عمران خان کا تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات پر ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو: ’پاکستانی طالبان سے بات ہو رہی ہے، نہیں جانتے کہ نتیجہ خیز ہوگی یا نہیں‘

،تصویر کا ذریعہTRT World
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے مذاکرات کی تصدیق اور معاف کرنے کی پیشکش کے بعد سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں ردِ عمل آ رہا ہے۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم وہ اس بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ 'معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔‘
عمران خان نے انٹرویو میں مزید کیا کہا؟
عمران خان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ ہماری حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔‘
اس سوال پر کہ کیا یہ بات چیت ان کے ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ’مفاہمتی عمل‘ کے بارے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ’ہم انھیں معاف کر دیں گے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ ’معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں‘ ہیں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہیں تاہم یہ ممکن ہے کہ پاکستانی طالبان سے بات چیت ’نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا افغان طالبان اس عمل میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملے کیوں کر رہی ہے، تو عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل
صحافی محمد زین نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے ہر مذہب، مسلک، قومیت اور سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے 70 ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ سابقہ فاٹا کے لوگ سب سے زیادہ ان حملوں سے متاثر ہوئے۔ اُن لوگوں کی بات سننے کے بجائے وزیرِ اعظم اِنھیں معاف کرنا چاہتے ہیں۔
اُنھوں نے لکھا کہ ریاستی بیانیے کے مطابق این ڈی ایس اور را ٹی ٹی پی کے پیچھے ہیں۔ ایسے میں جب افغانستان کی غیر موزوں حکومت ختم ہوئی ہے اور انڈیا کی معیشت بہتر نہیں ہے تو ہم اپنے بدترین دشمن کو معاف کر رہے ہیں۔ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@zain175
ساجد فاروقی نے لکھا کہ ٹی ٹی پی نے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو قتل کیا مگر اے پی ایس سانحے کے بعد ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن ہوا۔ تب تک ریاست ہچکچا رہی تھی جو ایک افسوسناک حقیقت ہے۔
اُنھوں نے لکھا کہ کوئی بھی معاہدہ بے فائدہ کوشش ہو گی کیونکہ نظریہ کسی بھی معاہدے پر سبقت لے جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@saj_farooqi
ایک صارف گلمینے نے کہا کہ مجھے تو لگا تھا کہ ٹی ٹی پی کو را کی فنڈنگ حاصل ہے۔ ہم کسی ایسے دہشتگرد گروہ کو کیسے معاف کر سکتے ہیں جو انڈیا نواز ہو؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@gulmeenay
تاہم کچھ لوگ عمران خان کے اس بیان کی حمایت بھی کرتے نظر آئے۔
صارف عدیل احسن نے لکھا کہ حکومت کو پاکستان میں امن کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے چاہییں اور اس کے لیے اُنھیں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے بھی بات کرنی چاہیے۔ جب امریکہ طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو پاکستان ٹی ٹی پی کے ساتھ کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@syedadeelahsan
اس دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ریاست کو ایسے لوگوں کو موقع دینا چاہیے کہ وہ زندگی کے دھارے میں واپس آ سکیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے آج جو اُصول وضع کیے ہیں جن پر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں، وہ یہی اُصول ہے کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اُن لوگوں کو جو اپنے مخصوص حالات کے پیشِ نظر پاکستان کے راستے سے جدا ہوگئے تھے اُن کو واپس راستے پر لایا جا سکے اور وہ پاکستان کے ایک عام شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل
حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اس پر اپنا واضح موقف دے چکے ہیں کہ حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم پاکستان تحریک طالبان کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کی ایسی کوئی بھی کوشش دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے ہزاروں پاکستانی افراد کی توہین کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوشش ان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں، سکیورٹی فورسز کے جوان و افسران اور آرمی پبلک سکول پشاور کے درجنوں معصوم بچوں کی توہین ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی بھی بیان دینے سے قبل وزیر اعظم عمران خان کو پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا اور یہ صورتحال ایوان کے سامنے رکھنی چاہیے تھی کہ حکومت ایسا ارادہ رکھتی اور اس پر پارلیمان اپنی رائے دیتی۔‘
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت سمجھتی ہے کہ افعانستان کی صورتحال پر فوراً پارلیمان کا اجلاس بلایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال اور اس کا ایک پڑوسی ملک ہونے کے باوجود حکومت نے ابھی تک اس پر اجلاس نہیں بلایا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی رائے نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
’معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے‘
واضح رہے کہ یہ چند ہفتوں کے دوران دوسرا موقع ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کو معافی دینے کی پیشکش کی بات کی گئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا گیا تھا کہ اگر تحریک طالبان کے شدت پسند اپنی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے تاہم وزیر خارجہ نے اس وقت طالبان سے کسی قسم کی بات چیت کی تصدیق نہیں کی تھی۔
شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے ردعمل میں تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کی جانب سے معافی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں ’دشمن کو‘ معافی دینے کی مشروط پیشکش کی تھی۔
ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاد‘ نہ کرنے کے وعدے پر معافی ان کے لیے بے معنی ہے کیونکہ 'معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے جبکہ ہماری جد و جہد کا مقصد پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔'

پاکستان کے سیکولر رہنماؤں اور فوجی قیادت کو مخاطب کر کے ٹی ٹی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔ '
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 'ملک میں شرعی نظام نافذ کرنے کا وعدہ یا ارادہ کیا جائے تو ہم اپنے دشمن کے لیے معافی کا اعلان کر سکتے ہیں۔'
کیا تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا صحیح ہو گا؟
شاہ محمود قریشی کی اس پیشکش کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز سنگاپور سے تعلق رکھنے والے محقق عبدالباسط کا کہنا تھا کہ 'امن مذاکرات تنازعات کو حل کرنے کا حتمی طریقہ ہے لیکن ابھی مذاکرات کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ '
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پاکستان کو دہشت گردی کی موجودہ لہر پر قابو پانا ہوگا اور ایک مضبوط پوزیشن میں آ کر بات کرنی ہوگی۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسے میں جب افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے اسلام پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ بہت غلط اشارہ دے گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'پاکستان کو دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کے مسئلے پر کیسے آگے بڑھے گا۔'










