افغانستان میں طالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی: ’تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا تاہم آغاز بہت اچھا ہوا‘

امیر خان
،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی
    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان میں طالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے درمیان معاہدے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت 'دونوں فریقین کی خواہش' پر اس معاہدے میں تیسرے فریق اور ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'ابھی تک حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے تاہم آغاز بہت اچھا ہوا ہے اور معاہدے کے پہلے حصے میں ایک مہینے کی فائربندی پر اتفاق ہوا ہے۔ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جاری رہے گی۔'

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے اور وہ پرامید ہیں کہ اس سلسلے میں آگے بھی مشکلات پیش نہیں آئینگی۔ انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین نزدیکیاں بڑھیں گی۔

اگست میں افغانستان پر دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی اپنے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود تھے۔

انھوں نے اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت مختلف حکومتی شخصیات سے ملاقات کی جبکہ صحافیوں اور تھنک ٹینکس کے ساتھ بیٹھک بھی کی۔

اسی دورے میں انھوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیا جو ان کا کسی بھی خاتون صحافی کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے۔

اس سوال پر کہ شدت پسند تنظیم داعش افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے، امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ داعش خطرہ تو ہے تاہم ان کی حکومت نے ملک کے بڑے حصے سے اس کا خاتمہ کر دیا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPress Information Department

’اکا دکا واقعات دنیا میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ پہلے افغانستان کا ستر فیصد حصہ اسلامی امارات کے کنٹرول میں تھا۔ اب ان تمام علاقوں سے طالبان نے داعش کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا ہے۔ وہ صرف ان حصوں میں موجود تھے جہاں سابق کابل حکومت کا کنٹرول تھا۔‘

’جب ہم نے کابل فتح کیا تو ان علاقوں میں داعش نے سر اٹھانا شروع کیا مگر ہماری طالبان حکومت نے ان کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین اقدام کیے۔ ہم نے ابھی اکثر علاقوں میں داعش کو محدود کردیا ہے۔ چند ایک جگہوں جیسا کہ مساجد کی طرف کبھی کبھار کوئی واقعہ ہوجاتا ہے، جو دنیا میں کہیں بھی ہو سکتا ہے۔‘

انڈیا کے ساتھ تعلقات کے سوال پر امیر خان متقی نے بتایا کہ افغانستان، انڈیا سمیت کسی ملک کے ساتھ تنازع کا خواہاں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہمارا دنیا کے کسی بھی ملک کیساتھ ٹکراؤ نہ ہو۔

’ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کا کسی اور ملک کے ساتھ کوئی ٹکراؤ ہو یا ایسے چیلنجز آئیں جو ہماری قوم کو متاثر کریں سو ہم اس معاملے پر کام کرتے رہیں گے۔‘

انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات پر پاکستان یا چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آنے کے سوال پر انھوں نے ماسکو میں ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’جب ہم نے ماسکو کانفرنس میں شرکت کی تو وہاں انڈیا، پاکستان اور دیگر ممالک کے نمائندے موجود تھے۔ وہاں مثبت باتیں ہوئی تھیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہم کسی ملک کی مخالفت نہیں کریں گے۔‘

بی بی سی نے طالبان وزیرخارجہ امیر خان متقی سے ان کی حکومت آنے کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی سے متعلق بھی سوالات کیے بات کی۔

ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کو بتایا جاتا رہا ہے کہ طالبان اب پہلے سے تبدیل ہو گئے اور اگر یہ سچ ہے تو ملک میں خواتین کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے؟

امیر خان متقی نے جواب میں ایسی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ یہ درست نہیں کہ خواتین کسی شعبے میں نظر نہیں آ رہیں۔

صحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’صحت کے شعبے میں خواتین کی شمولیت سو فیصد ہے۔ وہ تعلیم کے شعبے میں بھی پڑھا رہی ہیں۔ ہم نے اس معاملے پر بھی بہتری لائی ہے۔ وہ ہر اس شعبے میں کام کر رہی ہیں جس میں ان کی ضرورت ہے۔ ہماری ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ ہم خواتین کو کسی شعبے میں ان کا حق نہ دیں۔‘

واضح رہے کہ خبروں کے مطابق طالبان کے زیر کنٹرول بیشتر صوبوں میں بچیوں کے تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ افغانستان سے یہ اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ وہاں خواتین کو ان کی ملازمت پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کے قتل سے متعلق خبریں بھی میڈیا میں موجود ہیں تاہم طالبان وزیر خارجہ ان اطلاعات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا اس معاملے پر غلط رپورٹنگ کر رہا ہے۔

افغانستان کے بعض صوبوں میں کم عمر بچیوں کے سکول کھولے گئے ہیں مگر بیشتر میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ہر عمر کی لڑکیوں کے سکول ملک بھر میں کب کھولے جائیں گے اور یہ کہ خواتین کو ملازمتوں وغیرہ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کی اجازت کب تک ملے گی جیسے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے 'سب اچھا ہے' جیسی باتیں دہرائیں۔

تاہم امیر خان متقی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور اس کا ذمہ دار انھوں نے کورونا وائرس کی وبا کو ٹھہرایا۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’کسی صوبے میں تعلیمی ادارے بند نہیں ہیں۔ پورے ملک میں تمام تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔ ہم نے سکولوں کو تین کیٹیگرییز میں تقسیم کیا ہے۔ پورے ملک میں لڑکوں کے سارے سکول کھلے ہیں اور لڑکیوں کے چھٹی جماعت تک تمام صوبوں میں سکول کھلے ہیں۔‘

’اگرچہ کچھ صوبوں میں اعلی درجات والے سکول بھی کھلے ہیں مگر تمام جگہوں پر ایسا نہیں۔ کچھ علاقوں میں مشکل یہ ہے کہ کورونا کی وجہ سے بہت سے سکول پہلے ہی کچھ مہینوں سے بند تھے۔ ہم نے صفر سے سکول کھولنے شروع کیے اور اب تک 75 فیصد کھول دیے ہیں۔ سو ہم اس مرحلے پر رکے ہوئے نہیں ہیں بلکہ کام کر رہے ہیں اور روز بروز ترقی کررہے ہیں۔‘

افغانستان کے سرکاری اور دیگر دفاتر میں برسرروزگار خواتین کو کام پر واپس جانے کی اجازت نہ ملنے سے متعلق انھوں نے دعوی کیا کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد یہاں گزشتہ حکومت میں کام کرنے والی خواتین میں سے کسی کو بھی ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔

’ان خواتین کی تنخواہوں، تعلیم اور روزگار کے مواقعوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی۔‘

طالبان کی حکومت یہ دعوی کرتی رہی ہے کہ ان کی عبوری حکومت ’ایک انکلوسیو‘ حکومت کے بین الاقوامی مطالبے پر پورا اترتی ہے اور اس میں تمام فریق شامل ہیں۔

مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’انکلوسیو گورنمنٹ‘ کا مطلب ایک ایسی حکومت ہے جس میں تمام فریقین اور خواتین برابری کی سطح پر شامل ہوں۔

افغآنستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم طالبان کی عبوری کابینہ میں کوئی خاتون موجود نہیں۔ جب امیر خان متقی سے یہی سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی حکومت میں خواتین کو کوئی حصہ نہیں مل رہا۔

افغانستان کی معیشت اور حکومتی اخراجات کا بڑا انحصار بین الاقوامی امداد پر تھا جو فی الحال بند ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے بیرون ممالک میں موجود اثاثہ جات بھی منجمد ہیں۔

بین الاقوامی امدادی اداروں اور دیگر ممالک کی جانب سے انسانی جانوں کے لیے امداد بھی اس وقت بند ہے۔ یہی وجہ ہے ملک تیزی سے شدید نوعیت کے انسانی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس سوال پر کہ افغانستان کو تسلیم نہ کیا گیا اور امداد کا ذرائع دوبارہ نہ کھلے تو طالبان حکومت نے کیا منصوبہ بندی کر رکھی ہے، امیر خان متقتی نے کہا کہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ امید رکھتے ہیں دنیا کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت میں تمام علاقوں اور قبائل کے نمائندے شامل ہیں اور دنیا کو یہ حکومت تسلیم کرنی چاہیے۔

’افغانستان میں اس وقت جو حکومت قائم ہے اس میں پچھلی حکومت کا تمام سٹاف اور ملازمین شامل ہیں جو تقریبا پانچ لاکھ عملے پر مشتمل ہیں۔ اگر دنیا نے پچھلی حکومت کو ایک 'انکلوسیو حکومت' کے طور پر تسلیم کیا تھا تو پھر ہماری حکومت کو کیوں نہیں کرتے؟‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگر انکلوسیو حکومت سے دنیا کی مراد ایسی حکومت ہے جس میں تمام قبائل شامل ہوں تو ہماری حکومت میں بھی تمام قوموں اور قبائل کی نمائندگی ہے۔ تمام علاقوں کی نمائندگی ہے۔‘

’اگر ان کی مراد وزارتوں میں تمام علاقوں سے نمائندگی ہے تو ہمارے پاس پنجشیر کا وزیر ہے۔ بدخشاں، فاریاب، قندھار، ننگرہار اور کابل کے لوگ شامل ہیں۔ لہذا ہر ملک اور خطے کی انکلوسیو حکومت کی اپنی تشریح ہے، اس لیے ہم یہ کوشش اب بھی جاری رکھیں گے کہ ہم اپنی حکومت کو مزید انکلوسیو بنائیں اور سب کو حق ملے۔‘

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

فرحت

طالبان وزیر خارجہ کا بی بی سی کی خاتون صحافی کو انٹرویو اور اس ملاقات کا احوال

ایسا پہلے بھی کئی بار ہوا کہ مجھے فون آیا ہو اور بولنے والے نے خاتون کی آواز سن کر کہا ہو کہ ’فرحت صاحب‘ سے بات کرا دیں اور جب میں جواب میں کہتی ہوں کہ میں فرحت بات کر رہی ہوں تو چند لمحے کی خاموشی چھا جاتی ہے۔

مگر میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا نام طالبان کو بھی کنفیوز کر دے گا۔

افغانستان، ترکی اور ایران سمیت کئی ممالک میں فرحت مردوں کے لیے بھی نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ دو روز سے پاکستان کے دورے پر تھے۔ ان کے انٹرویو کے لیے جہاں بہت سے صحافی تگ و دو میں مصروف تھے وہیں میں نے بھی کوشش کی۔

بہرحال خوش قسمتی سے طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ انٹرویو کنفرم ہوگیا۔

انٹرویو کا وقت رات آٹھ سے ساڑھے نو کے درمیان بتایا گیا اور میں اپنی ٹیم کے ہمراہ مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچی جہاں اور بھی بہت سے پاکستانی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک ملکی و غیرملکی صحافی موجود تھے۔

بتایا گیا کہ متقی صاحب کی یہاں ڈیلیگیٹس اور صحافیوں کے ساتھ ملاقات ہے۔ یہاں میرے علاوہ صرف ایک اور خاتون صحافی، امریکی خبررساں ادارے سی این این سے منسلک صوفیہ سیفی بھی موجود تھیں۔

صحافیوں نے امیر خان متقی سے چند سوال کیے جن کا انھوں نے جواب دیا۔ ان کے ترجمان عبدالقہار بلخی بھی ان کے ہمراہ تھے، جو انگریزی سوالوں کا ترجمہ کرتے۔

مگر طالبان کے وزیر خارجہ کی گفتگو کا بڑا حصہ اردو اور پشتو میں تھا۔ میرے افغانستان میں داعش سے متعلق سوال کا جواب بھی انھوں نے اردو میں ہی دیا۔

اس دوران سرگوشیوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا جس میں دفتر خارجہ کے اہلکار بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کی عشائیے پر صحافیوں سے ملاقات کا منصوبہ دفترخارجہ کی جانب سے تھا۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

بعد میں پتا چلا کہ افغان وفد کو علم نہیں تھا کہ عشائیے پر کون سے غیرملکی اداروں کے صحافی موجود ہوں گے۔

اس دوران مجھے وہیں موجود عملے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیرخارجہ متقی صاحب آپ کو انٹرویو نہیں دینا چاہتے جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔

میرے لیے یہ کافی حیران کن تھا اور میں نے اس پر سوالات اٹھائے۔ پہلے مجھے کہا گیا کہ ایسا بی بی سی کی وجہ سے ہے۔ مگر بعد میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ 'ان کا عملہ سمجھ رہا تھا کہ ایک مرد صحافی کے ساتھ ان کا انٹرویو ہے اور وہ خواتین کو انٹرویو نہیں دیتے۔'

بہرحال کچھ مزید کوشش کے بعد طالبان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی آخرکار ہمیں چند منٹ دینے کے لیے راضی ہو گئے مگر ان کے عملے میں موجود بعض افراد پھر بھی اس بات کی مخالفت کرتے دکھائی دیے کہ وہ بی بی سی سے منسلک ایک خاتون صحافی کو انٹرویو دیں۔ یعنی یک نہ شد دو شد!

لیکن خود امیر خان متقی کے رویے سے یہ تاثر نہیں مل رہا تھا کہ وہ انٹرویو نہیں دینا چاہتے۔

افغان طالبان اور خود پاکستان کے کئی وزرا بھی کہتے آئے ہیں کہ اب طالبان پہلے کی نسبت بدل گئے ہیں اور وہ خود کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

مگر گذشتہ روز طالبان وزیر خارجہ کے ساتھ انٹرویو کی کوشش کے دوران یہ احساس ہوا کہ اگر طالبان کے گروپ میں بعض افراد بدلنا چاہیں بھی تو ان کے اردگرد بہرحال سخت گیر موقف رکھنے والوں کا ایک ایسا گروہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہے جو طالبان کی حکومت اور کارکنوں کے خاص طور پر خواتین سے متعلق رویوں میں تبدیلی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔