سندھ: ’ڈان‘ کی کاپیاں نذر آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں پاکستان کے کثیرالاشاعت انگریزی اخبار ڈان کی کاپیاں چھینی اور نذر آتش کی گئی ہیں۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اخبار کی کاپیاں نذرِ آتش کرنے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ دو روز سے جاری ہے کہ لاڑکانہ اور حیدرآباد میں نامعلوم افراد اسٹالوں اور ہاکروں سے اخبار کی کاپیاں چھینتے اور نذر آتش کرتے ہیں اور اخبار فروشوں کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ حیدرآباد میں ڈان کے بیوروچیف عزیز ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ حیدرآباد پریس کلب پر ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر یہ دھمکی دی کہ آج ڈان اخبارجلایا ہے کل ان کے لوگوں کو ماریں گے۔
حیدرآباد میں اخبارکی کاپیاں نذر آتش کرنے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیاگیا ہے جبکہ دفتر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ سندھ نینشل فرنٹ کے ترجمان ایوب شر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم اخبارات جلانے کے واقعات میں ملوث نہیں ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈان سندھ دشمن اخبار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس اخبار کے مالکان صدیوں سے اس دھرتی پر رہتے آئے ہیں، مگر پھر بھی ان کا ایسا عمل ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ عوام کا یہ رد عمل ہو۔ ان کے مطابق اگر کوئی فرنٹ پر الزام تراشی کرتا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس عمل کو احتجاج کا یہ مہذب طریقہ سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نےکہا کہ یہ عوامی رد عمل ہے، ہر ایک اپنے طور پر رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ روز قبل سندھ قومی اتحاد اور فرنٹ کے چیئرمین ممتاز علی بھٹو نے ہارون فیملی کو لیٹر لکھے کر آگاہ کیا تھا کہ ان کی اخبار سے لوگ سخت ناراض ہیں۔ ہوسکتا ہےاس لیے ان کی جماعت پر الزام تراشی کی جا رہی ہو۔
دوسری جانب حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس نےڈان اخبار کی کاپیاں نذر آتش کرنے کی مذمت کی ہے اور اسے آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ ایچ یو جے کے مطابق اگر صحافت کو ایسے ڈنڈا بردار گروہوں کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا تو میڈیا کا غیرجانبدارانہ کردار ختم ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سندھی روزنامہ کاوش کو دو مرتبہ ایسی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں اخبارات اور اسٹاف وین نذر آتش کرنے سمیت دفتر پر کریکر تک پھینکے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں شمالی وزیرستان: اخبارات نذر آتش24 April, 2006 | پاکستان پاک وہند کےاخبارات اب سرحد پار سے بھی؟22 June, 2005 | پاکستان اخبارات کو ٹی وی چینل کی اجـازت20 April, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||