پسنی: سینکڑوں کشتیاں پھنس گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں حالیہ طوفان بارشوں اور پھر سیلاب سے فش ہاربر کے اہم حصے مٹی میں دھنس گئی ہے جس سے بڑی تعداد میں لانچیں اور کشتیاں پھنس گئی ہیں۔ پسنی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ مٹی کوئی ایک دن میں جمع نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ اٹھارہ سال سے اس فش ہاربر کی صفائی نہیں ہوئی ہے، اب جب طوفان پھر بارشیں اور سیلاب آئے تو فش ہاربر مکمل طور پر مٹی میں دھنس گئی ہے ۔ مقامی صحافی امام بخش بہار نے بتایا ہے کہ فش ہاربر کا اہم چینل پانی میں دھنس چکا ہے جہاں کوئی پانچ سو لانچیں اور کشتیاں پھنسی ہوئی ہیں جس سے مچھیروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس بارے میں پسنی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شیر جان بلوچ نے بتایا کہ انیس سو ننانوے میں اس فش ہاربر کا افتتاح کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس فش ہاربر کی صفائی یا رکھوالی صحیح طریقے سے نہیں کی گئی ۔انھوں نے کہا کہ دس دنوں کے اندر اگر حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جا ری ہیں جبکہ کئی علاقوں سے امداد نہ ملنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ تربت کے علاقے میں غیر سرکاری تنظیموں اور فرنٹیئر کور کے مابین آج مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ایس پی او کے علاقائی سربراہ مختیار چھلگری نے بتایا کہ انھوں نے پہلے امدادی سرگرمیاں معطل کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن مذاکرات کے بعد وہ اور دیگر تنظیمیں تربت میں متاثرہ افراد میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غیرسرکاری تنظیموں سے کہا گیا تھا کہ فوج کے بغیر وہ امدادی کارروائیاں نہیں کر سکتے جس پر این جی اوز نے احتجاج کیا تھا۔ آج مذاکرات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ حکومت اور غیرسرکاری ادارے معاونت سے کام کریں گے اور ہر دو روز بعد فرنٹیئر کور کے حکام کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔ |
اسی بارے میں گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان 200 سےزائدہلاک، سینکڑوں لاپتہ03 July, 2007 | پاکستان سیلاب: امدادی کارروائیاں تیز کریں06 July, 2007 | پاکستان ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان نئےطوفان کا خطرہ، امداد کی اپیل نہیں01 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||