BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 March, 2006, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون احتجاج: ہڑتال، ٹرانسپورٹ بند

 ہڑتال
ملک کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سے بھی ہڑتال کی اطلاعات ہیں
یورپی میڈیا میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے لیے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر میں کاروبار، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے بند رہے اور مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔

حزب اختلاف کے ذرائع کے دعوؤں کے مطابق سب سے زیادہ گرفتاریاں کراچی میں ہوئیں جہاں 300 کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیے لیا گیا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں بھی چھبیس مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

ملتان میں جمعہ کے روز ہونے والا احتجاجی مظاہرہ ایم ایم اے کے مرکزی قائدین کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان میں اس روز پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف ہونے والے تمام مظاہروں میں سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ مظاہرے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد مجلس عمل کے دعوؤں کے برعکس توقع سے کم تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مظاہرے میں اڑھائی سے تین ہزار کے درمیان افراد نے شرکت کی۔

ہڑتال کی درخواست متحدہ مجلس عمل، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سمیت حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں اور تحفظ ناموس رسالت محاذ کی بائیس مذہبی جماعتوں نے کی تھی۔ ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ متنازعہ کارٹون چھاپنے والے اخبارات اور ملک مسلمانوں سے معافی مانگیں۔

ملک کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سے بھی ہڑتال کی اطلاعات ہیں۔ کوئٹہ میں پولیس نے چند لوگوں کوگرفتار بھی کیا ہے۔ دوسری طرف صبح سے پنجاب پولیس نے جی ٹی روڈ بند کر کے پشاور سے اسلام آباد جانے والے راستے کو ٹرانسپورٹ کے لیے بند کیا ہوا ہے۔

لاہور میں صبح سے تمام بازار اور دکانیں بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چل رہی جبکہ سڑکوں پر بہت کم تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی نظر آرہی ہیں۔ شہر سے دوسرے شہروں کو جانے والی ویگنیں اور بسیں بھی بند ہیں۔ شہر کے نجی اور سرکاری اسکولوں نے بچوں کو جمعہ کو چھٹی کرنے کے لیے کہا تھا جبکہ سرکاری دفتروں میں بھی حاظری کم رہی اور جو لوگ کام کے لیے آئے ان میں سے بیشتر بھی وقت سے پہلے واپس چلے گئے۔

کراچی میں صبح سے کاروبار ،پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں

کراچی میں صبح سے کاروبار ،پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کی حمایت کی وجہ سے سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل غائب رہی جبکہ رکشہ اور ٹیکسیاں چلتی رہیں۔شہر کے تمام نجی ادارے بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی حاضری کم رہی ۔سپر ہائی وے پر واقع سبزی منڈی کے تاجروں نے بھی ہڑتال میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کئی جگہوں پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق کراچی میں تین سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپنڈی میں بھی ہڑتال کی گئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے اور نجی دفاتر بند ہیں جبکہ زیادہ تر بازار بھی بند رہے۔دونوں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسلام آباد میں امریکی صدر بش کی متوقع آمد کے پیش نظر پہلے ہی سیکیورٹی کے انتظامات نہایت سخت ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں جمعہ کے روز ویسے ہی زیادہ تر بازار بند ہوتے ہیں۔ حزب اختلاف نے اس ہڑتال کے موقع پر مظاہروں کی بھی کال دی تھی مگر اسلام آباد اور راولپنڈی میں ابھی تک کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔

لاہور کے ایس ایس پی آپریشنز عامر ذوالفقار چیمہ کا کہنا ہے کہ شہر میں حفاظتی اقدام کے طور پر پندرہ ہزار پولیس اور تین ہزار سے زیادہ نیم فوجی رینجرز کے جوان تعینات ہیں۔

امریکی ریستورانوں جیسے کےایف سی اور میکڈونلڈ اور غیر ملکی بنکوں جیسے سٹی بنک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس نے انہیں گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ شہر کی کئی عمارتوں کے باہر پولیس تعینات ہے۔

پنجاب کے دوسرے شہروں سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاع ہے گو جمعہ کے روز لاہور اور راولپنڈی کے سوا تمام شہروں میں کاروبار ہفتہ وار تعطیل کے باعث عام طور پر بھی بند رہتا ہے۔ تاہم آج پبلک ٹرانسپورٹ، رکشہ، ٹیکسی اور گڈز ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے مرکز منصورہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس میں پارٹی کے مطابق اس کے سربراہ قاضی حسین احمد نظر بندی توڑ کر شریک ہوں گے۔

سڑکوں پر بہت کم تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی نظر آرہی ہیں

سندھ حکومت نے پہلے ہی جمعہ کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔

ہڑتال کے دن سندھ اسمبلی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس کا اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا۔ اجلاس صبح دس بجے شروع ہوا اور حزب اقتدار نے ڈیڑھ گھنٹے میں ایجنڈہ مکمل کرلیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے اور ہڑتال کی کال کی وجہ سے شہر میں سخت حفاظتی انتظام کیے گئے ہیں اور اہم چوراہوں اور عوام کے اجتماع والی جگہوں پر سیفٹی جیکٹس پہنے ہوئے اہلکار تعینات ہیں۔

بلوچستان میں احتجاج اور ہڑتال

متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے کوئٹہ میں کوئی چھبیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ان مظاہروں کے لیے اپیل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کی تھی۔ اس موقعہ پر مقررین نے اس موقع پر متنازعہ خاکوں کے اشاعت کی مذمت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جارج بش کے دورہ پاکستان اور استقبال پر شدید تنقید کی ہے۔

اسی طرح کے مظاہرے کوئٹہ کے علاوہ افغانستان کی سرحد پر واقع شہر چمن، ساحلی علاقے جیسے گوادر پنجگور اور ادھر ژوب لورالائی وغیرہ میں منعقد کیے گئے ہیں۔

گوادر اور چمن کے مظاہروں میں چار سے پانچ ہزار افراد نے شرکت کی ہے جبکہ یہاں کوئٹہ میں ڈیڑھ سے دو ہزار افراد میزان چوک پر اکٹھے ہوئے اور سخت نعرہ بازی کی۔

گوادر کے مظاہرے میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قوم پرست جماعتوں نے بھی شرکت کی ہے۔

آج صوبے کے بیشتر علاقوں میں دکانیں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں۔ کوئٹہ میں سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر مجیب الرحمان نے کہا ہے کہ چھبیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ پتھراؤ اور بعض مقامات پر زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

مظفرآباد میں بھی ہڑتال اور احتجاج

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں بھی دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔

زلزے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر مظفرآباد میں جمعے کے روز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے طور پر دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے قدرے کم تھی ۔

اس موقع پر مختلف اوقات میں بعض مذہبی جماعتوں کی طرف سے سے الگ الگ مظاہرے کئے گئے ۔

ان مظاہروں میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف نعرہ درج تھے اور وہ نعرہ بازی بھی کررہے تھے ۔

جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ کے سینکڑوں طالب علموں نے بھی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں درجنوں افراد کفن پوش تھے ۔

زلزے سے دوسرے متاثرہ ضلع باغ سے بھی یہ اطلاع ہے کہ باغ شہر میں بھی بازار بند رہے اور احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ کشمیر کے اس علاقے کے دوسرے اضلاع سے اطلاعات ہیں کہ وہاں کاروبار زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا البتہ چند ایک قصبوں میں ہڑتال ہوئی۔

’نقصان اپنا ہی ہوا‘
کاروباری طبقہ پرامن مظاہروں کا خواہشمند
طالب علمکارٹون احتجاج
ایم ایم اے احتجاج کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد