مولانا صادق نور کون ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف گزشتہ چار برسوں سے جاری کارروائیوں کے دوران کئی مقامی قبائلی مزاحمت کار رہنماؤں کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے مولانا صادق نور ان مزاحمت کاروں کی صف میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں کے رہنما کے طور پر نیک محمد، بیت اللہ اور عبداللہ محسود سامنے آئے تھے۔ان میں سر فہرست ستائیس سالہ نوجوان جنگجو نیک محمد تھے جو حکومت کے ساتھ لڑائی اور بعد میں شکئی میں امن معاہدے کے باوجود بچ نہ پائے اور بلا آخر ایک حملے میں مارے گئے۔ ان کی جگہ حاجی عمر نے لی لیکن اس طرح وہ کھل کر حکومت کے سامنے نہیں آئے جس طرح نیک محمد اپنے سخت بیانات کے ساتھ آیا کرتے تھے۔اگرچہ حاجی عمر کو بھی حکومت سے کافی شکایات ہیں جس کا وہ دبے دبے الفاظ میں وقتا فوقتاً صحافیوں سے اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن ذرائع ابلاغ میں نیک محمد کی طرح بیانات کی جنگ سے انہوں نے اب تک اجتناب کیا ہے۔ فوجی آپریشن جب جنوبی وزیرستان میں وزیر قبیلے کے علاقے سے نکل کر محسود عبداللہ کے مقابلے میں قدرے کم قد کے بیت اللہ نے شروع سے میڈیا سے دوری رکھی۔ اب وہ حکومت سے سراروغہ کے مقام پر گزشتہ برس فروری میں امن معاہدے پر دستخط کر کے فوجی حکام سے ’امن کا سپاہی‘ کا لقب بھی پاچکے ہیں۔ ان سب میں ایک بات قدرے مشترک ہے۔ان سب کو القاعدہ کے خلاف جاری کارروائیوں سے قبل اپنے علاقے سے باہر کوئی خاص نہیں جانتا تھا۔یہی بات اب شمالی وزیرستان میں جاری مزاحمت کاروں کے ایک تازہ شخصیت مولوی صادق نور کے بارے میں بھی درست ہے۔
وزیرستان سے باہر کم ہی لوگ ان کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ میران شاہ کے قریب خٹی کلے کے رہنے والے صادق نور کا پس منظر بھی دیگر مزاحمت کاروں سے کوئی خاص مختلف نہیں۔ پینتالیس سال عمر اور تقریباً سفید داڑھی والے صادق نور بھی افغانستان میں جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ بھی کابل کے شمال میں بگرام کے علاقے میں طالبان کی ایک ٹولی کے سربراہ رہ کر وہ شمالی اتحاد کے خلاف لڑ چکے ہیں۔ بعد میں ان پر الزام ہے کہ وہ افغان صوبے خوست میں امریکیوں کے خلاف طالبان کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔ ’جہاد‘ سے ان کی رغبت اسی زمانے سے بتائی جاتی ہے۔ اپنے گاؤں میں تقریباً پندرہ برسوں سے ایک مدرسہ بھی چلا رہے ہیں۔ یہ اس گاؤں کا واحد مدرسہ بتایا جاتا ہے جو کافی پرانا بتایا جاتا ہے۔ ان کے سات بھائی ہیں جن میں کئی تبلیغ یا سکولوں میں بطور استاد مصروف ہیں۔ انتہائی اسلامی سوچ کے مالک بتائے جاتے ہیں۔ پردے کے اتنے پابند ہیں کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک انہوں نے اپنی بھابیوں کو نہیں دیکھا ہے اور نہ ان کے بھائیوں نے ان کی بیوی کو دیکھا ہے۔ شادی شدہ ہیں لیکن اولاد نہیں ہے۔ حکومت کو مطلوب عبداللہ محسود کو تو مجبوری کی وجہ سے گھوڑا ساتھ رکھنا پڑتا ہے تاہم صادق نور کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ شوق کے لئے گھوڑ سواری کرتے ہیں۔ ہر سہ پہر وہ اپنے مدرسے کے ساتھ خشک ندی میں گھوڑ سواری کرتے تھے۔ ان کا پہلی مرتبہ نام گزشتہ برس اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل صفدر حسین نے ذرائع ابلاغ کے سامنے لیا تھا اور انہیں القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب قرار دیا تھا۔ صادق نور کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کافی سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں اور اسلامی کتب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ ان کا روزگار صرف یہی مدرسہ ہے۔ ان کے مقابلے میں حکومت کو گزشتہ دنوں کی بغاوت میں مطلوب مولوی عبدالخالق کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ غیرسنجیدہ ہیں۔ ان کی ہر جمعہ کے خطبے کی کیسٹ بھی بازار میں آتی ہے۔ اس کیسٹ میں ’بش، مشرف اور بجلی کے میٹر کی مخالفت‘ ان کے محبوب ترین موضوعات ہیں۔ صادق نور نے بھی اب تک ذرائع ابلاغ سے اپنے آپ کو دور رکھا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی مزاحمت کے سلسلے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’حملہ ہوا تو جوابی کارروائی ہوگی‘11 March, 2006 | پاکستان بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ12 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں کرفیومیں نرمی12 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں تجارت متاثر09 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی10 March, 2006 | پاکستان میران شاہ:ہلاکتوں کے دعوےاورحقیقت10 March, 2006 | پاکستان ’نئی کارروائی، 25 سے زائد ہلاک‘ 10 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||