BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹھارہ رہا، سینتالیس کا ریمانڈ

لال مسجد میں ہنگامے کے دوران پینسٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پیر کے روز لال مسجد ہنگامہ کیس میں گرفتار ہونے والے 65 افراد میں سے اٹھارہ افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ 47 افراد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ اٹھارہ افراد جمعہ کی نماز پڑھنے کی غرض سے لال مسجد میں داخل ہوئے تھے لہذا یہ افراد اس مقدمے میں پولیس کو مطوب نہیں۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ باقی ماندہ 47 افراد اس مقدمے میں ملوث ہیں لہذا اس مقدمے کو تفتیش کے سلسلے میں ان کا سات دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے کیونکہ پولیس نے ان افراد سے ڈنڈے برآمد کئے ہیں۔

ان ملزمان کے وکیل حشمت حبیب نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا پولیس نے بےگناہ افراد کو اس مقدمے میں گرفتار کیا ہے لہذا باقی ماندہ افراد کو بھی رہا کیا جائے۔

عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے 47 ملزمان کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ ملزمان کو یکم اگست کو عدالت میں دوبارہ پیش کریں۔

حشمت حبیب نے مذکورہ عدالت میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے پانچ اگست دوہزار پانچ میں درج ہونے والے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے مؤکل کے خلاف انسداد دہشت گردی کا مقدمہ کیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف یہ الزام ہے کہ انہوں نے وقوعہ کے روز لال مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر جمعہ کا خطبہ دیا جس میں انہوں نے حکومت کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا۔

عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سرکار کو دو اگست کا نوٹس جاری کر دیا کہ وہ اس مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔

ادھر لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کا تھانہ بارہ کہو میں درج سی ڈیز جلانے اور ان کی بیوی اور دو بیٹیوں کے خلاف تھانہ آبپارہ میں درج قتل کے مقدمے میں دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ منگل کو متوقع ہے۔

اسی بارے میں
جامعہ حفصہ سے لاش برآمد
22 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد