دولت اسلامیہ خراسان کے افغانستان میں بڑھتے حملوں میں طالبان کے لیے کیا پیغام ہے؟

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
جب کابل میں اشرف غنی کی حکومت تھی تو افغان سکیورٹی فورسز کو ننگر ہار اور جلال آباد میں جہاں ایک طرف طالبان کے حملوں کا سامنا تھا تو دوسری جانب نام نہاد دولت اسلامیہ بھی اس حکومت کو نشانہ بنا رہی تھی۔
15 اگست کو طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب افغانستان میں دولتِ اسلامیہ خراسان نے بظاہر طالبان کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔
درحقیقت افغانستان سے امریکہ اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران ہی ملک میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے خطرات کی گونج سنائی دینے لگی تھی اور تمام تر سکیورٹی کے باوجود دولت اسلامیہ نے 26 اگست کو کابل ائیرپورٹ کے باہر بڑا خود کش حملہ کر کے امریکی فوجیوں سمیت سو سے زائد عام شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
مبصرین کے مطابق ننگر ہار اور جلال آباد جیسے اپنے مضبوط گڑھ سے نکل کر کابل میں دولت اسلامیہ کا یہ ایک بڑا حملہ تھا، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اب طالبان کے لیے شمالی اتحاد یا کسی اور گروہ سے بڑھ کر سب سے بڑا خطرہ نام نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ ہے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر جلال آباد میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری بھی دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کرتے ہوئے باقاعدہ اپنے ٹیلی گرام چینل سے اسے اپنی ’کامیابی کے اعلان‘ کے طور پر نشر کیا ہے۔
ان حملوں میں مجموعی طور پر 35 افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ حملے 18 اور 19 ستمبر کو صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد اور اس کے مضافات میں کیے گئے ہیں۔
الجزیرہ چینل کے مطابق افغان طالبان یا امارات اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تفصیلات بتائے بغیر ان حملوں کا الزام نام نہاد دولت اسلامیہ پر عائد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کے نشانے پر کیسے آئے؟
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ان کے جنگجو اب پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وقت میں اتنی بڑی تعداد میں دھماکے کیے گئے ہیں اور ان کی ذمہ داری دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کی ہے۔
سینیئر افغان صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ حملوں کی پہلے سے ہی توقع تھی کیونکہ نام نہاد دولت اسلامیہ اور طالبان میں نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان ماضی میں بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دولت اسلامیہ افغان طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
انھوں نے کہا کہ جیسے ماضی قریب میں افغان حکومت طالبان کے حملوں کے سامنے بے بس نظر آتی تھی اب بظاہر طالبان حکومت دولت اسلامیہ کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔
سینیئر تجزیہ کار عبدالسید نے بی بی سی کو بتایا کہ نام نہاد دولت اسلامیہ اس سے قبل بھی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جلال آباد اور اس سے ملحقہ ننگرہار کے اضلاع میں اس وقت کی افغان پولیس اور سکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کو چھوٹے بموں کے ذریعے نشانہ بناتی رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب جبکہ طالبان نے حکومت کی ذمہ داریاں اور گاڑیاں سنبھال لی ہیں تو اب وہ نشانے پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں داعش اب اپنے ’دشمن‘ افغان طالبان کے جنگجوؤں کو آسانی سے نشانہ بنا سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ حالیہ حملے چھوٹے نوعیت کے تھے مگر اس سے طالبان کے ان دعوؤں پر سوالیہ نشانات لگے ہیں جو انھوں نے ماضی میں کیے یعنی یہ کہ افغانستان میں نام نہاد ’دولت اسلامیہ خراسان کا کوئی وجود نہیں ہے‘۔
سمیع یوسفزئی کے مطابق جب طالبان کابل میں داخل ہوئے اور جیلوں کو توڑا گیا تو اس وقت نام نہاد دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے قیدی بھی فرار ہو رہے تھے۔ فرار کی ان کوششوں کے دوران طالبان نے دولت اسلامیہ کے کارکنوں کو ہلاک کیا تھا جس کے باعث دولت اسلامیہ میں غصہ پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ داعش ان حملوں سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ان حملوں سے ایک طرف طالبان پر دباؤ بڑھایا جائے گا اور دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی حیثیت منوانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلیکٹ سٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر بابر شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں تمام سٹیک ہولڈرز اپنی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہiSLAMIC STATE PROPAGANDA
طالبان نے سلفی مسلک کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے؟
عبدالسید نے داعش یا دولت اسلامیہ خراسان کے نظریات کے بارے میں بتایا کہ داعش مذہبی حوالے سے طالبان سے بھی زیادہ شدت پسند مذہبی نظریات کے پیروکار ہیں اور ان میں بیشتر طالبان کے سابق انتہا پسند حامیوں کی ہے جو موجودہ طالبان کو اپنے بنیادی مذہبی پالیسیوں سے منحرف قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
عبدالسید کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان میں اکثریت سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے افغانوں کی ہے جو حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے طالبان کی بالادستی کے مخالف ہیں۔ مختلف ذرائع کی رپورٹس کے مطابق طالبان نے اقتدار حاصل کرتے ہی افغانستان میں سلفی مسلک کی ان مساجد اور مدارس کے خلاف اقدامات کیے ہیں جو کہ ماضی میں کسی نہ کسی صورت داعش کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ ان میں سلفی مکتبہ فکر کے بعض بااثر رہنما بھی شامل ہیں جن کے شاگرد یا ان سے وابسطہ رہنے والے افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کا حصہ بن گئے تھے۔
عبدالسید نے بتایا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان میں سلفی مسلک کابل سمیت مشرقی اور شمالی صوبوں خصوصاً کنڑ اور ننگرہار میں تیزی سے پھیل چکا ہے۔ صوبہ ننگرہار ہی داعش کے قیام سے کئی برسوں تک اس کا مضبوط گڑھ رہا ہے، جہاں سے اس تنطیم نے افغان طالبان کی قوت کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا۔
ان اقدامات کے بعد افغانستان کے سلفی رہنماؤں نے اس خطرے کا مسلسل اظہار کیا کہ اگر طالبان کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کے مسلک کے خلاف اقدامات بند نہیں کیے جاتے اور اس پر طالبان کی مرکزی قیادت کی یوں ہی خاموشی رہتی ہے تو یقیناً نوجوان طالبان کے خلاف انتقاماً دوبارہ داعش کا حصہ بن سکتے ہیں۔
سمیع یوسفزئی کے مطابق داعش یا نام نہاد دولت اسلامیہ کا ایجنڈا بہت وسیع ہے اور یہ تنظیم عالمی سطح پر متحرک ہے لیکن افغانستان میں اس تنظیم میں سارے افغان شامل ہیں۔
ان کے مطابق یہ تنظیمیں اس وقت ملک میں زیادہ سے زیادہ حیثیت اور اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ان میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی سرگرمیاں زیادہ نظر آ رہی ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ اس کے برعکس طالبان کا ایجنڈا اور ان کے مقاصد افغانستان کی سرحد کے اندر ہیں، ان کا کوئی عالمی ایجنڈا نظر نہیں آتا۔
القاعدہ مشکل میں
کابل کے ہوائی اڈے پر حملوں سے القاعدہ اور اس کے حامیوں کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
اگر ایک طرف القاعدہ ان حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر خوشی بھی منانا چاہ رہی ہو لیکن دوسری طرف یہ حملہ القاعدہ کے ایک مخالف گروہ دولت اسلامیہ نے کیا ہے اور اس کے القاعدہ کے اتحادی طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
القاعدہ کے حامیوں نے پیغام رسانی کے ایپ ٹیلی گرام پر دولت اسلامیہ کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن القاعدہ کے ایک سرکردہ حامی وراث القسم نے کہا ہے کہ جس حملے میں امریکی ہلاک ہوئے ہوں اس کی ’تعریف کرنا چاہتے ہیں بیشک یہ ان کی مخالف جہادی تنظیم ہی کی طرف سے کیوں نہ کیے گئے ہوں‘۔
اسی دوران کچھ جہادیوں جن میں الذھبی جو شام میں موجود حیات تحریر الشام کے حامی ہیں، انھوں نے دولت اسلامیہ کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد ’افغانستان میں امن قائم کرنے اور اسلامی امارات کی بنیاد رکھنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ واضح طور پر دولت اسلامیہ کی طالبان کی کامیابیوں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں حاصل ہونے والی کوریج پر ’شدید جلن‘ کا نتیجہ ہے۔
ایک اور مذہبی رہنما الحسن بن علی الکتانی نے دولت اسلامیہ کو ’احمق اور لاپرواہ‘ قرار دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دولت اسلامہ نے ’اسلام اور مسلمانوں کو صرف نقصان ہی پہنچایا ہے‘۔










