پی آئی اے: تین گرفتاری وارنٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں قائم احتساب عدالت نے قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے لیے ایک غیرملکی ادارے سے مبینہ طور پر زائد المیعاد بوئنگ طیاروں کی خریداری اور اس کے ذریعے پی آئی اے کو ایک ارب 86 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کے ایک ریفرنس میں غیرملکی فضائی کمپنی کیتھی پیسفیک کے جنرل سیلز منیجر اور پی آئی اے کے سابق افسر سمیت تین افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ یہ حکم کراچی میں قائم قومی احتساب عدالت نمبر ایک کے انتظامی جج آل مقبول رضوی نے سنیچر کو نیب یعنی قومی احتساب بیورو کی جانب سے داخل کردہ ایک ریفرنس پر جاری کیا ہے، جس میں ہانگ کانگ میں قائم غیرملکی فضائی کمپنی کیتھی پیسفیک کے جنرل سیلز منیجر ڈیریئس سائرس مین والا، پی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر کارپوریٹ پلاننگ راشد حسن اور ایک نجی کمپنی کے ڈائریکٹر پرویز حسین پر پی آئی اے کے لیے غیرملکی طیاروں کی خریداری کے سودوں میں سنگین مالی بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں افراد نے کیتھی پیسیفک سے پی آئی اے کو مارچ 1999ء میں 5 بڑے طیارے بی-747 بھاری کرائے پر دلوائے جو بعد میں پی آئی اے نے تین ارب تیس کروڑ روپے میں خرید بھی لیے جبکہ سال 2002ء میں پی آئی اے کے لیے اسی فضائی کمپنی سے ایک اور بی 747 طیارہ کی 42 کروڑ روپے میں خریداری کا سودا بھی کروایا تاہم وہ طیارہ کبھی تجارتی پرواز کے لیے استعمال ہی نہیں کیا گیا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کیتھی پیسیفک سے خریدے گئے تمام طیارے پرانے تھے اور اپنی مدت پوری کرچکے تھے۔ نیب نے ریفرنس میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ کیتھی پیسیفک کمپنی نے پی آئی اے کو اپنے پرانے جہاز بھاری قیمت پر فروخت کرنے کے لیے جان بوجھ کر مین والا کو ان طیاروں کے سودے میں شامل کیا اور سودا کرانے پر انہیں لگ بھگ 64 کروڑ روپے اور سودے کو کامیاب بنانے میں ساتھ دینے پر پی آئی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر کارپوریٹ پلاننگ راشد حسن اور برنی انٹرنیشنل نامی پرائیویٹ کمپنی کے ڈائریکٹر پرویز حسین کو بھی بھاری حصہ ادا کیا۔ فاضل عدالت نے گزشتہ روز مین والا کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا جس میں میٹروپول ہوٹل کراچی کی زمین، بینک اکاؤنٹ اور باتھ آئی لینڈ کے علاقے میں واقع فلیٹ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال مارچ میں یورپی ایوی ایشن نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ( پی آئی اے) کے بیڑے میں شامل چالیس میں سے تینتیس جہازوں کو فضائی سفر کے لیے یورپی معیار پورے نہ کرنے کے باعث یورپ کے ستائیس ممالک میں داخلے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی تھی۔یہ پابندی ان پرانے جہازوں پر لگائی گئی ہے جو تکنیکی لحاظ سے فضائی سفر کے لیے موزوں نہیں ہیں، ان میں کیتھی پیسیفک سے خریدے گئے وہ پانچ جہاز بھی شامل ہیں، جو پی آئی اے کے پرانے جہازوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خریدے گئے تھے۔
یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ پابندی لگائی گئی ہے، اس میں ان جہازوں سے زیادہ پی آئی اے کے شعبۂ انجینیئرنگ کی حالت زار پر تنقید کی گئی ہے جہاں رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے معاملات سے نا بلد فوجی افسر بھرتی کیے گئے ہیں۔ اس پابندی کے کچھ ہفتوں بعد پی آئی اے کے چئرمین طارق کرمانی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے تاہم پی آئی اے انتظامیہ اب تک یورپی ایوی ایشن کی پابندی ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ |
اسی بارے میں پی آئی اے، برطانیہ میں بھی’پابندی‘03 March, 2007 | پاکستان بیشتر پروازیں 27 ملکوں میں ممنوع 05 March, 2007 | پاکستان ’پابندی امتیازی سلوک ہے‘06 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے کا بحران، ہزاروں پریشان08 March, 2007 | پاکستان طارق کرمانی پی آئی اے سے مستعفی26 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے:گرتی ساکھ کا ذمہ دار کون؟27 March, 2007 | پاکستان کراچی: طیارے کے ٹائر ناکارہ ہوگئے17 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||