہنا تھا کہ یہ افراد مشتبہ غیر ملکی دہشت گرد تھے۔

البتہ بی بی سی کو ان میں سے کم از کم ایک فرد کے پاکستانی شہری ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پنجاب کے ضلع اٹک کے رہائشی شاہد عثمان شاہ کو اس کے والدین نے اخبار میں چھپی ہوئی تصویر سے پہچان لیا ہے۔

میڈیا کو جاری کی گئی تصویروں میں شاہد عثمان کو حکومت کی جانب سے نامعلوم ازبک جنگجو کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس بارے میں جب بی بی سی نے محکمہ داخلہ کے ترجمان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس میڈیا کو مہیا کی جانے والی دس افراد کی تصویریں کے علاوہ بھی ایسے افراد کی تصویریں ہیں جن کے بارے میں حکومت سمجھتی ہے کہ وہ مشتبہ غیرملکی عسکریت پسند ہیں۔

جن دس افراد کو حکومت نے غیر ملکی عسکریت پسند قرار دیا تھا اُن کے بارے میں جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ایک تو اُن کے بارے میں کسی نے حکومت سے رابطہ نہیں کیا تھا اور دوسرا اُن کے خد و خال غیرملکیوں جیسے تھے لہٰذا اِن بنیادوں پر اُن کو غیر ملکی عسکریت پسند بیان کیا گیا تھا۔

لال مسجد طلبہ
لال مسجد میں سے نکلنے والے طلبہ اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں

جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ اُن دس میں سے اگر کسی ایک کے پاکستانی ہونے کی شناخت ہوئی ہے یا کسی اور کو بھی اگر کوئی پہچانتا ہے تو حکومت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کرنے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دے گی۔

البتہ اُن کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لال مسجد کے اندر غیر ملکی عسکریت پسند نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہاں غیر ملکی تھے۔ عبدالرشید غازی کے ساتھ آخری بات چیت کے ناکام ہونے کی وجہ ہی یہ تھی کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے محفوظ راستے کا مطا لبہ کر رہے تھے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ دعویٰ نہیں کر رہی کہ مرنے والوں میں دس، بارہ یا پندرہ غیر ملکی شامل تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ غیر شناخت شدہ تمام افراد کی تصویریں منظرِعام پر لائی جائیں گی اور میڈیا کو بھی جاری کی جائیں گی اور اس کے بعد بھی اگر کسی نے ان میں سے کسی کو پاکستانی کے طور پر شناخت کیا تو اس کی لاش کو ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا‘۔

اس سے پہلے پریس کانفرنس کے دوران جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت لال مسجد آپریشن کے بارے میں معلومات نہ تو میڈیا سے چھپا رہی ہے اور نہ ہی عوام سے کچھ چھپایا جا رہا ہے۔

لال مسجد فوجی آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل چھ سو باسٹھ طلباء میں سےچار سو بہتر کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ چھبیس طلباء کو سپورٹس کمپلیکس میں لگائے گئے کیمپ کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے تاکہ اُنہیں اُن کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔ ’جبکہ ایک سو انتالیس افراد اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔ جن میں سے پانچ کو انسدادِِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے پولیس ریمانڈ میں دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں زیرِ علاج بائیس افراد بھی جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور دو طلباء پولیس کے زیرِ حراست ہیں۔‘

لال مسجد آپریشن کے دوران بازیاب کی گئیں چار سو اڑسٹھ طالبات کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چار سو پینسٹھ طالبات کو اُن کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس کی حراست میں موجود باقی تین خواتین میں مولانا عبدالعزیز کی بیوی اُمِ حسان اور اُن کی دو بیٹیاں شامل ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق لال مسجد آپریشن کے دوران اور اس سے پہلے کل ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے جن میں گیارہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سولہ افراد فوجی آپریشن سے پہلے ہلاک ہوئے جبکہ پچھتر افراد مسجد پر فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔

پریس کانفرنس میں جاوید اقبال چیمہ نے سنیچر اور اتوار کو شمالی وزیرستان اور صوبہ سرحد میں خود کُش بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد معاشرے میں بے چینی پھیلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حتیٰ الامکان اقدامات کرے گی کہ دہشت گردی کی وارداتوں کا خاتمہ کیا جائے اور یہ کہ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کی جانب سے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔

صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
لال مسجد کے اندر کا منظرلال مسجد کئی سوال
شدت پسند کہاں تھے اور کہاں چلے گئے
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
لال مسجد آپریشنلوگ پہلے سوچیں گے
مسجد آپریشن : سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان
ہلاک و زخمی ہونے والوں کا اندراجلال مسجد اور صحافی
لال مسجد آپریشن اور معلومات کا حصول
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
اسی بارے میں
لال مسجد کے حق میں مظاہرے
03 July, 2007 | پاکستان
لال مسجد :مذاکرات ختم
16 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد