عباد الحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | وکلاء غائبانہ نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے، اس سے قبل جلوس بھی نکالا گیا |
جمعرات کو وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے لال مسجد میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ہے۔ نمازہ جنازہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخارمحمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالے گئے جلوس کے اختتام پر ادا کی گئی۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین حافظ عبدالرحمن انصاری نے پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر نماز جنازہ پڑھائی۔ وکلاء کے چیف جسٹس پاکستان کے حق میں نکالے جانے والے ہفتہ وار جلوس سے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں لال مسجد میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے اعلیْ اختیاراتی کمیشن کے ذریعے اس مامعلہ کی چھان بین کرانے کا مطالبہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں واقع مسجد میں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ کس طرح پہنچا۔  |  مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور جنرل مشرف کے مخالف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون اور لاہور بار ایوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔  |
اجلاس سے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ اور معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر نے خطاب میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ لال مسجد کے اندر اتنی بڑی تعداد میں اسحلہ کی موجودگی کے معاملہ پر از خود اختیارات کے تحت نوٹس لے کر کارروائی کرے۔اجلاس میں لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لئے دعا کی گئی۔ قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لاہور میں وکلا اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔ وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، طلبہ، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے بھی اس میں شرکت کی۔ مظاہرین گو مشرف گو کے نعرے لگارہے تھے۔ پنجاب اسمبلی کے باہر وکلا رہنماؤں نے خطاب کیا جس کے بعد وکیل اور سیاسی جماعتوں کے کارکن پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ پارٹی (ن)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، خاکسار تحریک، لیبر پارٹی اور کیمونسٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ جلوس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے۔  | | | مظاہرین گو مشرف گو کے نعرے لگارہے تھے | جلوس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججوں نے بھی شرکت کی جبکہ مظاہرین نے لاہور ہائی کورٹ کے گیٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ وکلاء کے جلوس کے موقع پر مال روڈ کی تمام دکانیں کھلی رہیں اور مظاہرین پر گل پاشی بھی کی گئی۔جلوس میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ’ڈیل نا منظور‘ اور ’ڈیل جو کرے گا وہ غدار‘ کے نعرے لگائے جس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ’وزیر اعظم بے نظیر بھٹو‘ ْ کے نعرے لگاتے۔ جلوس میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کے علاوہ پیپلز پارٹی کے عہدیدار چودھری غلام عباس اور ساجدہ میر سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ مال روڈ پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور جنرل مشرف کے مخالف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون اور لاہور بار ایوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ وکلاء نے عدالتوں میں ہڑتال کی اور پیش نہیں ہوئے جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔ |