حاجی عمر سے خصوصی انٹرویو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار عامر احمد خان نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان طالبان کے رہنما حاجی عمر سے خصوصی انٹرویو کیا۔ حاجی عمر سے انٹرویو کا مکمل متن سوالوں اور جوابات کی صورت میں درجہ ذیل ہے۔ سوال- پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کا کہنا ہے جو لوگ اپنے آپ کو پاکستانی طالبان کہتے ہیں وہ دراصل جرائم پیشہ لوگ ہیں جو مفرور عربی جنگجؤں کی مدد کر کے ان سے پیسے بٹور رہے ہیں- جواب- یہ بالکل غلط بات ہے- جھوٹ ہے- ہم لوگ طالبان ہیں اور ہم میں سے ایک بھی شخص ایسا نہیں جو جرائم میں ملوث ہو- ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ ہمارے نظام میں ہم نے اپنی سزا عام آدمی کے مقابلے میں دگنی رکھی ہے- ہم جہاد صرف اور صرف اللہ کے لیے کرتا ہے- اگر ہم جہاد کے لیے کسی سے ایک پیسہ بھی لے تو ہماری زندگی تو کیا ہماری موت بھی خراب ہے- دوسرا یہ کہ ہم پیسے کا کرے گا کیا؟ ہمارا تو گھر بھی نہیں ہے- جب حکومت نے ہمارا گھر گرایا اور پھر ہمارے ساتھ بات چیت شروع کی تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جنگ میں تباہ شدہ تمام گھروں کا معاوضہ دے گا۔ مگر ابھی تک کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ اگر ہم عربیوں سے پیسہ کما رہے ہوتے تو سب سے پہلے تو اپنا گھر بناتے۔ لیکن ہم تو ابھی تک غاروں اور خیموں میں رہ رہے ہیں۔ ہم پیسے کا کیا کرے گا؟ کیوں ، کیا خیال ہے؟ سوال:- لیکن عربی جنگجؤں اور آپ کے مقاصد ایک ہی ہیں یعنی افغانستان میں موجود امریکی افواج کے خلاف جنگ۔ اسی لیے آپ پر عربی اور وسط ایشیائی جنگجؤں کی سرپرستی کا الزام بھی ہے۔ جواب:- بات یہ ہے کہ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے اس پورے علاقے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ہم افغانستان کی آزادی تک جہاد ختم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ افغانستان ایک اسلامی ملک تھا لیکن امریکا کی وجہ سے وہ مکمل خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکا کے خلاف جہاد ہی افغانستان میں امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ رہی بات غیر ملکی جنگجؤں کی تو ہم یہ بات نہیں مانتے کہ وزیرستان میں غیر ملکی موجود ہیں۔ لیکن اگر کوئی غیر ملکی مجاہد ہم سے مدد یا پناہ مانگے گا تو ہم کبھی انکار نہیں کریں گے۔
سوال:- سننے میں آیا تھا کہ آپ کا حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت آپ غیر ملکیوں کی حمایت ترک کرنے کے پابند ہیں۔ جواب:- ہمارا حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔ حکومت نے ہم سے یہ تک کہا کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے ایک کیمپ قائم کر دے گی جس میں ان کو تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ حکومت نے ہم سے کہا وہ اس کیمپ میں رہنے والے غیر ملکیوں کو ماہانہ گزارہ الاؤنس بھی دے گی- لیکن یہ شرائط نہ تو ہمیں منظور تھیں اور نہ ہی کسی اور کو۔ سوال:- شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ اپنے فیصلے غیر ملکی جنگجؤں کی مرضی اور مشورے کے مطابق کرتے ہیں۔ جواب:- یہ بالکل غلط ہے۔ جو ہمارے پاس پناہ حاصل کرنے آتا ہے وہ ہمارے فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہمارے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوتی۔ سوال:- اس سے تو یہ لگتا ہے کہ اب آپ کی حکومت کے ساتھ مفاہمت ممکن نہیں رہی۔ جواب:- اصل میں تو حکومت ہمارے سے خوش ہے کیونکہ ہم نے جنوبی وزیرستان میں امن قائم کیا ہے۔ (ہنستے ہوئے) لیکن وہ ڈرتے ہیں کے کہیں ہم یہاں شریعت نافذ نہ کر دیں۔ سوال:- ایسا کوئی ارادہ ہے کیا؟ جواب:- شریعت کے نفاذ کے لیے ایک بڑا علاقہ چاہیے۔ حکومت اور اختیار چاہیے۔ اگر دوسرے علاقے جیسے ڈیرہ اسمعیل خان ، بنوں اور پشاور بھی ہمارے ساتھ ہوں تو پھر ایسا ہو سکتا ہے۔ وزیرستان ایک چھوٹا سا علاقہ ہے اور یہاں ہماری تمام تر توجہ امن کو قائم رکھنے پر ہے۔ سوال:- لیکن ڈیرہ، بنوں اور پشاور میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں داڑھی منڈوانے اور موسیقی سننے کے خلاف دھمکیاں مل رہی ہیں۔ جواب:- یہ کام چھوٹے چھوٹے گروہ کر رہے ہیں۔ آپ ان لوگوں پر زیادہ دھیان نہ دیں۔ وزیرستان میں اس وقت ہر طرح کے لوگ گھسے ہیں۔ ان میں کرزئی حکومت کی ایجنٹ بھی شامل ہیں جن کا کام طالبان کو بدنام کرنا اور ہم پر جاسوسی کرنا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو امریکیوں کو غیر ملکیوں کی وزیرستان میں موجودگی کے بارے میں جھوٹی اطلاعات دیتے ہیں۔ پھر ان اطلاعات کی بنیاد پر پاکستانی فوج یہاں پر حملے کرتی ہے اور ہمیں مجبوراً جوابی کارروائی کرنی پڑتی ہے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو پکڑا ہے۔ سوال:- تو ان کا کیا انجام ہوا؟ جواب:- ایسے لوگوں پر ہم گولیاں ضائع نہیں کرتے۔ ہم انہیں ذبح کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں شمالی وزیرستان: چار اہلکار زخمی25 March, 2006 | پاکستان وزیرستان جرگے کے مطالبات مسترد12 April, 2006 | پاکستان وزیرستان کا سچ معلوم نہیں19 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی ہلاک، 26 فوجی زخمی20 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||