BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 March, 2004, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کوئی نہیں سنتا‘

مہدی حسن اور طلعت محمود کی ایک یادگار تصویر
واجپئی نے انڈیا آنے کی دعوت دی ہے
گلوکار مہدی حسن جو ساڑھے تین سال سے سال سے فالج میں مبتلا ہیں اپنے علاج معالجہ کے لئے پیسوں کے لیے پریشان ہیں اور انھوں نے علاج معالجہ کے لیے ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چوہتر سالہ مہدی حسن، جنھیں شہنشاہ غزل کہا گیا، شام پونے چھ بجے لاہور پریس کلب میں اپنی گاڑی سے ایک ویل چئیر پر بیٹھ کر اترے۔ وہ پان کھا رہے تھے اور انھوں نے سفید پاجامہ اور موتیا رنگ کا بوسکی کا کڑھا ہوا کرتا اور کالی کڑھی ہوئی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے عارف مہدی اور آصف مہدی ان کے ساتھ تھے۔

ان کے بیٹوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت ان کے علاج کے لئے پیسوں کا اعلان تو کرتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔

لاہور پریس کلب میں مہدی حسن کے بیٹے عارف مہدی نے کہا کہ ہندوستان کے وزیراعظم واجپائی نے مہدی حسن کو خط لکھا ہے اور ان کی تعریف کی ہے اور انھیں ہندوستان آنےکی دعوت دی ہے۔ وہ مئی کے شروع میں ہندوستان جارہے ہیں اور وہیں دلی میں ایک آیورویدک ہسپتال میں اپنا علاج بھی کرائیں گے۔

عارف مہدی نے بتایا کہ ان کے والد کی مالی امداد کے لیے کئی بار حکومت کے مختلف اعلیٰ عہدیداروں نے اعلانات کیے اور اخباروں میں اس کی تشہیر کی گی لیکن کوئی رقم حقیقت میں انھیں دی نہیں گئی۔

عارف مہدی نے کہا کہ یا تو ایسے اعلانات نہ کیے جائیں اور یا ان پر عمل کیا جاۓ۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک تو وہ اپنے ذاتی خرچ پر علاج کرانے ہندوستان جارہے ہیں البتہ دیکھیں گے کہ وہاں کوئی پیشکش ہوتی ہے یا نہیں۔ آج کل مہدی حسن کے دائیں طرف گرنے والے فالج کا علاج آغا خان ہسپتال میں ہورہا ہے۔

مہدی حسن بہت سے شاگردوں میں گھرے ہوئے تھے اور انھوں نے بار بار صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’مجھے آپ کی چاہت ہے اور آپ کو میری چاہت ہے اور یہ چاہت ہمیشہ یوں ہی رہے گی‘۔ ان الفاظ کے بعد وہ رونے لگے اور انھوں نے دوبار بولنے کی کوشش کی مگر ان کے آنسو جاری رہے۔

مہدی حسن نے کہا کہ’ آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور آپ نے مجھ ناچیز کو عزت بخشی ہے اس کے لیے بہت بہت شکریہ۔ یہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ مجھے اتنا کچھ سمجھتے ہیں۔‘

ویل چئیر پر بیٹھے ہوۓ مہدی حسن نے کہا کہ ’انشااللہ زندگی رہی تو آپ کی خدمت کرتا رہوں گا۔‘

مہدی حسن کے بڑے بیٹے عارف مہدی نے بتایا کہ ساڑھے تین سال بعد مہدی حسن تین دن کے لیے لاہور آۓ ہیں تاکہ پرانے لوگوں سے ملاقات ہوجاۓ اور مئی میں وہ ہندوستان چلے جائیں گے۔

عارف مہدی نے بتایا کہ پندرہ سال سے مہدی حسن کو اپنے کسی کام کی رائلٹی نہیں مل رہی اس لیے کہ پاکستان میں رائلٹی کا سلسلہ ہی ختم ہوگیا ہے۔ انھیں اب ریڈیو وغیرہ سے بھی ان کے گاۓ ہوۓ گانوں کے پیسے نہیں ملتے۔

انھوں نے کہا کہ دوسال پہلے اس وقت کے چئیرمین ٹی وی انور محمود نے مہدی حسن کے لیے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا لیکن کئی دفعہ رابطہ کے باوجود وہ پیسے آج تک نہیں ملے۔

گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا جو انھیں نہیں دیے گۓ۔ گورنر نے انھیں کراچی کے سول ہسپتال میں علاج کرانے کا کہا لیکن وہ مہدی حسن کو وہاں لے کر نہیں گۓ۔

اس طرح انھوں نے کہا ہندوستان کہ فنکار جگجیت سنگھ نے کراچی میں پی آئی اے کے زیراہتمام ایک پروگرام میں مہدی حسن کے علاج کے لیے اور دوسرے فنکاروں کی مدد کے لیے ان کے نام سے ایک ٹرسٹ بنانے کا اعلان کیا جس کے لیے ایک کروڑ روپے اکٹھے کیے گۓ لیکن وہ کہاں گۓ اس کا آج تک پتہ نہیں چلا۔

عارف مہدی نے کہا کہ دو سال پہلے انھوں نے کراچی میں مہدی حسن کے علاج کے لیے ایک میوزک پروگرام کرانے کا بندوبست کیا اور جب فنکاروں سے بات کی گئی تو انھوں نے اس کو نظر انداز کردیا۔

انھوں نے کہا کہ اب وہ لاہور آۓ ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہاں لوگوں کا کیا رویہ ہوتا ہے۔

آصف مہدی نے کہا کہ جب مہدی حسن کو لاہور میں فالج ہوا تھا تو گورنر پنجاب نے ان کے علاج کے لیے حکومت کی امداد کا اعلان کیا تھا اور اس پر بھی عمل نہیں ہوا کیونکہ شیخ زید ہسپتال والے گورنر صاحب سے رابطہ کرنے کو اور گورنر کے دفتر والے وفاقی حکومت سے بات کرنے کا کہتے رہے۔

مہدی حسن کے بیٹوں نے لوگوں سے درخواست کی وہ ان کی صحت کے لیے دعا کریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد