شمالی وزیرستان: اخبارات نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں پیر کی صبح مقامی طالبان نے پشاور سے اخبار لے کر آنے والی گاڑی روک کر اخبارات کے تمام بنڈل نذر آتش کر دئیے اور انہوں نے اخبارات کو خبر دار کیا ہے کہ طالبان کو ’شر پسند‘ یا ’دہشت گرد‘ نہ لکھا جائے۔ مقامی طالبان نے میر علی کے مرکزی چوک میں صبح آٹھ بجے کے قریب اردو اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والے تمام اخبارات کی کاپیاں جلا دیں۔ طالبان کے کمانڈر صادق نور کے حامیوں نے میر علی کے لوگوں سے کہا کہ طالبان کو اخبارات میں ’شر پسندوں‘ اور ’دہشت گردوں‘ لکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اخبارات انہیں شر پسند اور دہشت گرد لکھنے سے گریز نہیں کریں گے ان اخبارات کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی کے قریب خیمرنگ میں ایک فوجی چوکی پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ اس کے جواب میں فوج نے بھی کئی جگہوں پر توپوں اور مارٹر گن سے گولے داغے۔ اس میں لوت خان نامی ایک مذاحمتکار ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس کارروائی میں کسی قسم کے جانی نقصان ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ دو روز قبل مقامی طالبان کمانڈر صادق نور کے ترجمان مولانا طارق جمیل نے اعلان کیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں سرکاری اہلکاروں، فوجیوں یا خاصہ داروں کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی۔ مولانا طارق جمیل کے اعلان کے بعد اتوار کی رات کو جنوبی وزیرستان میں فوجی چوکی پر یہ پہلا حملہ تھا۔ |
اسی بارے میں امریکہ کے خلاف جہاد کا عزم21 April, 2006 | پاکستان میران شاہ: اہلکار سمیت چار ہلاک23 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی چوکیوں پر حملے22 April, 2006 | پاکستان باجوڑ: السوری کی ہلاکت کی تصدیق21 April, 2006 | پاکستان پینتیس قبائلی افراد کی حراست21 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||