BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 January, 2007, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ کو غیراہم بنادیا گیا: پاکستان

 جان نیگروپونٹے
جان نیگروپونٹے جلد ہی نائب وزیر خارجہ کا عہدہ سنھبالنے والے ہیں۔
پاکستان کے وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ کو غیر اہم بنا دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ شیرپاؤ نے اس رد عمل کا اظہار امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ کے اس بیان پر کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں اپنے ’محفوظ مقامات‘ سے دوبارہ منظم ہورہی ہے۔

وزیرداخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس طرح کے بیانات ایک یا دوسری جگہ سے سامنے آتے رہتے ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس بارے میں واضح معلومات اور تفصیلات چاہئیں۔‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جب بھی ہمیں واضح معلومات حاصل ہوئیں تو ہمارے لیے کارروائی کرنا ممکن ہوسکا۔‘

لیکن ان کا کہنا تھا کہ میں اس عمومی بیان پر کوئی جواب نہیں دے سکتا کہ القاعدہ پاکستان کے محفوظ مقامات سے منظم ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’میری رائے میں القاعدہ کو مکمل طور پر غیراہم بنادیا گیا ہے۔‘
لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایک ایسا کام کرتے آرہے ہیں جو حساس بھی تھا اور مشکل بھی اور یہ کہ ہم نے نہ صرف القاعدہ کو کچھ حد تک غیر اہم بنایا بلکہ دوسری شدت پسند تنظیموں کو بھی جو بعد میں منظر عام پر آئیں۔‘

پاکستان اتحادی ہے مگر۔۔۔
پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس نے کئی القاعدہ کے لیڈروں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن وہ شدت پسندی کا ایک گڑھ بھی ہے۔
جان نیگروپونٹے
امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے نے کہا تھا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں اپنی پناہ گاہوں سے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو، جو خراب ہو گیا تھا، پھر سے فعال بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا القاعدہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور امریکہ کو اب بھی سب سے زیادہ خطرہ القاعدہ ہی سے ہے۔ نیگروپونٹے نے کہا القاعدہ کی قیادت پاکستان کے محفوظ مقامات سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اپنی حلیف تنظیموں سے رابطے مضبوط کر رہی ہے۔

جان نیگروپونٹے نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن یا ان کے نائب ایمن الظواہری کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ کہا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان کے کس علاقے میں موجود ہے۔

نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس نے کئی القاعدہ کے لیڈروں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن وہ شدت پسندی کا ایک گڑھ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے افغانستان میں جاری مزاحمت بالکل ختم نہیں ہوجائے گی لیکن ان محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔

جان نیگروپونٹے نےجنرل مشرف کو ممکنہ قبائلی بغاوت اور امریکہ مخالف مذہبی جماعتوں کی کامیابی جیسے در پیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2007 میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے جنرل مشرف کو در پیشں مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی دفاعی انٹیلیجنس کے سربراہ جنرل مائیکل میپلز نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملنے والے پاکستان کے سرحدی علاقے القاعدہ اور دوسرے دہشت گردوں کی جنت ہے۔

مطلوب القاعدہ رہنما
ماچس پر امریکہ کی اشتہاری مہم
دہشت گردی
دہشت گردی کےمجرم کو چالیس مرتبہ سزائے موت
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
عاطف’بیٹا کہاں ہے؟‘
لاہور کی سروری خاتون بیٹے کے لیے پریشان ہیں
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
القاعدہ سے تعلق
چار سالوں میں ایک ہزار ہلاک، ایک ہزارگرفتار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد