BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: السوری کی ہلاکت کی تصدیق

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ
وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو قبائلی علاقے باجوڑ میں ہلاک ہونے والا شخص القاعدہ کا دھماکہ خیز مواد کا ماہر ابو مروان السوری تھا۔

یہ بات انہوں نے پشاور میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے مختصر بات کرتے ہوئے صرف اس بات کی تصدیق کی کہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والا شخص القاعدہ کے ابو مروان السوری ہی تھے۔ انہوں نے اسے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اڑتیس سالہ ابو مروان دھماکہ خیز مواد کے بموں میں استعمال کے ماہر تھے۔


آفتاب شیرپاؤ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا کہ ابو مروان نے چوکی پر روکے جانے کے بعد خود کو گولی ماری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لیویز پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔

 سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ابو مروان باجوڑ ایجنسی میں ایک چوکی پر فائرنگ کے تبادلے ميں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ اس جھڑپ میں مقامی لیویز فورس کا ایک سپاہی ہلاک اور دو زخمی بھی ہوئے تھے۔
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ابو مروان باجوڑ ایجنسی میں ایک چوکی پر فائرنگ کے تبادلے ميں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ اس جھڑپ میں مقامی لیویز فورس کا ایک سپاہی ہلاک اور دو زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس سے قبل ابو مروان کی لاش کو شناخت کے لئے آج باجوڑ کے صدر مقام خار سے پشاور لایا گیا تھا۔ باجوڑ ایجنسی میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب اس علاقے سے ملحق افغانستان کے کنڑ اور نورستان صوبوں میں امریکی فوجی القاعدہ اور طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی کر رہے ہیں۔

پاکستان نے پہلے ہی اس علاقے میں سرحد کی نگرانی مزید سخت کر دی تھی تاکہ القاعدہ عناصر سرحد پار نہ کرنے پائیں۔

خیال ہے کہ اس سے قبل باجوڑ ایجنسی میں اس سال جنوری میں ڈمہ ڈولہ گاؤں میں تین مکانات پر امریکی بمباری کا ہدف بھی القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ایمن الظواہری کے علاوہ ابو مروان تھے۔ اس حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل ذارئع ابلاغ میں میران شاہ کے قریب ایک کارروائی میں القاعدہ کے ایک اور اہم رہنما عبدالرحمان المہاجر کی ہلاکت کی بھی افواہیں گردش کرتی رہیں لیکن آج بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

باجوڑ ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرےباجوڑ ہلاکتیں
مجلس عمل کی کال پر احتجاجی مظاہرے
قبائلی علاقے کے لوگباجوڑ میں کیا دیکھا
’ملبہ، مرے ہوئے مویشی اور تازہ قبریں‘
اسی بارے میں
وزیرستان جھڑپ: ایک ہلاک
15 April, 2006 | پاکستان
’ایجنسیوں کی قید میں‘
20 April, 2006 | پاکستان
’ دو امریکی جاسوس قتل‘
19 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد