پاکستان افغان سرحد پر کشیدگی، چمن میں سرحد بند

پاکستان افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ میں پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی کے باعث چمن میں دونوں ممالک کے درمیان باب دوستی کو بند کر دیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے سرحدی فورسز کے درمیان ٹانڈہ درہ کے علاقے میں پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے کے باعث کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ۔ سرکاری اہلکار کے مطابق اس علاقے میں سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

اس صورتحال کے باعث چمن میں پاکستانی حکام کی جانب سے باب دوستی کو بند کیا گیا ہے جس کے باعث سرحد کی دونوں جانب پھنسے ہوئے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

پاکستان نے شدت پسندی اور غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے متصل اپنی سرحد پر باڑ نصب کرنا شروع کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منصوب پاک افغان سرحد تقریباً چوبیس سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے۔

،ویڈیو کیپشنپاکستان کی شدت پسندی سے نمٹنے کی کوششیں

کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز جب پاکستان کی جانب سے تنگہ درہ کے علاقے میں باڑ لگائی جارہی تھی تو وہاں افغانستان کے سرحدی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر مداخلت کی گئی۔

اہلکار کے مطابق اتوار کو جب پاکستان کی سرحدی فورسز کی جانب سے باڑ لگانے کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تو افغان فورسز کی جانب سے دوبارہ مداخلت کی گئی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس مداخلت کے باعث اس علاقے میں سرحدی فورسز کے درمیان نہ صرف کشیدگی پیدا ہوئی بلکہ دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔

اہلکار نے بتایا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے اس فائرنگ سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں ہے۔

اگرچہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس کشیدگی کی وجہ افغان فورسز کی مداخلت کو قرار دیاگیا ہے تاہم سرحد پار رابطے میں مشکلات کے باعث افغان حکام سے ان کا موقف معلوم نہیں کیا جاسکا۔

سرحد پر باڑ لگانے کے باعث کشیدگی وجہ سے پاکستان کی جانب سے سرحدی شہر سے باب دوستی کو بند کیا گیا ہے۔

باب دوستی بند ہونے کے باعث سرحد کی دونوں جانب سینکڑوں لوگ پھنس گئے ہیں اور ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

چمن کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 130کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ پاکستان کی افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوب مغربی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔

چمن نہ صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں بلکہ افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کے لیے رسد کی بھی اہم گزرگاہ ہے۔

گزشتہ سال کے اوائل میں بھی پاکستان کی جانب کی جانے والی مردم شماری کے معاملے پر چمن شہر سے متصل سرحدی علاقے میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

گزشتہ سال ہونے والی جھڑپ میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک درجن سے زائد پاکستانی شہری ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے متعدد افغان فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

چمن سے روزانہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدروی کرنے کے لیے افغانستان کے سرحدی علاقے میں قائم منڈیوں میں جانا پڑتا ہے۔

باب دوستی کی بندش کی وجہ سے ان افراد کو بھی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔