سراج الدین حقانی کی ’ثالثی‘ میں پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان خوست میں امن مذاکرات: رپورٹ

طالبان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, بی بی سی فارسی رپورٹ
    • عہدہ, لندن

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبہ خوست میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی ’ثالثی‘ میں پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات دو ہفتوں سے جاری ہیں۔

پاکستان کے حکومتی ذرائع نے پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے پہلے دور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک وفد پاکستانی طالبان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے افغانستان گیا ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کا مستقبل اسلام آباد میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

سراج الدین حقانی طالبان کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر ہیں، جن کا ہیڈ کوارٹر مشرقی افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے اور وہ امریکی پولیس کے ’انتہائی مطلوب‘ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان نے ان مذاکرات پر ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فریقین کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں میں رابطے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے ایک مقامی اخبار میں جمعے کو یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی حمایت یافتہ طالبان کے ساتھ بات بات چیت کی ہے، جس کی ثالثی طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ کے مطابق ’پاکستانی طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو اعتماد سازی اور جنگ بندی کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔‘

خبررساں ادارے روئٹرز کو بھی متعدد ذرائع سے ان مذاکرات کی اطلاع ملی ہے تاہم افغان طالبان کے ایک ترجمان نے بھی اس بارے میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

تحریک طالبان پاکستان نے بھی ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ تو نہیں کیا لیکن پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مارچ میں پاکستانی حکومت اور ان کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی ترک خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروپوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو انھیں معاف کر دیا جائے گا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہو گی۔

واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان زیادہ تر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق گزشتہ سال تحریک طالبان پاکستان نے ملک میں 95 حملے کیے تھے، جن میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس سال کے پہلے چھ ماہ میں مزید 44 حملے کیے گئے۔