پشاور: ہائی کورٹ کے دو سرکٹ بنچز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پہلی مرتبہ نیم قبائلی علاقے ملاکنڈ ڈویژن اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے سے متصل جنوبی اضلاع میں پشاور ہائی کورٹ کے دو سرکٹ بنچز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیرِ قانون ملک ظفر اعظم نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا ایک بنچ ملا کنڈ ڈویژن میں جبکہ دوسرے کا قیام جنوبی ضلع بنوں میں ہوگا۔ سرکٹ بنچز کے قیام کے متعلق ملک ظفر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ان علاقوں کے لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور متحدہ مجلس عمل نے گزشتہ انتخابات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اس مطالبے کو پورا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ’ملاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع کے لوگوں کو اپنی مقدمات کی پیروی کے لیے پشاور آنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات پیش آتی ہیں لہذا ایم ایم اے کی حکومت نے انصاف ان کی دہلیز تک پہنچانے کی خاطر اپنے کیے ہوئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ان سرکٹ بنچز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے‘۔ وزیر ِقانون کا کہنا تھا کہ اس بات پر وزیراعلیٰ اور گورنر سرحد کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ بہت جلد وزیراعظم شوکت عزیز کے ساتھ ملاقات کر کے ان سے ہائی کورٹ کے چار نئے ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کریں گے۔ ملک ظفر اعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ان ججز کے لیے ماتحت عملے، رہائش و گاڑیوں کی سہولیات بہت جلد مہا کردے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکٹ بنچز کے قیام سے پشاور ہائی کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں تقریباً بارہ ہزار مقدمات زیرالتواء ہیں جن میں سے پندرہ سو چودہ بنوں، لکی مروت اور کرک جبکہ اٹھارہ سو چودہ شانگلہ، سوات، بٹ خیلہ اور مینگورہ کے رہنے والوں نے درج کیے ہیں۔ حسبہ بل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ملک ظفر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ حسبہ بل کو اسمبلی میں تیسری مرتبہ پیش کرنے والے وزیر نہیں بنیں گے۔ انہوں نے حکومت اور عدلیہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’دونوں کو حسبہ بل کی سزا مل گئی ہے‘۔ واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ہائی کورٹ کے دو نئے سرکٹ بنچز کو ایسے علاقوں میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پر مبینہ طور پر مذہبی شدت پسندوں کا اثر و نفوذ زیادہ ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں سے متصل صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں سرگرم مبینہ مذہبی شدت پسند پاکستان میں رائج عدالتی نظام کے خلاف ہیں اور وہ شرعی نظام کے ماتحت عدالتیں لگانے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی نے نوے کی دہائی کے وسط میں حکومتی عمارتوں پر قبضہ کرکے شرعی نظام کے نفاذ کا اعلان کیا تھا اور بعد میں حکومت نے عدالتوں میں سیشن ججز کی معاونت کے لیے قاضیوں کی تقرری کی تھی۔ |
اسی بارے میں پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ 06 October, 2006 | پاکستان پشاور: ریڈ کراس کے دفتر میں دھماکہ10 February, 2007 | پاکستان ’پشاور حملہ آور کا سراغ نہیں ملا‘29 January, 2007 | پاکستان پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ 15 February, 2007 | پاکستان طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟18 March, 2007 | پاکستان پشاور میں بم دھماکہ، دو زخمی05 April, 2007 | پاکستان پشاور میں بم دھماکہ06 April, 2007 | پاکستان پشاور: دھماکے سے دو بچیاں ہلاک16 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||