’شمالی وزیرستان کے شوریٰ مجاہدین گروپ کا 20 روزہ فائربندی کا اعلان‘، ٹی ٹی پی کی تردید

تحریک طالبان پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ، پشاور

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستانی طالبان سے بات چیت کے عمل کی تصدیق کے بعد قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں سرگرم مسلح گروپ شوریٰ مجاہدین کی جانب سے یکم اکتوبر سے 20 دن کے لیے فائر بندی کا اعلان کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ بات چیت میں کامیابی ہوئی تو فائر بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

شوریٰ مجاہدین شمالی وزیرستان میں متحرک ایک مسلح گروپ ہے جس کی قیادت حافظ گل بہادر کر رہے ہیں جو سنہ 2007 میں شمالی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مقرر ہوئے تھے تاہم اطلاعات کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے حوالے سے پالیسیوں سے اختلاف کے باعث تنظیم سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تنظیم نے کہیں بھی فائر بندی کا اعلان نہیں کیا اور بامعنی مذاکرات سے متعلق ہماری پالیسی واضح ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری تنظیم کی اجتماعی پالیسی ہے اور اس سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے۔

تاہم اس کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا تھا کہ ’معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔‘

،ویڈیو کیپشنسیربین: افغانستان میں طالبان کی واپسی کیا پاکستان کے قبائلی اضلاع کو بھی متاثر کر رہی ہے؟

فائر بندی کا فیصلہ کس نے کیا؟

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ فائر بندی کا فیصلہ شوریٰ مجاہدین کے دو سرکردہ رہنماؤں صادق نور اور صدیق اللہ نے کیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے ایک اہم قبائلی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور موجودہ فائر بندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید گروپس کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ شوریٰ مجاہدین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ایک ماہ سے جاری تھا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور جمعہ کو اس کا اعلان کیا گیا ہے۔ قبائلی رہنما نے بتایا کہ ان علاقوں میں مقامی رہنما امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر فائر بندی یا مسلح تنظیم سے مذاکرات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان سے ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہونے والے طالبان گروپس سے بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔

جماعت الاحرار، حزب الاحرار کے علاوہ شہریار محسود گروپ اور دیگر گروہوں نے گذشتہ سال اگست میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہو کر کالعدم تنظیم تحریک طالبان میں ضم ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے مسلح تنظیم کے حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔

شمالی وزیرستان کی شوریٰ مجاہدین کی تنظیم کی فائر بندی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ترک ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کو انٹرویو میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی بات کی ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم وہ اس بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

یہ بھی پڑھیے

حافظ گل بہادر کون ہیں؟

شمالی وزیرستان میں متحرک حافظ گل بہادر گروپ اس وقت منظر عام پر آیا جب حافظ گل بہادر نے بیت اللہ محسود کی سربراہی میں قائم کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

شدت پسند، تحریک طالبان پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیت اللہ محسود جب 2007 میں تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے تو اس وقت حافظ گل بہادر کو شمالی وزیرستان میں نائب امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حافظ گل بہادر کو ٹی ٹی پی کی پالیسیوں خاص طور پر پاکستان کے اداروں پر حملوں سے اختلاف تھا۔

حافظ گل بہادر افغانستان میں روس کے حملے کے بعد مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے تھے۔

حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے 2001 میں 4000 رضا کارں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔

حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کا زیادہ مخالف نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔

اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے سات سال کے بعد ایک مرتبہ پھر حکومت اب ان تنظیموں سے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔