BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھل مگسی اور نصیرآباد میں ہیضہ

بلوچستان سیلاب سے متاثر
کئی علاقے اب بھی سیلاب کی وجہ سے کٹے ہوئے ہیں
بلوچستان میں تربت کے بعد جھل مگسی اور نصیرآباد میں بھی ہیضے کی وباءنے شدت اختیارکرلی ہے تربت میں دوسرے روز اتوار کو بھی ہسپتالوں میں متاثرہ لوگوں کی آمد جاری رہی اور جگہ نہ ہو نے کی وجہ ڈاکٹروں کو انکے علاج میں مشکلات درپیش رہیں۔

بلوچستان کے علاقہ تربت کے بعد جھل مگسی اورنصیرآباد میں بھی ہیضے کی وباءنے شدت اختیارکرلی ہے۔ تربت میں دوسرے روز اتوار کو بھی ہسپتالوں میں متاثرہ لوگوں کی آمد جاری رہی اور جگہ نہ ہو نے کی وجہ ڈاکٹروں کو انکے علاج میں مشکلات درپیش رہیں۔

تربت اور اس کے نواحی علاقوں میں آج دوسرے روز بھی گیسٹرو اور ہیضے میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتالوں میں داخل کیاگیا جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

اس سلسلے میں جب صحت کے ضلعی افسر ڈاکٹر سیلم بلوچ سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہیضے پرقابو پانے کیلیے ایک غیر ملکی تنظیم میڈسن سان فرنٹیر کی مدد سے چالیس بستروں کا ایک عارضی ہسپتال قائم کیا ہے جس میں انکے مطابق پہلے دن ہی چالیس سے زیادہ مریض داخل ہوئے ہیں۔

ڈاکٹراسلم بلوچ کے مطابق گرمی کے اس موسم میں ہرسال یہ بیماری پھیلتی ہے مگر اس سال سیلاب کی وجہ سے اس میں اضافہ ہواہے۔

بیماریوں کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے

تربت سے مقامی صحافی جہانگیراسلم کے مطابق کہ کوش قلات میں بیس سالہ فرزانہ مراد اور سول ہسپتال تربت میں ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک صرف تیس فیصد لوگوں تک امدادی سامان پہنچاہے جبکہ ستر فیصد سے زیاد ہ لوگ اب تک بنیادی امداد کے منتظرہیں۔

دوسری جانب میڈسن سان فرنٹیر کے عارضی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر امداد بلوچ نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں توقع سے زیاد ہ مریض آ رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جوشدید گرمی اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کے دور دراز علاقوں میں ڈاکڑوں اورادویات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اکثرعلاقوں تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں ہیں۔

اس سلسلے میں تربت کے ضلعی رابطہ افسرحافظ طاہر کاکڑ نے بتایا کہ پورے علاقے میں خوراک اور علاج کا کام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے اور جلد ہی سیلاب سے متاثرہ دس ہزار افراد میں پندرہ پندرہ ہزار روپے کی چیک تقسیم کیے جائیں گے جس کااعلان صدر جنرل پرویزمشرف نے کیا تھا۔ یہ چیک ان لوگوں کو دیے جائیں گے جن کے مکانات حالیہ سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم ایس پی او کے کوارڈینیٹرامداد ہزارہ کے مطابق ان علاقوں میں امدادی کام مطلوبہ رفتارسے نہیں ہو رہے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے جھل مگسی کے علاقوں کا بری راستہ بند ہے۔

اکثر علاقوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے

دوسری جانب سنیچر کی رات مچھ، بولان اور سبی میں بارشوں کی وجہ سے ایک بار پھر نصیرآباد اور جعفرآباد میں سیلاب سے راستے بند ہوگئے۔

ڈیرہ اللہ یارسے مقامی صحافی ہاشم بلوچ کے مطابق کہ سیلاب سے متاثرہ زیادہ ترلوگ شکایت کررہے ہیں کہ وہاں امدادی چیزیں سیاسی اور اقرباء پروری کی بنیاد پر تقسیم ہو رہی ہیں اور اصل حقدار اب تک محروم ہیں۔

اس دوران کوئٹہ میں چیف سکریٹری بلوچستان کے بی رند کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی بحالی کےلیے تیزتر اقدامات جاری ہیں اور مستقبل میں ایسی ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلیے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کردی گئی ہے۔

واضع رہے کہ حالیہ بارشوں اورسیلاب سے صوبے کے بائیس اضلاع کے نقصانات کا تخمینہ اسی ارب روپے سے زیادہ لگایا ہے۔

تربت سیلابتربت میں وباء
دو دنوں میں 150 افراد ہسپتال میں داخل
متاثرین سیلاب’بلوچستان سیلاب‘
متاثرین کیلیے ایران سے ایک لاکھ خیموں کا عطیہ
سیلاب کیا ہوا
لال مسجد کےریلے میں سیلاب بہہ گیا
’امداد نہیں مل رہی‘
’سیلاب کے متاثرین میں بیماریاں، امداد نہیں‘
ایوب کھوسوجھولی مہم
ایوب کھوسو کا سیلاب زدگان کے لیے چندہ فنڈ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد