افغانستان میں طالبان اپنے ’سر درد‘ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے باعث کس مشکل سے دوچار ہیں؟

طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مینا اللامی
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

گذشتہ منگل کو کابل کے ایک بڑے فوجی ہسپتال پر حملہ طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا تاہم اُنھوں نے اس حملے کی سنگینی کو گھٹا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سینیئر طالبان اہلکار مولوی حمداللہ اس حملے میں ہلاک ہوئے۔ حمداللہ کابل آرمی کور کے کمانڈر تھے۔

اگر اُن کی ہلاکت کی اطلاعات ٹھیک ثابت ہوتی ہیں تو طالبان کا بدلہ لینا یقینی ہے اور جلد ہی ملک میں تشدد کی ایک نئی لہر شروع ہو سکتی ہے۔

یہ وہی ہسپتال ہے جس پر سنہ 2017 میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے حملہ کیا تھا۔

بظاہر گذشتہ ماہ 18 ستمبر سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم دولتِ اسلامیہ خراسان نے طالبان کو کمزور کرنے کی باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے اور دولت اسلامیہ کے اس آپریشن میں اطلاعات کے مطابق 68 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان حملوں میں طالبان کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ساتھ ہی ساتھ شیعہ برادری بھی حملوں کی زد میں ہے۔ طالبان نے اقلیتوں کے تحفظ کا اعلان کیا تھا مگر ان حملوں کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اب تک اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں طالبان دولتِ اسلامیہ کی موجودگی محدود کرنے کی سخت کوششیں کر رہے ہیں۔ طالبان یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ زیادہ اہم نظر نہ آئے مگر کابل میں ہسپتال پر حملے سے یہ عیاں ہے کہ دولتِ اسلامیہ طالبان کے مضبوط علاقوں میں بھی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دولت اسلامیہ، طالبان

،تصویر کا ذریعہiSlamic state

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کا ہسپتال پر حملے کے بعد جاری کردہ بیان

متضاد دعوے

دو نومبر کو ہونے والے اس حملے کے بعد دولتِ اسلامیہ نے طالبان کو ہدف بنانے کی ذمہ داری قبول کی۔ دولتِ اسلامیہ نے اپنے دعوے میں کہا تھا کہ ہسپتال مخالفین کا تھا اور مرنے والے عام شہری نہیں بلکہ طالبان ارکان تھے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملہ طالبان کے وزیرِ دفاع کے اس ہسپتال کے دورے کے چند دن بعد ہی کیا گیا۔

یہ واضح ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا اشارہ طالبان حکومت کے عبوری وزیرِ دفاع ملّا محمد یعقوب کے اس ہسپتال کے 27 اکتوبر کو ہونے والے دورے کی طرف تھا۔

ملّا یعقوب طالبان کے بانی ملّا محمد عمر کے فرزند ہیں اور اُن کا ہسپتال کا دورہ پہلی مرتبہ تھا جس کے ذریعے وہ عوام کے سامنے آئے۔

دوسری جانب طالبان نے اس حملے کو ’شہریوں پر حملہ‘ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اُنھیں (طالبان) بہت کم نقصان پہنچا ہے۔

دو نومبر کے حملے کے بعد اپنے ایک بیان اور ٹویٹ میں طالبان نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ شہریوں، مریضوں اور ڈاکٹروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

طالبان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں تین خواتین، ایک بچہ اور تین طالبان ارکان ہلاک ہوئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کو ’ہلاکت خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں ایک خودکش بمبار، بارود سے بھری گاڑی اور کچھ دیگر وسائل استعمال ہوئے۔

شدت پسند تنظیم کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ یہ حملہ طالبان کے سکیورٹی انتظامات کے باوجود کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ’درجنوں‘ طالبان ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک اعلیٰ سطحی طالبان اہلکار بھی ہلاک ہوئے، جن کا نام نہیں بتایا گیا۔

دولت اسلامیہ، طالبان

،تصویر کا ذریعہiSlamic state

پاکستان میں قائم خبر رساں ادارے افغان اسلامک پریس نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں طالبان سپیشل فورسز کے سربراہ مولوی حمداللہ ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان نے اب تک حمداللہ کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے مگر طالبان سے منسلک ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان مسلسل اس حملے کو معمولی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی سکیورٹی فورسز نے یہ حملہ ناکام بنا دیا تھا۔ اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کو ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی روک لیا گیا تھا۔

طالبان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ صورتحال 15 منٹ میں قابو میں آ گئی تھی۔ اسی دوران دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اُس کے حملہ آوروں نے آخر تک لڑائی کی اور ہسپتال میں داخل ہونے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب طالبان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے مسلح افراد اور ائیرفورس تک اس کارروائی میں شامل تھے۔

طالبان کے مطابق ہیلی کاپٹروں کو زیادہ کام نہیں کرنا پڑا کیونکہ تب تک حملہ آوروں کا کام تمام ہو چکا تھا۔

طالبان نے ایک ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں صورتحال بظاہر معمول کے مطابق نظر آ رہی ہے۔

حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپندرہ اکتوبر کو قندھار میں شیعہ مسجد پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے جوتے پڑے ہوئے ہیں

دولتِ اسلامیہ کے آپریشنز

حالیہ حملوں کا مقصد طالبان حکومت کو کمزور کرنا ہے اور یہ مہم 18 ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔

اگست میں دولتِ اسلامیہ کے حملہ آوروں نے کابل ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا تھا مگر طالبان کو اس حملے کا مرکزی ہدف قرار نہیں دیا گیا تھا۔

اٹھارہ ستمبر سے دو نومبر کے درمیان دولتِ اسلامیہ کے خراسان ونگ نے مجموعی طور پر 68 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں سے 59 حملے افغانستان میں جبکہ نو حملے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئے۔

زیادہ تر حملے (41) جلال آباد میں ہوئے جو مشرقی ننگرہار صوبے کا دارالخلافہ ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے کابل میں سات، کنڑ میں چھ، پروان میں تین، اور ایک ایک حملہ قندوز اور قندھار میں کیا ہے۔ قندھار کو طالبان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

53 حملوں میں سے زیادہ تر میں طالبان براہِ راست ہدف تھے جبکہ دو طالبان ارکان کا سر بھی قلم کیا گیا۔ اس کے علاوہ طالبان کے دیگر اثاثوں مثلاً ایندھن کے ٹرکوں، ہسپتالوں اور بجلی کی نتصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دولتِ اسلامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں 86 طالبان ارکان ہلاک ہوئے ہیں جن میں طالبان حکام بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تین اکتوبر کو دولتِ اسلامیہ نے ایک طالبان جنازے پر بھی حملہ کیا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد آٹھ اور 15 اکتوبر کو جمعے کے روز شیعہ مساجد پر حملے ہوئے جن میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا حملہ قندھار میں کیا گیا تھا اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے طالبان کے روحانی مرکز کو نشانہ بنایا۔

دولتِ اسلامیہ کے کیمپ سے باہر موجود دیگر عسکریت پسند گروہوں نے طالبان پر حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ شیعہ اقلیتوں پر حملوں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

ان گروہوں کا الزام ہے کہ دولتِ اسلامیہ دشمن اداروں کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے جن کا مقصد طالبان حکومت کو زک پہنچانا ہے۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہTaliban

،تصویر کا کیپشنطالبان نے دولتِ اسلامیہ کے حملے بعد اپنے آپریشن کی ویڈیو بھی جاری کی

پرانی دشمنی

طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد 19 اگست کو دولتِ اسلامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اس کے جنگجو افغانستان میں ’جہاد‘ کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کو طالبان کے اقتدار میں واپس آنے پر غصہ ہے۔ اُنھوں نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ’حقیقی جہادیوں‘ کو ملک سے باہر نکال دیا ہے۔

اس کے علاوہ اُنھوں نے ملک میں کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

طالبان کی جانب سے بین الاقوامی برادری، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مذہبی اقلیتوں کو دیے گئے مثبت پیغامات کو دولتِ اسلامیہ اپنے مخالفین کی مذہبی ساکھ متاثر کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

طالبان نے بھی ردِ عمل دیتے ہوئے ننگرہار، کابل اور دیگر صوبوں میں دولتِ اسلامیہ کے کئی ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے جبکہ کچھ کو ہلاک بھی کر دیا گیا۔

سات اکتوبر کو طالبان ترجمان اور نائب وزیرِ اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے دولتِ اسلامیہ کو ’سردرد‘ قرار دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کی جڑیں گہری نہیں ہیں اور اُن کا جلد ہی صفایا کر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اُنھوں نے دو نومبر کو مبینہ طور پر سابق طالبان اہلکاروں کے دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے دعووں کی تردید بھی کی۔

طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے افغان اخبار ’ہشت صبح‘ کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کی افغانستان میں موجودگی نہیں ہے۔

مگر طالبان کے دعووں اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف اس کے کوششوں کے برعکس یہ گروہ اب بھی چھوٹے پیمانے پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ان میں لوگ مارے جا رہے ہیں۔

اگر یہ صورتحال جاری رہی تو طالبان حکومت کو نقصان پہنچے گا کیونکہ یہ بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک اچھا منتظم دکھائی دینا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کی ساکھ مقامی لوگوں کے سامنے بھی متاثر ہو گی جن کے محافظ ہونے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔