ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے کے لیے حکومت کی تین شرائط: ’آئین تسلیم کریں، ہتھیار پھینکیں اور شناختی کارڈ بنوائیں‘

تحریکِ طالبان پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتحریکِ طالبان پاکستان میں مختلف دھڑے بنتے رہے ہیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ معاہدے کے خدو خال سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور ابتدائی طور پر ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ساتھ یہ کوئی پہلی مرتبہ مذاکرات اور معاہدہ نہیں ہونے جا رہا بلکہ اس سے پہلے بھی لگ بھگ ایک درجن مرتبہ مذاکرات شروع کیے گئے اور چند ایک مرتبہ امن معاہدے بھی کیے، لیکن یہ معاہدے ناکام ہوئے اور ان کے بعد فوجی آپریشن کیے گئے۔

اس مرتبہ موجودہ حکومت ایک مہینے کے دوران دوسری کالعدم تنظیم کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔ اس سے پہلے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا اور اس پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔

طالبان کے ساتھ اب کیا معاہدہ ہوا ہے؟

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہی ہے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

ان کے بیان کے بعد ذرائع سے معلوم ہوتا رہا کہ مذاکرات میں کتنی پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس میں تحریک طالبان کے قیدیوں کی رہائی کی باتیں بھی سامنے آئیں اور اس کے علاوہ افغان طالبان کے پاکستانی طالبان پر دباؤ کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ اس میں افغان طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے اہم رکن سراج الدین حقانی کا کردار اہم سمجھا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز قومی سلامتی کے ایک اجلاس کے بعد ایک حکومتی وزیر نے بی بی سی کو اس بارے میں دی گئی بریفنگ سے متعلق کہا کہ 'طالبان سے مذاکرات کی تین شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، ہتھیار پھینکنا اور پاکستان کے شناختی کارڈ بنوانا یعنی اپنی شناخت ظاہر کرنا شامل ہے۔'

اس سوال پر کہ کیا تمام طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور یہ کہ کیا ’ہارڈ کور دہشتگردوں‘ کے لیے بھی مفاہمت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ ’تمام بارہ گروہوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔‘

’ان کی تعداد دو ہزار سے پچیس سو کے قریب ہے۔ ان میں شامل وہ افراد جو کسی دباؤ یا معاشی بدحالی کے باعث ان کا حصہ بنے یا ان کے حل طلب تخفظات ہیں تو ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر 80 فیصد ہتھیار ڈال دیں گے تو باقی بیس فیصد کا حل بھی نکال لیں گے۔‘

طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے اہم نکات میں دونوں جانب سے کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق ہوا ہے جو مذاکراتی عمل آگے بڑھائیں گی۔

فریقین کی جانب سے ایک ماہ کی یعنی 9 نومبر سے 9 دسمبر تک فائر بندی ہو گی جس میں توسیع کی جا سکتی ہے، افغان طالبان یعنی امارات اسلامی افغانستان ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بارہ دھڑے کیا ہیں؟

حکومتی وزیر کی جانب سے بارہ دھڑوں میں بظاہر وہ گروہ شامل ہیں جو تحریک طالبان سے علیحدہ ہو گئے تھے یا انھوں نے اپنے دھڑے قائم کیے تھے اور پھر گزشتہ سال اگست میں ان تمام دھڑوں کا انضمام ہو گیا تھا۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد افغان طالبان کی طرز پر پاکستان میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی اور یہ تنظیم متعدد شدت پسند کارروائیوں میں ملوث رہی۔ اس تنظیم کے سربراہ نیک محمد، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، مولانا فضل اللہ، خان سید سجنا اور دیگر کمانڈر رہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم میں اختلافات بڑھتے گئے جس وجہ سے یہ تنظیم دھڑا بندی کا شکار ہو گئی تھی۔

احسان اللہ احسان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناحسان اللہ احسان پاکستان کی فوج کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور بعد میں جماعت الاحرار کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے والے احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگست 2015 میں تحریک کے کچھ کمانڈروں کے تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات تھے جن کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اس کے بعد جماعت الاحرار سے بھی کچھ لوگ علیحدہ ہوئے اور نومبر 2017 کو حزب الاحرار کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔

اس کے علاوہ اس تنظیم سے جڑا حافظ گل بہادر گروپ پہلے ہی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر راضی ہو چکا ہے۔ ان دیگر دھڑوں میں شہریار گروپ، گنڈہ پور گروپ، طارق گروپ اور باجوڑ، مہمند، محسود اور سوات سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل گروپ شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں عرفان صدیقی کی سربراہی میں قائم حکومتی کمیٹی کے رکن اور جمعیت علماء اسلام س کے رہنما مولانا یوسف شاہ نے بتایا کہ جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو تمام گروپ عام طور پر ایک ہی پیج پر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں جب انھوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کیے تھے تو اس وقت بھی یہ تمام گروپ ایک ہی پیج پر تھے اور ان تمام کی بات سنی جاتی ہے۔

ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے امکانات کتنے ہیں؟

سوات میں فوجی آپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسوات میں فوجی آپریشن: فائل فوٹو

یہ پہلی مرتبہ نھیں ہے کہ حکومت پاکستان ان کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کرنے جا رہی ہے بلکہ اس طرح کے معاہدے اور مذاکرات کوئی ایک درجن کے قریب پہلے بھی ہو چکے ہیں جن میں کوئی کامیاب نہیں رہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور انسداد دہشت گردی کے امور کے ماہر محمد عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مذاکرات اور معاہدوں کی ناکامی کا ذمہ دار فریقین ایک دوسرے کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا حکومت طالبان کے بارے میں کہتی ہے طالبان اپنی قوت بڑھانے کے لیے وعدے کرتے ہیں جبکہ طالبان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت ان وعدوں کی پاسداری نہیں کرتی۔

اس مرتبہ جو فرق سامنے آیا ہے اس میں افغان طالبان کی ثالثی شامل ہے۔ عامر رانا کے مطابق اس وقت پاکستان ریاست کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ اس سے دو مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد میں تحریک طالبان کے لوگ سرنڈر کر سکتے ہیں یعنی ہتھیار ڈال سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ کم ازکم ٹی ٹی پی کے دھڑوں میں تفریق پید ہو سکتی ہے۔

شدت پسندی کے موضوع پر کام کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغان طالبان اس میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ بات بعید از امکان ہے کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کو دباؤ میں لائیں گے یا ان کے لیے راستے بند کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے کو پارلیمان میں لے جائے اور اس میں وسیع بنیاد پر طریقۂ کار وضع کر کے کوششیں کی جائیں تو اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ دیرپا اتفاق ہو جائے، بصورت دیگر انھیں اس طرح ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن

عامر رانا کا کہنا ہے افغان طالبان جس طرح داعش کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں یا انھیں افغانستان سے نکالنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، اس طرح کی کارروائی کا ٹی ٹی پی کے لوگوں کے خلاف امکان نہیں ہے۔

ماضی کے معاہدے اور ان کا انجام؟

عامر رانا کے مطابق جب سے کالعدم تنظیم یا اس سے جڑے گروپ متحرک ہوئے ہیں تب سے اب تک ان کے ساتھ تیرہ مرتبہ مذاکرات اور معاہدے ہو چکے ہیں اور تمام ناکام رہے ہیں۔

ان میں نمایاں معاہدے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئے اور ان معاہدوں اور مذاکرات کے بعد بڑے فوجی آپریشن کیے گئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سال 2008 میں حکمران جماعت تھی اور اس وقت خیبر پختونخوا میں اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی بر سر اقتدار تھی۔

یہ بھی پڑھیئے

تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ 2008 میں جو معاہدہ کیا گیا تھا اس میں حکومت کی جانب سے جو شرائط عائد تھیں ان میں یہ کہا گیا کہ املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ نہیں کریں گے، ریاستی اداروں، سکولوں کالجوں اور عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

جبکہ طالبان کی جانب سے یہ شرائط تھیں کہ ان کے کارکنوں کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات کو ختم کیا جائے یا عدالتوں میں جو مقدمات ہیں انھیں نمٹایا جائے اور یہ بھی کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت نافذ کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت حکومت نے پاٹا ریگولیشن کی جگہ پر شریعت ریگولیشن نافذ کردیا تھا اور اس وقت شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کو رہا کیا گیا تاکہ وہ لوگوں کو اس کے لیے راضی کرے کہ معاہدہ ہوا ہے اور وہ اب حکومت اور آئین کے پابند ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس صوفی محمد نے اس وقت جمہوری نظام کو کفری نظام قرار دیا، جس سے حالات خراب ہوئے اور اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ حکومت نے اس کے بعد سوات میں فوجی آپریشن شروع کر دیا تھا ۔

نیک محمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسب سے پہلے امن معاہدہ نیک محمد کے ساتھ ہوا تھا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مذاکرات کا کیا ہوا؟

پاکستان میں تشدد کے واقعات مسلم لیگ کے دور میں بھی جاری رہے اور تحریک طالبان ان میں سے بیشتر واقعات کی ذمہ داریاں لیتی رہی۔ اس دوران سال 2013 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اس کے لیے حکومتی کمیٹی قائم کی گئی، جس کی سربراہی وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے قومی امور عرفان صدیقی کر رہے تھے۔ اس کمیٹی میں مولانا سمیع الحق کا نام شامل تھا لیکن ان کی جگہ مولانا یوسف شاہ مذاکرات میں شرکت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی، میجر ریٹائرڈ محمد عامر، رستم شاہ مہمند شامل تھے۔

مولانا یوسف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مذاکرات کامیابی سے جا رہے تھے اور وہ قریب تھے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ طے پاجاتا۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ 2013 میں شروع کیا گیا تھا اور طالبان کی جانب سے کوئی ایسی شرائط عائد نہیں کی گئی تھیں جنہیں منع کیا جا سکتا اور حکومت نے بھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جو رکاوٹ بنتی۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان نے کچھ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور اس بارے میں حکومت آمادہ نظر آ رہی تھی اور ہاں ہاں تو کر رہی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا اور اسی دوران آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف اس پر راضی تھے لیکن اس وقت حکومت اور ادارے ایک پیج پر نظر نہیں آ رہے تھے اور ان میں دوریاں پائی جاتی تھیں جس وجہ سے شائد مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان آئین کی پاسداری پر راضی تھے۔

مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ ادارے بھی مذاکرات اور معاہدہ چاہتے ہیں اور حکومت اور اداروں کی دلچسپی بھی نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب مذاکرات کیے تھے اس وقت طالبان کے تمام دھڑوں کی نمائندگی تھی اور تمام دھڑے مذاکرات کے لیے راضی تھے، اب بھی ان کی اطلاع کے مطابق تمام دھڑے ایک پیج پر نظر آتے ہیں اور کوئی اختلاف نظر نہیں آ رہا۔

اس کے علاوہ جو مذاکرات اور معاہدے ہوئے ان میں نیک محمد، بیت اللہ محسود، مولوی فضل اللہ، فقیر محمد، منگل باغ، حافظ گل بہادر کے ساتھ کیے گئے مذاکرات شامل تھے اور ان میں کم سے کم تین امن معاہدے ہوئے جو چل نہیں سکے اور ان کے نتیجے میں حکومت کو فوجی آپریشن کرنے پڑے۔