پاکستان کی شدت پسندی سے نمٹنے کی کوششیں، افغانستان کی سرحد پر باڑ کی تنصیب

پاکستانی فوج نے شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے متصل اپنی سرحد پر باڑ نصب کرنا شروع کی ہے۔

پاک افغان بارڈر، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج نے شدت پسندی اور غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے متصل اپنی سرحد پر باڑ نصب کرنا شروع کی ہے۔ یہ منظر شمالی وزیرستان کے مقام انگور اڈا کا ہے جہاں افغان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے۔
پاک افغان سرحد، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن26 مارچ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ یہ پاکستانی سپاہی سرحدی نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ یہ باڑ افغان صوبے پکتیکا کو پاکستانی علاقے جنوبی وزیرستان سے الگ کرتی ہے۔
پاک افغان سرحد، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل باجوہ نے کہا تھا کہ افغان سرحد پر معمول کی فضائی نگرانی کے علاوہ سرحد پر اضافی تکنیکی نگرانی کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
پاک افغان بارڈر، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرحد پر باڑ لگانا اربوں روپے کا ایک منصوبہ ہے جس کے تحت سرحد پر نگرانی کے لیے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کیے جائیں گے۔
پاک افغان بارڈر، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کے مطابق جدید ریڈار سسٹم بھی نصب کیا جائے گا۔
پاک افغان سرحد، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآرمی چیف نے کہا تھا کہ باڑ لگانے کے منصوبے میں مہمند اور باجوڑ ایجنیسوں کے سرحدی علاقوں کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنے کی وجہ سے انتہائی ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاک افغان سرحد، باڑ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منصوب پاک افغان سرحد تقریباً چوبیس سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے