جھل مگسی اور نصیرآباد میں ہیضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں تربت کے بعد جھل مگسی اور نصیرآباد میں بھی ہیضے کی وباءنے شدت اختیارکرلی ہے تربت میں دوسرے روز اتوار کو بھی ہسپتالوں میں متاثرہ لوگوں کی آمد جاری رہی اور جگہ نہ ہو نے کی وجہ ڈاکٹروں کو انکے علاج میں مشکلات درپیش رہیں۔ بلوچستان کے علاقہ تربت کے بعد جھل مگسی اورنصیرآباد میں بھی ہیضے کی وباءنے شدت اختیارکرلی ہے۔ تربت میں دوسرے روز اتوار کو بھی ہسپتالوں میں متاثرہ لوگوں کی آمد جاری رہی اور جگہ نہ ہو نے کی وجہ ڈاکٹروں کو انکے علاج میں مشکلات درپیش رہیں۔ تربت اور اس کے نواحی علاقوں میں آج دوسرے روز بھی گیسٹرو اور ہیضے میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتالوں میں داخل کیاگیا جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ اس سلسلے میں جب صحت کے ضلعی افسر ڈاکٹر سیلم بلوچ سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہیضے پرقابو پانے کیلیے ایک غیر ملکی تنظیم میڈسن سان فرنٹیر کی مدد سے چالیس بستروں کا ایک عارضی ہسپتال قائم کیا ہے جس میں انکے مطابق پہلے دن ہی چالیس سے زیادہ مریض داخل ہوئے ہیں۔ ڈاکٹراسلم بلوچ کے مطابق گرمی کے اس موسم میں ہرسال یہ بیماری پھیلتی ہے مگر اس سال سیلاب کی وجہ سے اس میں اضافہ ہواہے۔
تربت سے مقامی صحافی جہانگیراسلم کے مطابق کہ کوش قلات میں بیس سالہ فرزانہ مراد اور سول ہسپتال تربت میں ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک صرف تیس فیصد لوگوں تک امدادی سامان پہنچاہے جبکہ ستر فیصد سے زیاد ہ لوگ اب تک بنیادی امداد کے منتظرہیں۔ دوسری جانب میڈسن سان فرنٹیر کے عارضی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر امداد بلوچ نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں توقع سے زیاد ہ مریض آ رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جوشدید گرمی اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کے دور دراز علاقوں میں ڈاکڑوں اورادویات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اکثرعلاقوں تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں ہیں۔ اس سلسلے میں تربت کے ضلعی رابطہ افسرحافظ طاہر کاکڑ نے بتایا کہ پورے علاقے میں خوراک اور علاج کا کام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے اور جلد ہی سیلاب سے متاثرہ دس ہزار افراد میں پندرہ پندرہ ہزار روپے کی چیک تقسیم کیے جائیں گے جس کااعلان صدر جنرل پرویزمشرف نے کیا تھا۔ یہ چیک ان لوگوں کو دیے جائیں گے جن کے مکانات حالیہ سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم ایس پی او کے کوارڈینیٹرامداد ہزارہ کے مطابق ان علاقوں میں امدادی کام مطلوبہ رفتارسے نہیں ہو رہے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے جھل مگسی کے علاقوں کا بری راستہ بند ہے۔
دوسری جانب سنیچر کی رات مچھ، بولان اور سبی میں بارشوں کی وجہ سے ایک بار پھر نصیرآباد اور جعفرآباد میں سیلاب سے راستے بند ہوگئے۔ ڈیرہ اللہ یارسے مقامی صحافی ہاشم بلوچ کے مطابق کہ سیلاب سے متاثرہ زیادہ ترلوگ شکایت کررہے ہیں کہ وہاں امدادی چیزیں سیاسی اور اقرباء پروری کی بنیاد پر تقسیم ہو رہی ہیں اور اصل حقدار اب تک محروم ہیں۔ اس دوران کوئٹہ میں چیف سکریٹری بلوچستان کے بی رند کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی بحالی کےلیے تیزتر اقدامات جاری ہیں اور مستقبل میں ایسی ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلیے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کردی گئی ہے۔ واضع رہے کہ حالیہ بارشوں اورسیلاب سے صوبے کے بائیس اضلاع کے نقصانات کا تخمینہ اسی ارب روپے سے زیادہ لگایا ہے۔ |
اسی بارے میں یواین سیلاب زدگان کی مدد کرے گی02 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان سیلاب و آسمانی بجلی سے 16 ہلاک16 June, 2007 | پاکستان صوبائی کابینہ اور سیلاب سے نقصانات 16 August, 2006 | پاکستان اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ08 August, 2006 | پاکستان بلوچستان میں سیلاب، تباہ کاری08 August, 2006 | پاکستان چارسدہ میں سیلاب سے تباہی28 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||