افغانستان میں طالبان: پاکستان میں ’روپوش‘ افغان گلوکار جنھوں نے طالبان کے ڈر سے افغانستان چھوڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی ، اسلام آباد
’اگر طالبان نے مجھے ڈھونڈ لیا تو وہ بغیر کسی پوچھ گچھ کے مجھے مار دیں گے۔‘
خدشات اور خوف سے بھرے یہ الفاظ ہیں افغانستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے ایک افغان گلوکار کے ہیں جو افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد غیر قانونی راستوں کے ذریعے حال ہی میں پاکستان پہنچے ہیں۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد متعدد افغان گلوکاروں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا جن میں سے کئی ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوئے تاہم اب بھی چند گلوکار وہاں سے نکلنے کی راہیں تک رہے ہیں۔
غیر قانونی راستوں کے ذریعے پاکستان پہنچنے والے چھ گلوکاروں سے بی بی سی نے بات چیت کی ہے جو اب مختلف شہروں میں روپوش ہیں۔
افغانستان پر طالبان نے قبضہ حاصل کرنے کے بعد وہاں موسیقی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان پر 27 اگست کو شمالی صوبے بغلان کے ضلع اندراب میں ایک مقامی لوک گلوکار کو مارنے کا الزام ہے۔
لوک گلوکار فواد اندرابی کے بیٹے جواد نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ان کے والد کو وادی اندراب میں ان کے فارم ہاؤس میں سر پر گولی مار کر قتل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خان (فرضی نام) پچھلے 20 برس سے کابل میں مقیم تھے اور وہاں شادی بیاہ کے پروگرامز میں گاتے تھے۔ افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں شادی کی تقاریب میں اکثر گلوکاروں کو مدعو کیا جاتا ہے اور موسیقی کے پروگرامز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے پچھلے دور حکومت میں بھی موسیقی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن 2001 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ان کا کاروبار اچھا چل رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ طالبان کے قبضے سے پہلے خان اور دیگر کئی گلوکاروں کو صورتحال پر اتنی تشویش نہیں تھی اور بقول ان کے انھوں نے سنا تھا کہ اب طالبان بدل چکے ہیں اور شاید موسیقی پر پہلے جیسی پابندی نہ لگائیں۔ لیکن 15 اگست کو کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ ’نہیں ہم غلط تھے۔‘
خان نے بتایا کہ طالبان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے کے ایک رات بعد متعدد مسلح افراد نے رات 12 بجے ان کے دفتر گھس کر آلات موسیقی توڑ دیے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے کہا کہ ’آدھی رات کو میرے دفتر کے محافظ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ کچھ لوگ بندوق لے کر آئے اور تمام آلات توڑ دیے، وہ اب بھی یہاں موجود ہیں اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔‘
گلوکار خان اپنی خاندان کے ساتھ اگلی صبح سویرے کابل سے روانہ ہوئے اور قندھار کے راستے پاکستان پہنچے اور اب ان سمیت پاکستان آنے والے دیگر افغان گلوکار پاکستان سے باہر پناہ لینے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حسن (فرضی نام) ایک اور گلوکار ہیں جو پاکستان کے ایک شہر میں رہ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ’اگر طالبان ان کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے تو انھیں وہیں پر مار دیا جاتا۔‘ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے افغان فوج کے حق میں ایک گانا بھی گایا تھا اور وہ خود بھی طالبان کے سخت ترین مخالفین میں سے ہیں۔
حسن کے مطابق طالبان کے آنے کے بعد انھوں اپنا خاندان چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا جبکہ ان کا خاندان وہیں پر ہے۔
سقوط کابل سے پہلے ہی جب طالبان کسی بھی شہر پر قابض ہوتے تو مقامی ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں میں موسیقی پر پابندی لگاتے تھے۔ کئی علاقوں میں طالبان نے سرکاری ٹی وی آر ٹی اے کا نام تبدیل کر کے شریعت ژغ رکھ لیا تھا اور وہاں موسیقی کی جگہ طالبان کے ترانے، نعت اور تلاوت قرآن نشر کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسعود سنجر جو موبی گروپ آف کمپنیز کے ڈائریکٹر ہیں مشہور افغان چینل طلوع نیوز سمیت کئی ریڈیو چینلز چلاتے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے ریڈیو اور ٹی وی پر موسیقی نشر کرتے تھے لیکن طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب موسیقی نشر کرنے پر پابندی لگ چکی ہے۔‘
مسعود سنجر کے مطابق اُن کے گروپ کا ایک ایف ایم چینل تھا جو 24 گھنٹے موسیقی نشر کرتا تھا لیکن اب وہ بند ہے۔ اُن کے مطابق ’اس وقت ہمارے ایک تفریحی چینل پر صرف طالبان کے ترانے اور نعتیں نشر ہو رہی ہیں۔‘
اختر (فرضی نام) ایک اور گلوکار ہیں جو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پانچ خاندانوں کے ساتھ افغانستان چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ایک خطرناک سفر کیا ہے۔‘ ان کے مطابق پشاور پہنچنے کے لیے انھیں پانچ دن سفر کرنا پڑا۔
ان کے مطابق اس سفر میں اُنھیں اپنی سات سالہ بیٹی کی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش تھی، کیونکہ اُن کے بیٹی کے دل میں سوراخ ہیں۔ ’پورے راستے میں اپنے لیے پریشان نہیں تھا، مجھے اپنی بچی کی فکر تھی۔‘











