حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کا مستقبل کیا ہے

ٹی ٹی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان نرم گرم حالات ایک عرصے سے جاری ہیں اور بعض تجزیہ کار اس ساری صورتحال کو انگریزی کے ایک محاورے ایک قدم آگے دو قدم پیچھے سے تعبیر کر رہے ہیں۔

حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان لگ بھگ دو ماہ سے مذاکرات، فائر بندی اور فائر بندی کے خاتمے کے بیانات ہی آ رہے ہیں اور تاحال مذاکرات کو یکسر مسترد بھی نہیں کیا جا رہا۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے پانچ جنوری کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات معطل ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔

مذاکرات، فائر بندی اور پھر تشدد، یہ کیا ہے؟

سکیورٹی تجزیہ کار اس ساری صورتحال کے بارے میں کوئی زیادہ پر امید نہیں ہیں بلکہ ان کا موقف ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان یہ حالات کچھ عرصہ تک یوں ہی جاری رہ سکتے ہیں۔

سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ فروری 2021 سے شروع ہو گیا تھا اور اس میں اہم کردار افغان طالبان ہی ادا کر رہے تھے۔ اس کا آغاز بنیادی طور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے کچھ اہم قبائلی رہنماؤں نے کیا تھا اور پھر افغان طالبان کو اس میں شامل کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس 25 اکتوبر کو ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی جس میں طالبان نے 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، ان میں پانچ قیدی انتہائی اہم تھے۔ پاکستان نے کچھ قیدی رہا بھی کیے تھے لیکن ان میں سے تین قیدیوں کو پاکستان نے پشاور میں رکھنے کا کہا لیکن طالبان قیدیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مشاق یوسفزئی کے مطابق اب اگرچہ مذاکرات معطل ہیں لیکن اب بھی کچھ قبائلی رہنما ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

اس بارے میں شدت پسندی کے واقعات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی میں بظاہر اس طرح کی دھڑے بندی ہے کہ ایک گروہ چاہتا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں اور دوسرا دھڑا سخت مزاج ہے جو افغان طالبان کو رول ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان بر سر اقتدار آ سکتے ہیں تو پاکستان میں بھی ان کے خیال میں ایسا ہو سکے گا۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی اپنی اخباری کانفنرس میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی میں دھڑے بندی ہے۔ اس کے بر عکس ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے بیان میں اس تاثر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ تحریک طالبان متحد ہے اور ان کی عملی کارروائیاں اسی کا مظہر ہیں۔

کیا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے حکومت پر کوئی دباؤ ہے؟

کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا اعلان باقاعدہ طور پر وزیر اعظم عمران خان نے ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت کی جانب سے کوئی واضح بیان نہیں آیا۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے گزشتہ روز پہلی مرتبہ ان مذاکرات کے بارے میں وضاحت سے بتایا گیا ہے۔ لیکن بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے سلسلہ کے آغاز کے بعد سے حکومتی خاموشی کی وجہ حکومت پر دباؤ قرار دیا گیا ہے اور بعض کے مطابق حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی۔

حسین شہید سہرودی کے مطابق پاکستان حکومت پر سول سوسائٹی کا دباؤ ہے اور چونکہ اس وقت حکومت کو اقتصادی مسائل کا بھی سامنا ہے اور ٹی ٹی پی کی کارروائیاں بھی لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہیں اور ایسی حالت میں اگر حکومت کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس سے حکومت کے لیے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

بابر افتخار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کی اخباری کانفرنس میں ٹی ٹی پی کے بارے میں کہا گیا کہ ان سے مذاکرات معطل ہیں اور ان کے خلاف آپریشنز جاری ہیں

ان کا کہنا تھا اس وقت حکومت اور طالبان دونوں پر سخت دباؤ ہے اور یہ دباؤ منفی نوعیت کا ہے یعنی ان مذاکرات سے کوئی مثبت نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی۔

مشتاق یوسفزئی کے مطابق حکومت پر عالمی سطح پر کوئی دباؤ نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیے جائیں یا نہ کیے جائیں جبکہ اندرونی طور پر ان مذاکرات کے لیے کچھ سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جہاں تک سول سوسائٹی کی بات ہے اور آرمی پبلک سکول کے بچوں کے والدین کی تو حکومت اس بارے میں فکر مند ضرور تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبان کی شرائط تسلیم کر سکتی تھی لیکن چونکہ فائر بندی نو دسمبر تک ہونا تھی اور پھر 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر حملے کے واقعہ کو سات سال پورے ہونے تھے، اس لیے ایسے وقت میں اہم طالبان رہنماؤں کو رہا کرنا حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔

حکومت اور طالبان کے اپنے اپنے موقف

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کی اخباری کانفرنس میں ٹی ٹی پی کے بارے میں کہا گیا کہ مذاکرات معطل ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف آپریشن جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا کہ ’ٹی ٹی پی سے سیزفائر نہیں ہے اور یہ کہ ہم تب تک لڑتے رہیں گے جب تک اس ناسور سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیں۔‘

انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’آپ کو معلوم ہے سیزفائر معاہدہ نو دسمبر کو ختم ہو گیا تھا۔ جہاں تک مذاکرات کی بات ہے تو وہ ابھی معطل ہیں، اور آپریشن جاری ہیں۔ یہ موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر ان غیر ریاستی عسکریت پسند عناصر کے ساتھ بات چیت کرنا اعتماد بڑھانے کی ایک کوشش تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگست کے بعد نئی عبوری افغان حکومت کو پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس اخباری کانفرنس کے بعد جمعرات کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی تنظیم میں کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں ہیں اور مشکل حالات سے گزرنے کے بعد وہ متحد ہو چکی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ان کی تنظیم بڑے حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ایک سال میں انھوں نے متعدد حملے کیے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جنگ اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے کچھ حلقے ان مذاکرات کے حق میں ہیں اور ملک میں مکمل امن چاہتے ہیں جبکہ سول سوسائٹی اور کچھ حلقے ان مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حسین شہید سہروردی کے مطابق انھیں نہیں لگتا کہ مذاکرات مکمل کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اگر مذاکرات شروع بھی ہو جائیں تو ان کی کامیابی کے آثار کم ہی ہیں کیونکہ دونوں فریق ان مذاکرات کو اپنی اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں اور کسی جانب سے بھی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘ والے حالات جاری رہیں گے۔ حسین شہید سہروردی نے کہا کہ اگر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے افغان طالبان کوئی مضبوط موقف کے ساتھ ٹی ٹی پی کو راضی کریں تو اس سے حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔

مشتاق یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان نے اہم کردار ادا کیا اور ان میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا کلیدی کردار ہے۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ان میں بڑی تعداد ایسی ہے جن کی مقامی سطح پر دشمنیاں ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے چند ایسے بھی ہیں حکومت نے جن کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی ہے اور ان کے خلاف مقدمے درج ہیں جن پر کارروائی ہونا ہے، تو یہ سب مسائل کیسے حل ہوں گے؟

پاکستان میں کچھ قبائلی رہنما جو حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوششیں اب بھی جاری ہیں اگرچہ سرحدی علاقوں میں موسم کی شدت ہے اور برف باری کے بعد رسائی مشکل ہے لیکن قبائلی رہنما اپنے طور پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔