BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 January, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان نے امریکی الزام مسترد کردیا

عالمی انٹیلیجنس ایجنسیاں اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ہیں
حکومتِ پاکستان نے امریکی انٹیلیجنس کے سربراہ جان نیگروپونٹے کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں اپنے ’محفوظ مقامات‘ سے پھر سے منظم ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

جمعہ کے روز پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ کی کمر توڑنے کے لیے کسی بھی ملک سے زیادہ کام کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے خلاف پاکستان کے کردار کو کو امریکی قیادت سمیت بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ القاعدہ کے عناصر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور یورپ میں سرگرم ہیں لیکن ان کو پاکستان میں القاعدہ کی باقیات سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

القاعدہ کے خلاف پاکستانی مہم
 ہم ایک ایسا کام کرتے آرہے ہیں جو حساس بھی تھا اور مشکل بھی اور یہ کہ ہم نے نہ صرف القاعدہ کو کچھ حد تک غیرمؤثر بنایا بلکہ دوسری شدت پسند تنظیموں کو بھی جو بعد میں منظر عام پر آئیں۔
وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے طور پر ان باقیات اور شدت پسند عناصر کا پیچھا کررہا ہے۔ ’ہم اپنے ملکی مفاد، امن، سلامتی اور سماجی ترقی کے لیے اس چیلنج سے نمٹتے رہیں گے‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کے حصے کے طور پر ہماری کوششیں اس شدید خطرے سے نمٹنے کے لیے مدد کر رہی ہیں۔‘

وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ نیگروپونٹے نے اپنے بیان میں گیارہ ستمبر کے بعد سینکڑوں القاعدہ کے اراکین کی گرفتاری اور ہلاکتوں کا ذکر کیا لیکن ان کو پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے جس نے اس کو ممکن بنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف لڑنے کے عزم کیے ہوئے ہے ۔

لیکن ساتھ ہی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش میں تعاون پر ہمیشہ توجہ رہنی چاہیے نہ کہ نامناسب تنقید پر۔

نیگروپونٹے نائب وزیر خارجہ کا عہدے سنبھالنے والے ہیں
اسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ شیرپاؤ نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کو پاکستان میں کمزور بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس طرح کے بیانات ایک یا دوسری جگہ سے سامنے آتے رہتے ہیں۔

لیکن وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس بارے میں واضح معلومات اور تفصیلات چاہئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’جب بھی ہمیں واضح معلومات حاصل ہوئیں تو ہمارے لیے کارروائی کرنا ممکن ہوسکا۔‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ میں اس عمومی بیان پر کوئی جواب نہیں دے سکتا کہ القاعدہ پاکستان کے محفوظ مقامات سے منظم ہورہی ہے۔

شیرپاؤ نے کہا کہ’میری رائے میں القاعدہ کو مکمل طور پر غیرمؤثر بنادیا گیا ہے۔‘ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسا کام کرتے آرہے ہیں جو حساس بھی تھا اور مشکل بھی اور یہ کہ ہم نے نہ صرف القاعدہ کو کچھ حد تک غیرمؤثر بنایا بلکہ دوسری شدت پسند تنظیموں کو بھی جو بعد میں منظر عام پر آئیں۔‘

مطلوب القاعدہ رہنما
ماچس پر امریکہ کی اشتہاری مہم
دہشت گردی
دہشت گردی کےمجرم کو چالیس مرتبہ سزائے موت
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
عاطف’بیٹا کہاں ہے؟‘
لاہور کی سروری خاتون بیٹے کے لیے پریشان ہیں
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
القاعدہ سے تعلق
چار سالوں میں ایک ہزار ہلاک، ایک ہزارگرفتار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد