تربت: وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے تربت میں سیلابی پانی پینے سے گیسٹرو اور ہیضے کی وباء پھیل گئی ہے اور دو دنوں میں 150 افراد کو ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔ ڈاکڑوں کے مطابق حالات کنٹرول میں ہیں لیکن دوسری جانب مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک امداد نہیں ملی ہے۔ تربت کا علاقہ جو حالیہ سیلاب اور بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہے کے زیادہ تر علاقے ابھی تک امداد سے محروم ہیں۔ حکومت کے دعؤوں کے برعکس وہاں ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے بین الااقوامی امدا د کی فوری اپیل کی ہے۔ اس سلسلے میں بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر کچکول علی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی امدادی کام نہیں ہو رہا ہے۔ صدر جنرل پرویزمشرف نے تربت کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں انہیں فی گھر پندرہ ہزار روپے دیے جائیں گے۔ مگر تربت سے ملنے والی اطلاعات میں کہا کہ گیا ہے کہ رقم ابھی تک تقسیم نہیں کی جا رہی ہے جبکہ صوبائی سیکرٹری داخلہ طارق ایوب نے پانچ دن قبل پیسے جاری کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اس سلسلے میں تربت کے ایک مقامی صحافی جہانگیر اسلم نے بتایا کہ امدادی کاموں میں تاخیر کی وجہ سے اب لوگ احتجاج کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق تربت میں گیسٹرو اور ہیضے کی وباء پھیل چکی ہے اور اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تربت جاوید کریم نے کہا کہ یہ وباء پینے کے لیے صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے پھیلی ہے۔
واضع رہے کہ دو جون کو آنے والے سیلاب سے صوبے میں بائیس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ حکومت کے اس اصرار کے باوجود کہ سب کچھ ٹھیک ہے، غیر ملکی این جی اوز کے اہلکاروں کی شکایت ہے کہ صوبائی حکومت اور فرنٹیر کور انہیں آزادی کے ساتھ کام نہیں کرنے دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ذمہ دار حکام سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی گئی مگر حسب روایت وہ سب ’میٹنگ‘ میں مصروف تھے۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ تربت سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے جنرل پرویزمشرف کے ساتھ دورے کے موقع پر جن لوگوں میں چیک تقسم کیے تھے وہ بھی ابھی تک کیش نہیں ہوسکے کیونکہ بینک حکام کی جانب سے متاثرین کواکاونٹ کھولنے کے لیے کہا جا رہا ہے جس کے لیے شناختی کارڈ لازمی شرط ہے اور متاثرہ لوگوں کے شناختی کارڈ سیمت سب گھربار پہلے ہی سیلابی پانی کی نظر ہو چکے ہیں۔ تربت سے آمدہ اطلاعا ت میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض متاثرہ لوگ ملنے والی خوراک کی چیزین بازار میں فروخت کرنے پر بھی مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس دوسری ضروروتوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں05 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: امداد کا آغاز نہیں ہوا29 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||