اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد دریاؤں میں طغیانی آگئی ہے، جس سے دریائے سندھ کی سطح میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ محکمۂ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دریاؤں کا پانی انڈس ریور سسٹم سے ہوتا ہوا بدھ کے روزگدو کے مقام پر سندھ میں داخل ہوگا جس سے دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقہ میں ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب آنے کا امکان ہے۔ کسی جانی نقصان سے بچاؤ کے لیئے محکمہ آب پاشی نے کچے کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایت کی ہے اور اس پر منگل سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمۂ آبپاشی سندھ کے سیکرٹری شجاع احمد کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا سات لاکھ کیوسک کا ہو سکتا ہے جبکہ دریائے سندھ بارہ لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق انیس سو تہتر سےلیکر انیس سو بانوے تک دریائے سندھ میں پانچ ’سپر فلڈ‘ آ چکے ہیں۔ گدو سے ٹھٹہ ضلع تک (ساڑھ آٹھ سو کلومیٹر پر) دریائے سندھ کے دونوں طرف شہری آبادی کے تحفظ کے لیئے مٹی کے بند موجود ہیں اور محکمۂ آبپاشی کے مطابق ان بندوں میں ایسے ایک سو چالیس مقامات ہیں جو پانی کا دباؤ بڑھنے کی صورت میں ٹوٹ سکتے ہیں۔ سکھر میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر شہر کے بندر وال کے علاقے سے لوگوں کو منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ کچے کے علاقے میں کسی سیلابی صورتحال کے پیش نظر سرکاری سکول، سرکٹ ہاؤس، سٹیڈیم، ریلوے گراؤنڈ اور دیگر علاقوں میں عارضی طور پر کیمپ قائم کئے جارہے ہیں۔ سندھ پولیس کو بھی امکانی صورتحال کے پیش نظر الرٹ کردیا گیا ہے اور چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ چیف انجینئر سکھر بیراج آغا اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ اونچے درجے کے سیلاب کے دوران فوج سے بھی مدد لی جائے گی۔
ماہر آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ پانچ سے سات لاکھ کیوسک پانی کی موجودگی کو اونچے درجے کا سیلاب کہا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ پانی آنے کی صورت میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب کہلائےگا۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ انڈس ریور سسٹم کے آخر میں ہے جس وجہ سے دیگر صوبوں کا پانی بھی سندھ میں سے ہوتا ہوا سمندر میں جاتا ہے۔ اگر ملک کے ایک دریا میں بھی سیلابی صورتحال رہتی ہے تو دریائے سندھ میں سیلاب کا خطرہ رہتا ہے۔ اس لیئے سندھ سے اس وقت تک سیلابی صورتحال ختم نہیں ہوتی جب تک یہ پورے ملک سے ختم نہ ہوجائے اور یہی وجہ ہے کہ دریائے سندھ میں سیلاب کی کیفیت ایک بڑے عرصے تک جاری رہتی ہے۔ دوسری جانب منچھر جھیل میں بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور اس کا آلودہ پانی دریائے سندھ میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف انجنیئر کوٹری کا کہنا ہے کہ جھیل میں روزانہ تین فٹ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جھیل کی سطح ایک سو بارہ فٹ کی خطرناک حد سے صرف دو فٹ نیچے ہے اور کسی نقصان سے بچنے کے لیئے اس کے پانی کو دریا میں چھوڑنا لازمی ہے۔ واضح رہے کہ اس سےقبل سن دوہزار چار میں منچھر جھیل کا آلودہ پانی دریائے سندھ میں چھوڑا گیا تھا اور حیدرآباد شہر کو آلودہ پانی کی فراہمی کے وجہ سے چالیس سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: درجنوں دیہات زیرِ آب07 August, 2006 | پاکستان مردان: چالیس لاشیں نکال لی گئیں06 August, 2006 | پاکستان سیلابی ریلے میں پانچ بچے ڈوب گئے30 June, 2006 | پاکستان چارسدہ میں سیلاب سے تباہی28 July, 2006 | پاکستان دریا میں بہہ کر 10 ہلاک04 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||