القاعدہ کو غیراہم بنادیا گیا: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ کو غیر اہم بنا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ شیرپاؤ نے اس رد عمل کا اظہار امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ کے اس بیان پر کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں اپنے ’محفوظ مقامات‘ سے دوبارہ منظم ہورہی ہے۔ وزیرداخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس طرح کے بیانات ایک یا دوسری جگہ سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس بارے میں واضح معلومات اور تفصیلات چاہئیں۔‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جب بھی ہمیں واضح معلومات حاصل ہوئیں تو ہمارے لیے کارروائی کرنا ممکن ہوسکا۔‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ میں اس عمومی بیان پر کوئی جواب نہیں دے سکتا کہ القاعدہ پاکستان کے محفوظ مقامات سے منظم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’میری رائے میں القاعدہ کو مکمل طور پر غیراہم بنادیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا القاعدہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور امریکہ کو اب بھی سب سے زیادہ خطرہ القاعدہ ہی سے ہے۔ نیگروپونٹے نے کہا القاعدہ کی قیادت پاکستان کے محفوظ مقامات سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اپنی حلیف تنظیموں سے رابطے مضبوط کر رہی ہے۔ جان نیگروپونٹے نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن یا ان کے نائب ایمن الظواہری کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ کہا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان کے کس علاقے میں موجود ہے۔ نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس نے کئی القاعدہ کے لیڈروں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن وہ شدت پسندی کا ایک گڑھ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے افغانستان میں جاری مزاحمت بالکل ختم نہیں ہوجائے گی لیکن ان محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ جان نیگروپونٹے نےجنرل مشرف کو ممکنہ قبائلی بغاوت اور امریکہ مخالف مذہبی جماعتوں کی کامیابی جیسے در پیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2007 میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے جنرل مشرف کو در پیشں مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی دفاعی انٹیلیجنس کے سربراہ جنرل مائیکل میپلز نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملنے والے پاکستان کے سرحدی علاقے القاعدہ اور دوسرے دہشت گردوں کی جنت ہے۔ |
اسی بارے میں زندہ ہاتھ نہ آؤں گا: اسامہ بن لادن20 February, 2006 | آس پاس الجزیرہ پر اسامہ بن لادن کا نیا وڈیو 07 September, 2006 | آس پاس اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر04 January, 2007 | آس پاس القاعدہ ایک گلوبل تحریک ہے: فیصل06 November, 2006 | آس پاس اسامہ افغانستان میں ہیں: مشرف28 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||