ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار: نواز شریف سے مبینہ ڈیل کی باتیں ’بے بنیاد قیاس آرائیاں‘ ہیں، سوال کریں کہ ’کون ڈیل کر رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی مقتدر حلقوں سے مبینہ ڈیل کی باتوں کو ’بے بنیاد قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں اُن سے ثبوت مانگنے چاہییں۔
بدھ کے روز اپنی پریس بریفنگ میں عسکری ترجمان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی ڈیل کی صورت میں نہ صرف پاکستان واپسی بلکہ حکومت میں واپسی کی خبریں بھی گردش میں ہیں جنھیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی باتوں سے تقویت مل رہی ہے۔
اس پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ یہ سب ’بے بنیاد قیاس آرائیاں‘ ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی اس طرح کی بات کر رہا ہے تو میں آپ سے کہوں گا کہ اُنھی سے سوال کریں کہ کون ڈیل کر رہا ہے، اس کے محرکات کیا ہیں، اس کا ثبوت کیا ہے کہ ڈیل ہو رہی ہے۔‘
عسکری ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی ایسی بات کر رہا ہے تو اس سے اس کی تفصیل ضرور مانگیں۔
’میں (اس حوالے سے) بہت واضح ہوں کہ یہ سب بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔ اسے جتنا کم (زیرِ بحث لایا) جائے اتنا اس ملک کے مفاد میں بہتر ہے۔‘
سول ملٹری تعلقات
سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ایک اور سوال پر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج حکومتِ پاکستان کا ماتحت ادارہ ہیں اور اس کے احکامات کے تحت کام کرتی ہیں، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سے زیادہ مزید قیاس آرائی کرنی بھی نہیں چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’شام کو ہر ٹی وی پروگرام میں کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کر دیا وہ کر دیا، میری درخواست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس بحث سے باہر رکھیں۔ ہمیں اس سے باہر رکھیں، ادارے کو اس سے باہر رکھیں اور اس پر بحث مت کریں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، آبادی میں اضافے اور زراعت جیسے دیگر اہم مسائل ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
’ٹی ٹی پی سے لڑتے رہیں گے‘
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ’ٹی ٹی پی سے سیزفائر نہیں، ہم تب تک لڑتے رہیں گے جب تک اس ناسور سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیں۔‘
’آپ کو معلوم ہے سیزفائر معاہدہ نو دسمبر کو ختم ہو گیا تھا۔ جہاں تک مذاکرات کی بات ہے تو وہ ابھی معطل ہیں، اور آپریشن جاری ہیں۔ موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر ان غیر ریاستی عسکریت پسند عناصر کے ساتھ بات چیت کرنا اعتماد بڑھانے کی ایک کوشش تھی۔‘
اُنھوں نے کہا کہ 15 اگست کے بعد نئی عبوری افغان حکومت کے سامنے پاکستان کی حکومت نے یہ شرط رکھی تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔
’تو افغان حکومت کی جانب سے اس تناظر میں یہ درخواست کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ انھیں مذاکرات کی میز پر لائیں گے اور پاکستان کی شرائط منوائی جائیں گی۔ اس حوالے سے شرائط و ضوابط فی الحال طے نہیں کیے گئے تھے۔‘
جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ٹی ٹی پی ایک یکجا گروہ نہیں ہے ان کے بھی اندرونی اختلافات ہیں۔ اس لیے کچھ مسائل پیدا ہو گئے، ہماری جانب سے کچھ ایسی شرائط سامنے رکھی گئیں جن پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے اس وقت سیزفائر نہیں ہے، ہم لڑ رہے ہیں، ہم ان کا مقابلہ کر رہے ہیں، ہم ہر روز آپریشن کر رہے ہیں اور ہم ایسا تب تک کرتے رہیں گے جب تک ہم اس ناسور سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’باڑ مکمل ہوگی، قائم رہے گی‘
میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگائے جانے کے حوالے سے حالیہ تنازعے کے بارے میں کہا کہ پاکستان، افغانستان سرحد پر باڑ کو لگانے میں پاکستانی ’شہدا‘ کا خون شامل ہے، یہ ناصرف مکمل ہو گی بلکہ قائم بھی رہے گی۔
’اس (باڑ) کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں، انھیں محفوظ بنانا ہے۔ یہ امن کی باڑ ہے، یہ مکمل ہو گی، اور انشااللہ قائم رہے گی۔‘
مسلح افواج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بارڈر مینیجمنٹ کے تحت پاک، افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور دونوں طرف بسنے والے لوگوں کی سکیورٹی، آمدورفت اور تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے یہ موجودہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار میں آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مسلسل ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہی ہیں جن میں سرحد پر سکیورٹی کے لیے نصب خار دار تاروں کو اکھاڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان ویڈیوز کے بعد افغان طالبان کی جانب سے ایسے بیان بھی سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ اس سرحد (ڈیورنڈ لائن) کو تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم بدھ کے روز افغان دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ طالبان حکومت مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم، بات چیت اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے اس مسئلے (باڑ اکھاڑنے کے واقعات) کو 'سفارتی طور' پر حل کیا جائے گا۔
بدھ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواہوں، غلط فہمیوں، اور سپائلرز کا سدِ باب کرنے کے لیے مقامی طور پر پیش آنے والے اِکا دُکا واقعات (باڑ کو نقصان پہنچانا) کو بردباری اور مکمل احتیاط سے حل کرنا ہے تاکہ بنیادی مقصد، یعنی امن کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اطراف حکومتی سطح پر اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 2021 میں شمالی وزیرستان میں ایک اہم آپریشن دواتوئی کیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان افغانستان سرحد پر مکمل ریاستی رٹ بحال ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’یہ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں مشکل ترین موسمی حالات اور ناقابلِ رسائی علاقے تھے جو دہشتگردوں کو سرحد کی دونوں جانب نقل و حرکت کی سہولت میسر کرتے تھے اور اسی وجہ سے یہاں باڑ لگانے کا کام بھی مکمل نہیں ہو سکا تھا، جو اب مکمل کر لیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگست 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے اچانک انخلا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے براہ راست اثرات پاکستان کی سکیورٹی پر پڑے اور مغربی سرحد کی مینیجمنٹ کے تحت جو کام جاری ہیں وہ معینہ مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر پاکستان کی طرف 1200 سے زیادہ پوسٹس ہیں جبکہ دوسری جانب (افغانستان) صرف 377 پوسٹس ہیں۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سے دوسری پوسٹ کے درمیان سات سے آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں دوسری جانب (افغانستان) سے کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائی کو چیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
باڑ اکھاڑنے کی ویڈیوز میں کیا تھا؟
اس حوالے سے مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں دو ویڈیوز بظاہر افغانستان کے صوبہ ننگر ہار اور پاکستان کے ضلع مہمند کے ساتھ ملنے والی پاک افغان سرحد کی بتائی گئی ہیں۔
ایک ویڈیو کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبہ نیم روز میں پاک افغان سرحد کے قریب بنائی گئی ہے۔ حال ہی میں ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ٹرک کے ساتھ خار دار تاروں کو اکھاڑا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو رات کے وقت بنائی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اسی طرح بعض علاقوں کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں جن میں خار دار تار کے رول نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کے ضلع مہمند سے ذرائع نے بتایا تھا کہ افغانستان کی جانب سے دو مقامات سے باڑ کو اکھاڑا گیا تھا۔ ایک افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں گوشتی کے علاقے میں جبکہ دوسرا مقام پلوسی کا علاقہ ہے جہاں ایک سرکاری سکول بھی نظر آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
افغانستان کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں افغان طالبان بات چیت کر رہے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ اپر پلوسی کا علاقہ ہے اور سابق صدر اشرف غنی کے دور میں معاہدہ ہوا تھا اور یہاں گورنمنٹ پرائمری سکول پلوسی مہمند بنایا گیا ہے اور یہ افغانستان کا علاقہ ہے۔
اسی طرح ٹوئٹر پر افغانستان کے مقامی صحافی نے طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان کی ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ فارسی زبان میں پاک افغان سرحد پر نصب باڑ کے بارے میں بتا رہے تھے۔ ترجمان نے کہا تھا کہ خار دار تاروں کی تنصیب سے دو قوموں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور یہ باڑ عالمی اور علاقائی اصولوں کے خلاف ہے۔
گذشتہ ہفتے اس حوالے سے جو ویڈیو جاری کی گئی تھیں ان میں باقاعدہ افغانستان کے انٹیلیجنس کے عہدیدار بھی نظر آ رہے تھے۔
ٹوئٹر پر پہلی ویڈیو اور تصاویر میں کچھ افغان سیکیورٹی اہلکار خار دار تاریں اٹھاتے ہوئے نظر آ رہے تھے اور بڑی تعداد میں خار دار تاریں زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔ یہ ویڈیو بنانے والے آپس میں کہہ رہے تھے کہ صحیح تاریں لے آؤ تو دوسرا شخص کہتا ہے کہ ساری تاریں لے آئے ہیں۔
افغان صحافی بلال سروری نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان خصوصی فورسز کی قیادت طالبان کے انٹیلیجنس چیف ڈاکٹر بشیر کر رہے تھے۔ اس ٹویٹ میں کہا گیا کہ افغان فوجیوں کے مطابق یہ خار دار تاریں افغانستان کی حدود کے اندر لگائی گئی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس معاملے پر بیانات؟
بدھ کے روز طالبان حکومت کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی سرحد کے کچھ حصوں سے باڑ ہٹانے کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان اور پاکستان کے حکام کو بات چیت کی ضرورت پڑی ہے تاکہ اس نوعیت کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔
افغان دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم، بات چیت اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے اس مسئلے کو ’سفارتی طور‘ پر حل کیا جائے گا۔
گذشتہ اتوار کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’پاکستان پاک افغان سرحد پر طالبان کی جانب سے خار دار تاریں اکھاڑنے کے معاملے پر خاموش نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’باڑ ہم نے لگائی ہے اور انشا اللہ ہماری کاوش جاری رہے گی۔ افغانستان ہمارا دوست ہمسایہ ملک ہے، ہماری ان کے ساتھ انگیجمنٹ ہے اور ہم انشاللہ سفارتی ذرائع سے جو کچھ الجھنیں آئی ہیں انھیں دور کر لیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ اس معاملے کو اچھالنا چاہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اسے اچھالنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ’لیکن ہم اپنے مفادات کا تحفط کریں گے۔‘
اس سے قبل افغانستان میں وزارت اطلاعات کے محکمے میں موجود عہدیدار بلال کریمی نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا تھا کہ اس بارے (باڑ اکھاڑنے) میں تاحال کوئی باقاعدہ بیان تو جاری نہیں ہوا، تاہم سرحد پر کچھ چھوٹے واقعات پیش آئے ہیں جنھیں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور امارات اسلامی افغانستان کی کوشش ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
ڈیورنڈ لائن
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد مشکل اور طویل ہے اور حکام کے مطابق اس کی مسلسل نگرانی کرنا ایک مشکل کام ہے اس لیے اس سرحد پر باڑ لگانے سے غیر قانونی طور پر لوگ سرحد عبور نہیں کر سکیں گے۔
پاک افغان سرحد کوئی 2640 کلومیٹر طویل ہے اور اس میں دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے شامل ہیں۔ اس باڑ کی تنصیب کے لیے سرکاری ذرائع کے مطابق اربوں روپے مختص کیے گئے تھے اور اس منصوبے کے تحت سرحد پر نگرانی کے لیے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قلعے یا چوکیاں تعمیر کیے جا رہے ہیں اور جدید ریڈار سسٹم کی تنصیب بھی اس منصوبے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔
ماضی میں افغان حکام اس منصوبے کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا تنازع حل نہیں کر لیا جاتا تب تک اس سرحد پر باڑ لگانا صحیح نہیں ہے۔
ڈیورنڈ لائن یا پاکستان افغان سرحد پر یہ تنازع پہلی مرتبہ پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ طویل عرصے سے جاری ہے اور دونوں ممالک کا اپنا اپنا موقف ہے۔
بظاہر یہ سرحد تو 1893 میں ایک معاہدے کے بعد قائم کی گئی تھی جب برصغیر میں برطانیہ کی حکمرانی تھی اور اس سرحد کا معاہدہ افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمان اور برطانوی عہدیدار موٹیمر ڈیورنڈ کے درمیان طے ہوا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ ایک سو سال کے لیے ہو گا۔












