افغان طالبان کی واپسی: کیا پاکستان کے قبائلی اضلاع بھی افغانستان کی صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں؟

فاٹا
    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پشاور کے نزدیک ایک گاؤں میں 19 اگست کو دن بھر چوکیداری کرنے کے بعد 17 سالہ اسرار (فرضی نام) محوِ خواب تھے جب رات گئے ان کا فون بجا۔ لیکن اس فون کال پر ملنے والے پیغام نے نہ صرف ان کی نیند اڑا دی، بلکہ وہ شاید اب عمر بھر اس کال کو نہیں بھول پائیں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہنگو میں قائم ضلع اورکزئی کے ضلعی صدر دفتر کے باہر کی گئی اس ملاقات میں اسرار نے مجھے اس کال کے بارے میں مزید بتایا۔

'میں تو سو رہا تھا۔ رات کے قریب دو بجے اس فون کال سے میری آنکھ کھلی۔ میرے چھوٹے بھائی نے مجھے اطلاع دی کہ چند افراد ہمارے گھر میں گھس گئے اور انھوں نے ہمارے والد کو گھسیٹ کر گھر سے باہر نکالا اور انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ بس فوراً گھر واپس پہنچو۔'

اسرار کو جہاں بلایا جا رہا تھا وہ اورکزئی ضلع کے بالائی حصے میں واقع تھا اور پشاور سے چھ گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ اپنے گھر پہنچ سکے۔

مئی 2018 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو جانے والے فاٹا یعنی قبائلی علاقے کی ساتوں ایجنسیوں (باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان) کو اب ضلعی حیثیت مل چکی ہے جہاں کے انتظامی امور پولیٹیکل ایجنٹ کے بجائے ڈپٹی کمشنر کے ذمے ہیں۔

دبلی پتلی جسامت پر سیاہ رنگ کی شلوار قمیض پہنے اسرار اپنے والد کی موت کے بعد 'شہدا پیکیج' حاصل کرنے ضلع اورکزئی کے ڈپٹی کمشنر محمد خالد سے ملنے ان کے دفتر آئے ہوئے تھے جہاں چند روز قبل میری ان سے ملاقات ہوئی۔

'میرے والد اورکزئی میں اپنی دکان چلاتے تھے۔ وہ قوم کی خدمت کرتے تھے، وہ علاقے کے لوگوں، اور بالخصوص اورکزئی میں واپس آنے والے خاندانوں کی مدد کرتے تھے لیکن انھیں ہلاک کر دیا گیا۔ اور جنھوں نے ایسا کیا ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کے لیے مخبری کرتے تھے، علاقے کے سب سے بڑے مخبر تھے۔'

اسرار کے والد کی ہلاکت کے تین دن بعد فیس بک پر مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس قتل کے پیچھے اُن کا ہاتھ ہے، کیونکہ اسرار کے والد 'پاکستانی فوج کے لیے مخبری' کرتے تھے۔

لیکن اسرار کو اس بات پر یقین نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں ’نہ تو ان کی کسی کے ساتھ دشمنی تھی، نہ ہی کوئی ایسی اور بات جو انھوں نے کبھی گھر پر بتائی ہو۔ ہمیں تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔ وہ تو بس اپنی دکان چلاتے، اور حکومت سے بات کر کے علاقے والوں کی مدد کرتے تھے۔ وہ تو یہاں کے مشران (بڑوں) میں سے ایک تھے۔‘

BBC
اعداد و شمار

اسرار کے والد پر کیا گیا حملہ اپنی نوعیت کا ایسا اکلوتا معاملہ نہیں ہے۔

اسلام آباد میں واقع خود مختار تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کی جانب سے جمع کی گئی معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق اس برس صرف اگست کے مہینے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور داعش جیسی تنظیموں کی جانب سے کم از کم 19 حملے کیے گئے۔

گذشتہ برسوں میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے متعدد آپریشنز کے نتیجے میں اس کالعدم تنظیم کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اس طرح کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

تاہم اگست 2020 کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر نور ولی محسود نے شدت پسند تنظیموں کے نو مختلف دھڑوں کو ٹی ٹی پی میں ضم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اس کے نتائج اگلے چند ماہ میں نظر آنے لگے۔

پپس کی جانب سے جمع کی گئی معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس پاکستان بھر میں ٹی ٹی پی نے 95 حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں سے 79 صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے۔

مگر سال 2021 شروع ہونے کے بعد حالات میں تبدیلی ہوتی نظر آئی۔ بالخصوص افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے آغاز اور پھر حکومت میں آنے کے بعد سے پاکستان میں ایسے پرتشدد واقعات میں بہت تیزی دیکھی جا رہی ہے جن میں سے اکثریت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

پپس کے مطابق 2021 کے ابتدائی چھ مہینوں میں جہاں تحریک طالبان پاکستان نے 44 حملوں کا دعویٰ کیا تھا، وہیں یکم جولائی سے لے کر 15 ستمبر یعنی ڈھائی ماہ میں ایسے حملوں کی تعداد 53 ہے جن میں ٹی ٹی پی نے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو شدید جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

صرف اگست 2021 میں تحریک طالبان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو شمار کریں تو ان کے مطابق اگست میں مبینہ طور پر 32 حملے کیے گئے جن میں کل 52 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کالعدم تنظیم کے دعوؤں کے مطابق مبینہ طور پر ستمبر کے مہینے کی 15 تاریخ تک کم از کم 19 حملوں میں کم از کم 53 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پپس کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں 158 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں مبینہ طور پر ایک واضح اکثریت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، تاہم پاکستانی عسکری حکام ان دعووں کی تردید کرتے رہے ہیں۔

لیکن بات صرف حملوں تک نہیں رکی ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں سے ان قبائلی اضلاع سے تواتر سے ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن کے مطابق مختلف اضلاع میں رہائش پذیر افراد نے بتایا ہے کہ انھیں افغانستان اور پاکستان کے نمبروں سے دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی ہیں جن میں ان سے بھتے کی رقم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور بات نہ ماننے کی صورت میں جان سے مارنے اور نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

ان الزامات کی مزید تحقیق کی غرض سے میں نے حال ہی میں باجوڑ، مہمند اور اورکزئی کے اضلاع کا سفر کیا تاکہ نہ صرف الزامات عائد کرنے والے چند افراد سے ملاقات کی جائے بلکہ وہاں موجود انتظامیہ کا اس بارے میں مؤقف بھی لیا جا سکے کہ وہ ان حملوں اور دھمکی آمیز فون کالز کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

BBC
،ویڈیو کیپشنسیربین: افغانستان میں طالبان کی واپسی کیا پاکستان کے قبائلی اضلاع کو بھی متاثر کر رہی ہے؟

سنہ 2007 کے اواخر میں جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں جنوبی وزیرستان سے شدت پسند تنظیم تحریک طالبان سامنے آئی تو اگلے آٹھ ماہ میں ان کی جانب سے کی گئی شدت پسند کارروائیوں کے باعث پاکستانی ریاست ان کے خلاف اقدامات لینے پر مجبور ہوئی۔

اس سلسلے میں پاکستانی افواج کی جانب سے کیے جانے والا ایک اہم آپریشن اگست 2008 میں 'آپریشن شیر دل' کے نام سے باجوڑ میں شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں باجوڑ کے تین لاکھ سے زیادہ شہریوں کو نقل مکانی کرنی پڑی اور پھر کچھ عرصے بعد آپریشن کی تکمیل کے بعد ہی وہ باجوڑ میں اپنے گھروں کو واپس جا سکے۔

انھی میں سے ایک شہری، سماجی کارکن اور اپنا کاروبار کرنے والے احمد (فرضی نام) ہیں، جنھیں اس سال جولائی اور اگست میں متعدد بار بھتے کی غرض سے فون کالیں موصول ہوئیں۔

افغانستان کی سرحد سے تقریباً 35 کلومیٹر دور باجوڑ میں جب احمد سے ان کے حجرے میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ (جولائی اور اگست) کے دوران خود کو طالبان ظاہر کرنے والے چند لوگوں نے افغانستان اور پاکستان کے نمبروں سے بار بار رابطہ کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

'بھتے کی ڈیمانڈ کر رہے تھے، پیسے کی ڈیمانڈ کر رہے تھے۔ جب ہم نے اس سے انکار کیا تو انکار کے بدلے میں واٹس ایپ پر دھمکی دیتے، وائس نوٹ بھیجتے تھے کہ اگر آپ نے پیسے نہیں بھیجے تو آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔'

اس سوال پر کہ آیا انھوں نے انتظامیہ سے رابطہ کیا یا نہیں، تو احمد نے بتایا کہ وہ پہلی کال کے بعد سے شہری اور عسکری عہدے داروں سے رابطے میں ہیں، اور انھیں تحریری ثبوت بھی پیش کیے لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی۔

'انتظامیہ والوں کو میں نے بار بار آگاہ کیا لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ یہ معاملہ صرف آپ کے ساتھ نہیں ہو رہا، باجوڑ میں کئی لوگوں کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ اور جب مطالبہ کیا کہ مجھے سکیورٹی فراہم کریں تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم ہر کسی کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے، آپ خود ایسا کریں کہ اپنے گھر پر پہرا رکھیں اور کیمرا لگائیں۔'

اسی طرح باجوڑ کے ہی ایک اور رہائشی اور کاروباری شخصیت شہزاد (فرضی نام) سے گفتگو ہوئی جنھوں نے بتایا کہ انھیں اگست سے قبل افغانستان کے نمبروں سے کال آتی رہی تھی اور ستمبر کے شروع میں پاکستانی نمبر سے کال موصول ہوئی، اور وہ ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں جن کو ایسی دھمکیاں ملی ہیں لیکن وہ خوف کے مارے ذکر نہیں کرتے۔

فاٹا
،تصویر کا کیپشناحمد نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ (جولائی اور اگست) کے دوران چند لوگوں نے، جو خود کو طالبان ظاہر کر رہے تھے، افغانستان اور پاکستان کے نمبروں سے بار بار رابطہ کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

'بہت لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے جو خاموش ہیں لیکن پیسے دیے جا رہے ہیں۔ مجھ سے تو پہلے بھی پیسے مانگے گئے تھے۔ دو سال قبل کال آئی کہ 50 لاکھ روپے دو اور جب میں نے انکار کر دیا تو میرے مکان پر راکٹوں سے حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔'

شہزاد نے بھی بتایا کہ انھوں نے ان فون کالز کے بعد انتظامیہ سے رابطہ کیا اور انھیں معلومات فراہم کیں لیکن ان کے خیال میں وہ بھی کچھ نہیں کر سکتے۔

'مقامی طور پر بھی ٹی ٹی پی کے عناصر یہاں موجود ضرور ہیں، جو سرحد پر لگی باڑ کو کاٹ کر افغانستان چلے جاتے ہیں۔

’کچھ ماہ سے علاقے میں غیر یقینی کی صورتحال بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے لوگ چھپ کر آتے ہیں، اپنی کارروائیاں کر کے واپس بھاگ جاتے ہیں۔ ڈر و خوف کے باعث ہم اب کوشش کرتے ہیں کہ ضروری کام نہ ہو تو گھر سے نہ نکلا جائے۔'

احمد سے بھی جب ان واقعات میں اضافے کی بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے پہل ایسی کالیں علاقے میں بڑے کاروباری شخصیات کو آتی تھی لیکن جیسے جیسے حالات بگڑتے گئے وہ لوگ 'منتقل ہوتے گئے اور افغانستان میں حالات تبدیل ہونے کے بعد خوف میں اضافہ ہو گیا ہے'۔

' افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد یہاں رہنے والے لوگ بہت خوف محسوس کر رہے ہیں، خاص طور پر بزنس کمیونٹی، اس کو خوف لاحق ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے یہاں پر ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ فلاں شخص کو کیوں ہلاک کیا گیا، اس کا گناہ کیا تھا، کیا اس کو بھتہ نہ دینے پر مار دیا گیا؟ ان سب واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تیزی آ گئی ہے۔'

BBC

گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک 'گلوبل وار آن ٹیرر' اور پاکستانی ریاست کی ان شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے باعث قبائلی علاقے ملک کی واضح اکثریت کے لیے تقریباً 'نو گو ایریاز' تھے جہاں داخلی امور بظاہر پاکستانی فوج کے پاس تھے۔

قبائلی علاقوں میں داخل ہونے سے قبل جگہ جگہ چیک پوسٹس اور بڑی چوکیوں کی موجودگی تھی اور ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور ماضی میں ان علاقوں کے شہریوں نے اس بارے میں متعدد بار شکایات کی تھیں کہ ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور بلاوجہ روک ٹوک کی جاتی ہے۔

لیکن پاکستانی افواج کی جانب سے متعدد آپریشنز کے بعد مجموعی صورتحال میں قدرے بہتری آئی اور لوگوں کی آمد و رفت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا، جس کا مجھے خود اندازہ دو سال قبل ہوا جب میں کچھ دوستوں کے ساتھ بغیر کسی دشواری اور پوچھ گچھ کے اسلام آباد سے طورخم سرحد تک کا سفر مکمل کر سکا۔

باجوڑ مرکزی بازار
،تصویر کا کیپشنباجوڑ کے مرکزی بازار کی عکسبندی کرنے نکلے تو اس کے لیے انتظامیہ نے 'سکیورٹی' کی غرض سے چند اہلکاروں سمیت ایک گاڑی ہمارے ساتھ روانہ کی

اس بار بھی جب میں پشاور سے براستہ مہمند باجوڑ کے راستے پر نکلا تو جگہ جگہ چیک پوسٹس نظر آئیں جہاں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود تھے لیکن ساڑھے تین گھنٹے کی طوالت پر محیط سفر میں ہماری گاڑی کو ایک بار بھی کہیں نہیں روکا گیا۔

اس موقع پر لگ رہا تھا کہ حالیہ واقعات کے باوجود کم از کم باجوڑ میں زندگی معمول کی گزر رہی ہے اور بازاروں میں چہل پہل ہے۔

اس سفر پر نکلنے سے قبل باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر سے گفتگو کر کے انھیں اطلاع دی تھی لیکن وہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد بتایا گیا کہ ہمیں باجوڑ کی سول انتظامیہ سے ملاقات کرنی ہوگی اور اپنے دورے کے مقصد سے آگاہ کرنا ہوگا کیونکہ اس کی 'باضابطہ اجازت نہیں لی گئی تھی۔'

جب وہاں کے اے ڈی سی سے سوال پوچھا کہ کیا اس اجازت کی ضرورت بوجہ حالات ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور حالات میں بھی کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن قبائلی اضلاع میں جانے سے قبل تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔

تاہم بعد میں جب باجوڑ کے مرکزی بازار کی عکسبندی کرنے نکلے تو اس کے لیے انتظامیہ نے 'سکیورٹی' کی غرض سے چند اہلکاروں سمیت ایک گاڑی ہمارے ساتھ روانہ کی جو بازار میں ہماری موجودگی کے دوران مسلسل موجود رہی۔

حالات اور صورتحال کے بارے میں یہی سوال جب اورکزئی کے ڈپٹی کمشنر محمد خالد سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے ضلع میں امن و امان کی صورتحال مجموعی طور پر بہت بہتر ہے۔

'سکیورٹی کے معاملات اب بہت بہتر ہیں۔ ہماری فورسز کے اہلکار ہر وقت چوکنا ہیں اور شہری انتظامیہ سے رابطے میں ہیں جس کے باعث پورے ضلع میں عمومی طور پر حالات میں کوئی خرابی نہیں ہے۔'

جب ان سے اسرار کے والد کی ہلاکت کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس معاملے کی پوری طرح تحقیق کر رہی ہے کہ آیا اس میں دہشت گردی کا عنصر تھا یا کوئی ذاتی معاملہ تھا جس کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا۔

'اس میں کوئی شک نہیں کہ اکا دکا واقعات ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس طرح ایسے معاملے کو لے کر انھیں سوشل میڈیا پر اچھالا جائے تو میرے خیال میں یہ غلط تاثر ہے۔ یہاں پر لوگ آ جا رہے ہیں، ترقیاتی کام بھی جاری ہیں، لوگوں کی معمول کی زندگی ہے جیسی ہونی چاہیے، وہ بازار وغیرہ جاتے ہیں۔'

اورکزئی
،تصویر کا کیپشناورکزئی کے بالائی حصے میں واقع غلجو بازار جاتے ہوئے متعدد چوکیوں پر ہمیں روکا گیا

افغانستان میں طالبان کی آمد اور قبائلی علاقوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بارے میں جب ان سے سوال کیا تو محمد خالد کا کہنا تھا کہ کیونکہ اورکزئی ضلع کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی تو انھیں نہیں لگتا کہ حالات میں کوئی بگاڑ پیدا ہو گا۔

'میرا نہیں خیال یہاں کوئی سپل اوور ہوگا۔ ہماری سکیورٹی فورسز تیار ہیں۔ پورے علاقے میں نظر ہے۔ ہماری کوآرڈینیشن میٹنگ ہوتی ہیں۔ پولیس اور اورکزئی سکاؤٹس اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی بڑی کوآرڈینیشن ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہاں پر کوئی منفی رد عمل نہیں ہوگا۔ ہم نے یہاں پر بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہوا ہے اور جیسے جیسے صورتحال مستحکم ہوتی جائی گی، علاقے میں امن و امان کا احساس مزید بڑھے گا۔'

لیکن اورکزئی میں بھی وہی ہوا جو باجوڑ میں ہوا تھا، اور 'سکیورٹی' فراہم کرنے کی غرض سے چند سکیورٹی اہلکاروں سمیت ایک گاڑی ہمارے ساتھ نکلی۔

اورکزئی کے بالائی حصے میں واقع غلجو بازار جاتے ہوئے متعدد چوکیوں پر ہمیں روکا گیا تاہم انتظامیہ کی گاڑی کی موجودگی کے باعث بازار تک پہنچنا ممکن ہو سکا، جہاں عکسبندی کر کے ہم واپس لوٹ آئے۔

BBC

دوسری جانب، اس سال ٹی ٹی پی اور ان جیسی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے حوالے سے جب پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ سے سوالات کیے گئے تو ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان نے بڑی بھاری قیمت دے کر ملک میں دہشت گردی کا قلع قمع کیا ہے اور شدت پسند گروہوں کو تقریباً شکست دے دی گئی ہے۔

'بظاہر اکا دکا ایسے واقعات بالکل ہوتے ہیں لیکن انھیں روکنے کے لیے انٹیلیجنس معلومات پر مبنی آپریشنز کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔'

بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے سوالنامے میں بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سوال پر بھی آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ایسے کسی واقعے کی اطلاع ملے گی تو قانون نافذ کرنے والے ادارے قابل بھروسہ معلومات کی روشنی میں اقدامات اٹھائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ رہیں۔

باڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹی ٹی پی کی جانب سے افغانستان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے اور سرحد پار کر کے کارروائیاں کرنے کے سوال پر آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام 90 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

’ہم سرحد کی بھرپور نگرانی کر رہے ہیں اور اگر کہیں سے باڑ کٹنے کی اطلاع ملتی ہے تو فوراً مرمت کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں بہت کمی ہوئی ہے۔ جبکہ افغانستان کی موجودہ حکومت بھی متعدد بار یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہونے نہیں دے گی۔ ہمیں ان کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، اور ہم ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

دوسری جانب ان بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے فوجی ذرائع نے ہی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ حالیہ دنوں میں واقعات میں اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے۔

’لیکن اس سلسلے میں پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ سرحد کے اُس پار ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے سلسلے میں اقدامات لیے جا رہے ہیں تاکہ افغان حکومت اپنا کنٹرول قائم کر سکے۔ اِدھر ہماری فوج بھی جارحانہ نوعیت کے آپریشن کر رہی ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات قابو میں آ جائیں گے۔'

فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ ایک 'عارضی صورتحال' ہے کیونکہ دونوں فریقین 'جارحیت پر مبنی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔'

BBC

تو ایسی صورتحال جہاں دونوں عسکری قوتیں، یعنی پاکستانی فوج اور ٹی ٹی پی نے کچھ عرصے سے جارحیت کا سلسلہ اپنایا ہوا ہے، تو حکومتِ پاکستان کی جانب سے مختلف نوعیت کا بیانیہ پیش کرنے کا معاملہ قابل توجہ ہے۔

یکم اکتوبر کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت افغان سرزمین پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPMO

،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت 'مفاہمتی عمل' کے بارے میں ہے اور ہتھیار ڈالنے کی صورت میں 'ہم انھیں معاف کر دیں گے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔'

ان کے مطابق یہ بات چیت 'مفاہمتی عمل' کے بارے میں ہے اور ہتھیار ڈالنے کی صورت میں 'ہم انھیں معاف کر دیں گے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کر رہی ہے تو ٹی ٹی پی پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملے کیوں کر رہی ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ 'یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔'

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان کے صدر عارف علوی بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دے، اور ہتھیار ڈال دے تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے۔

صدر اور وزیر خارجہ کی جانب سے ہتھیار ڈال دینے کی تجویز پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بڑے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔'

ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں حکومت پاکستان کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے الٹا ریاست کو معافی دینے کی مشروط پیشکش کی اور کہا کہ 'اگر پاکستان میں شرعی نظام نافذ کرنے کا وعدہ یا ارادہ کیا جائے تو ہم اپنے دشمن کے لیے معافی کا اعلان کر سکتے ہیں۔'

تو جہاں ایک جانب ریاست کے کچھ عناصر کہتے ہیں کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان 'سکے کے دو رخ' ہیں، وہیں دوسری جانب حکومت کا عالمی برادری سے مطالبہ سامنے آ چکا ہے کہ وہ طالبان کو 'وقت' دیں۔

اسی طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں مسلسل یہ بیانیہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ وہ انڈین سازش کا حصہ ہیں اور انڈیا اور سابقہ افغان حکومت کی ایما پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، تو ایسے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ کہیں ایک جانب آپریشن کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔

یہاں پر یہ بھی واضح کرنا بڑا اہم ہوگا کہ پاکستانی ریاست نے گذشتہ 20 سالوں میں کم از کم نو موقعوں پر شدت پسند تنظیموں، بالخصوص ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی مستقل امن کا راستے بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

پشاور کے اسلامیہ کالج میں امور سیاست کی ماہر اور سوات میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں پر کتاب کی مصنفہ تبسم مجید کا اس بارے میں بڑا واضح مؤقف ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو پاکستان کو افغان طالبان کی جو تعریف کی جا رہی ہے اسے بند کرنا ہوگا۔

'ان کے بیانیے اور ان کی حکومت کا پرچار کرنا ختم کرنا ضروری ہے ورنہ ایسا کرنے سے پاکستان میں طالبانی یا اس قسم کی شدت پسندی کی سوچ رکھنے والے افراد کو، شدت پسند تنظیموں کو شہ ملے گی۔'

باجوڑ
،تصویر کا کیپشنپاکستانی افواج کی جانب سے کیے جانے والا ایک اہم آپریشن اگست 2008 میں 'آپریشن شیر دل' کے نام سے باجوڑ میں شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں باجوڑ کے تین لاکھ سے زیادہ شہریوں کو نقل مکانی کرنی پڑی

پاکستانی فوج کے تربیتی مرکز کاکول کی طرح امریکی فوج کے سب سے اہم تربیتی مرکز ویسٹ پوائنٹ میں شعبہ سماجی علوم سے منسلک ڈاکٹر امیرہ جدون سے جب ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں تیزی اور پاکستان کے جواب کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ یقینی طور پر ایک پریشان کن امر ہے۔

'پاکستانی ریاست ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک کم بیک کرنے کی کوشش سے ضرور پریشان ہے۔ حالانکہ یہ گروہ اپنے عروج کے مقابلے میں اس بار اتنا مضبوط نہیں ہے لیکن وہ ان حملوں سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور ریاست کی کوشش ہوگی کہ وہ خاموشی سے ان سے مذاکرات کرنے کی کوشش کریں۔'

دوسری جانب سویڈن میں مقیم محقق عبد السید کے نزدیک ان حملوں کی شدت میں اضافہ کوئی غیر متوقع امر نہیں ہے۔

'پاکستانی طالبان کا تبلیغی بیانیہ بتاتا ہے کہ اگر افغان طالبان امریکہ جیسے مضبوط دشمن پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو یقیناً پاکستانی طالبان بھی پاکستانی ریاست کے خلاف اپنی جنگ جیت سکتے ہیں۔'

اسی سال جولائی میں نور ولی محسود نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں افغان طالبان کی جانب سے کی گئی پیش قدمی کو سراہا تھا اور افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اپنے بیان میں انھیں مبارک باد پیش کی اور ان سے اپنی بیعت کی تجدید کی تھی۔

راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز سنگاپور میں ریسرچ فیلو کے طور پر کام کرنے والے عبدالباسط سے ممکنہ امن مذاکرات کے بارے میں جب سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'امن مذاکرات تنازعات کو حل کرنے کا حتمی طریقہ ہیں لیکن ابھی مذاکرات کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔'

وزیر اعظم عمران خان کے افغان سرزمین پر ہونے والے ان مذاکرات کے بیان کے حوالے سے عبدالباسط نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کے افغان طالبان کے ساتھ بہت پرانے، بہت قریبی تعلقات ہیں جو کہ نظریاتی، نسلی اور قبائلی بنیادوں پر قائم ہیں اور جب نائن الیون کے بعد افغان طالبان مشکل میں تھے تو انھیں ٹی ٹی پی نے تحفظ دیا تھا اور جواب میں 2015 کے بعد سے افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پناہ فراہم کر رہے ہیں۔

'یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ تقریباً ناممکن سی بات ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں گے۔ ہم یہ ماضی میں متعدد بار دیکھ چکے ہیں کہ جب کسی گروہ نے افغان طالبان کی رٹ کو چیلنج کیا، انھیں فوری جواب دیا گیا اور اس کی واضح مثال شدت پسند تنظیم داعش ہے، لیکن ٹی ٹی پی کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں اسلام پسندوں کی جیت ہوئی ہے تو ایسے میں ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ بہت غلط اشارہ دے گا۔

پاکستان کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی جنرل (ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ نے ٹی ٹی پی اور افغانستان کے موضوع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ ان کی اپنی بقا کی جنگ ہے۔

'میرے خیال میں جیسے جیسے افغانستان میں استحکام آتا جائے گا، خطے سے عسکریت پسندی کم سے کم ہوتی جائے گی۔ اگر پاکستان اور افغانستان آپس میں تجارتی روابط قائم کر لیں تو وہ دنیا کے لیے ایک اہم راہداری بن سکتے ہیں، جو کہ مستقبل میں اس خطے میں کسی قسم کی شدت پسندی کو پنپنے نہیں دیں گے، اور مجھے یقین ہے کہ افغان طالبان اس بات کو سمجھتے ہیں اور وہ اپنی سرزمین کو نہ صرف پاکستان بلکہ کسی اور کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔'

BBC
فاٹا
،تصویر کا کیپشنباجوڑ میں شہری اور عسکری انتظامیہ کے دفاتر کا کمپاؤنڈ

جہاں ایک جانب خطے کی طاقتیں اور ریاستیں ’گریٹ گیم‘ کی بساط پر اپنی اپنی چالوں کے بارے میں سوچ رہی ہیں، تو دوسری جانب وہ عام انسان جو اس ’گیم‘ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن جاتے ہیں، جن کے سروں سے چھتیں چلی جاتی ہے یا ان کے قریبی عزیز اور رفقا ہلاک یا عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟

مہمند ضلع کے ایک سرحدی گاؤں سے تعلق رکھنے والے شاہد (فرضی نام) نے کئی سال قبل پاکستان فوج کی جانب سے سابقہ فاٹا میں کیے گئے عسکری آپریشن میں اپنے والد کے ہمراہ قبائلی لشکر کی قیادت کی تھی۔

تاہم اس جنگ میں ان کے گاؤں کے تمام گھر مسمار ہونے کے باعث کئی برس قبل وہ پشاور منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔

'طالبان کے خلاف جنگ میں ہمارے والد صاحب کی شہادت ہوئی۔ چچا زاد بھائی کی شہادت ہوئی۔ 45 زخمی ہوئے، کسی کا ہاتھ نہیں، کسی کا پاؤں نہیں، کسی کا ہاتھ پاؤں دونوں نہیں۔ ظاہر ہے ہمیں اپنا گھر یاد بہت آتا ہے، جو وہاں کا ماحول ہے، گاؤں ہے، سب کو یاد آتا ہے، لیکن اب وہاں زندگی بسر کرنے کے لائق نہیں ہے۔'

باجوڑ کے رہائشی احمد بھی اپنے تاسف کا اظہار کرتے ماضی کا وقت یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2008 کے آپریشن سے پہلے ایک، دو سال قبل علاقے میں اسی طرح چھوٹے موٹے واقعات ہونا شروع ہوئے جو کہ شدت پسندی پسندی کی شکل میں ابھرے۔

'اسی قسم کی صورتحال ایک بار پھر یہاں پر بن رہی ہے۔ ایسی ہی صورتحال رہی تو بندہ ظاہر ہے سوچتا ہے کہ وہ یہاں سے نکل جائے، لیکن جائیں تو کہاں جائیں؟ اپنے گھر کو، اپنے وطن کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟'

اور دوسری جانب، اورکزئی میں اپنے والد کی موت کے عوض حکومتی امداد کا انتظار کرتے اسرار ہیں جنھیں متعدد بار دفتر کے چکر لگانے پڑے تاکہ کاغذی کارروائی پوری کی جا سکے اور وہ شہدا پیکج حاصل کر سکیں۔

'آپریشن شروع ہوا تو ہم 14، 15 برس پہلے یہاں سے چلے گئے تھے، اور پھر میرے والد اور والدہ دو سال پہلے واپس آئے۔ اب میری والدہ بیوہ ہو گئی ہیں اور یہاں پر سارا کام مکمل ہونے کے بعد میں ان کو میں پشاور لے جاؤں گا۔ حکومت نے تو ہم سے وعدہ کیا تھا کہ امن بحال ہو گیا ہے، واپس چلے جاؤ۔ لیکن یہاں تو ابھی بھی مارا ماری ہو رہی ہے۔ یہ امن تو نہیں ہے۔'