خیبرپختونخوا میں شدت پسندوں کی بڑھتی کارروائیاں: پاکستان کے قبائلی اضلاع میں ہو کیا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تحریک طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان افغانستان کے صوبہ خوست میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی 'ثالثی' میں مذاکرات کی اطلاعات ایسے وقت میں آ رہی ہیں جب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی رپورٹس تواتر سے موصول ہو رہی ہیں۔
اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ نظر آیا ہے، اور ان واقعات میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے، لکی مروت میں چار پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعے میں ہلاکت یا چند روز قبل بنوں میں محکمہ جنگلات کے عہدیدارں کا اغوا، ضلع بنوں کی پولیس افسر عمران شاہد کے قافلے پر حملہ اور پشاور میں سکھ حکیم کے قتل اور ٹریفک پولیس پر حملے شامل ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران لگ بھگ ایک درجن سے زیادہ ایسے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان واقعات میں ٹی ٹی پی کے ترجمان نے سکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران اہلکاروں کے حصار سے نکلنے والے کمانڈروں کا ذکر بھی کیا ہے اور ایسے افراد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو سکیورٹی فورسز کے لیے کام کر رہے ہیں یا کرتے رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور پاکستان حکومت کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود گذشتہ سنیچر کو اس کالعدم تنظیم کے ترجمان نے شمالی وزیرستان کی تحصیل گڑیوم میں سکیورٹی فورسز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اس نوعیت کے واقعات ایک مرتبہ پھر اسی شد و مد سے رپورٹ ہو رہے ہیں جیسے سنہ 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب سے پہلے تشدد کے واقعات رپورٹ ہو رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہو سکتا ہے سرحد پار سے کچھ لوگ پاکستان میں داخل ہو گئے ہوں‘
بی بی سی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری سے گفتگو کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ خدشات ضرور تھے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے جانے کے بعد پاکستان میں حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں لیکن پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بہتر منصوبہ بندی سے ان واقعات میں صرف چند فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سرحد پار سے کچھ لوگ پاکستان میں داخل ہو گئے ہوں، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکنا ہیں اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے اور جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے اس کے بعد سے پاکستان میں تشدد کے واقعات بڑھے ہیں لیکن یہ اضافہ اتنا نہیں جتنا طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے وقت کہا جا رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی تھیں اور چند افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان حملوں کی ذمہ داری کون قبول کر رہا ہے؟
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق بظاہر جو گروپ ایسے حملوں کی علی اعلان ذمہ داریاں قبول کرتا ہے وہ دوسری بات ہے اور تفتیش کے بعد یہ معلوم کرنا کہ کون سا گروپ درحقیقت ان میں ملوث ہے وہ الگ بات ہے۔
’ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی ہے اور بعد میں معلوم ہوا کہ کوئی دوسرا گروپ بھی اس کی ذمہ داری لے رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ رواں برس کے پہلے دس ماہ میں 17 پولیس اہلکاروں یا سویلینز کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے تعداد کا انھیں علم نہیں ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال کچھ زیادہ تشویشناک نہیں ہے۔
ٹی ٹی پی اور داعش کتنی متحرک ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے بتایا کہ داعش اور ٹی ٹی پی کے چند ایک لوگ موجود ہیں یا ایسا کہیں کہ بچے کھچے لوگ ہیں، کوئی زیادہ تعداد یا بڑے گروہ بالکل نہیں ہیں اور یہ کوئی زیادہ متحرک نہیں ہیں اور یہ کبھی کبھار کوئی ایک آدھ واردات کر جاتے ہیں لیکن کوئی بڑی کارروائی نہیں کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ چند ایک لوگ ان بڑے جتھوں سے بچے ہوئے ہیں اور ان کا اپنا ایک نظریہ ہے اور شاید ان کے سلیپرز سیل ہے، لیکن یہ غیر فعال ہیں اور حکومت اور سکیورٹی ادارے مستعد ہیں اور ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
قبائلی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟
آئی جی کے پی کے مطابق افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد افغانستان کی جیلوں سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا اور ان میں ضرور ٹی ٹی پی کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ماضی میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔
’ان لوگوں نے پاکستان آنا تھا اور اس کے لیے سرحد پر باڑ سے بڑی حد تک ان کو روکا گیا لیکن پھر بھی زیرو انٹری نہیں تھی۔۔۔ کچھ لوگ شاید سرحد عبور کر کے پاکستان داخل ہو گئے ہوں گے۔ ان لوگوں کے آنے سے کچھ واقعات پیش آئے ہیں اور اس میں نقصان ہوا ہے لیکن اس پر جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان حملہ آوروں کا نقصان ہوا ہے اور انھیں ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں داعش کتنی سرگرم ہے؟
ضلع خیبر میں چند روز پہلے انسداد دہشت گردی کی فورس، سی ٹی ڈی، نے چھاپے کے دوران ایک مکان سے چار شدت پسندوں کا گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کا تعلق القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں سے ہو سکتا ہے۔ ان افراد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔
اسی طرح کی ایک کارروائی پشاور میں بھی ہوئی جس میں چند ایک افراد گرفتار اور کچھ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اس بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری سے جب پوچھا یا کہ ان تنظیموں میں کون لوگ ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں مقامی پاکستانی یا افغان افراد ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی طور پر ان افراد کی پشت پناہی دشمن انٹیلیجنس ایجنسیز کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں میں ایسے کم فہم لوگ ہیں جو کسی بھی ملک سے ہو سکتے ہیں لیکن ان کا استعمال کرنے والے لوگ پاکستان کے دشمن ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بہت سارے ایسے واقعات میں جو گرفتار ہوئے ہیں تو اس کے تفتیش میں یہی معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف متحرک ایجنسیز کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافیوں کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں ٹارگٹ کلنگ کے 170 کے لگ بھگ واقعات پیش آئے ہیں جس میں 180 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سال اب تک 54 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
یہ واقعات اب جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند اور دیگر علاقوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔












