پاکستان اور ٹی ٹی پی کے ’مذاکرات‘: پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے کب کب معاہدے کیے اور ان کا نتیجہ کیا نکلا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے ٹی آر ٹی نیوز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان، کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے مختلف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور پاکستان کے عسکری حکام نے بھی اس بات چیت کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حال ہی میں افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے ایک وفد نے افغانستان میں ملاقات کی ہے جو پاکستان کی حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد کی گئی۔
ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ عام معافی مشروط ہو گی۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی سے منسلک کچھ نام ایسے ہیں جنھیں معاف کرنے کے حوالے سے فوج انکاری ہے اور یہ کہ ان ناموں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے جو ایسی کسی ’ایمنسٹی‘ سکیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی سکیورٹی رپورٹ کے مطابق اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے چھ سے ساڑھے چھ ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ پاکستان کی حکومت، فوج اور طالبان کے درمیان معاہدے یا مذاکرات کی بات چیت کی گئی ہے۔
ماضی میں پاکستان نے کئی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ باقاعدہ تحریری اور بعض اوقات غیر تحریری معاہدے کیے ہیں۔ ان میں تین بڑے معاہدے سوات اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے۔
ان تمام معاہدوں سے متعلق دو اہم حوالے قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ ان معاہدوں یا مذاکرات کے وقت ان علاقوں میں ریاست کی رٹ بالکل ختم ہو چکی تھی، فوج کو بھاری نقصان کا سامنا تھا لہٰذا حکومت کی پوزیشن نہایت کمزور اور شدت پسند تنظیموں کا پلڑا بھاری تھا۔
دوسرا یہ کہ تقریباً تمام معاہدے ناکام ثابت ہوئے اور ان کے نتیجے میں شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف ان علاقوں میں قدم جمانے کا موقع ملا بلکہ ان تنظیموں نے دیگر علاقوں میں پھیلنا شروع کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذیل میں ان چند معاہدوں کی تفصیل ہے جو پاکستان اور شدت پسند تنظیموں خصوصاً طالبان کے ساتھ طے پائے گئے۔
شکئی امن معاہدہ

سلیم شہزاد اپنی کتاب ’انسائیڈ القاعدہ اینڈ دی طالبان بیانڈ بن لادن‘ میں لکھتے ہیں کہ 24 اپریل 2004 کو شکئی امن معاہدہ کیا گیا جو پاکستان مخالف شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان اپنی طرز کا پہلا معاہدہ تھا۔
معاہدہ جنوبی وزیرستان میں نیک محمد اور حکومت کے درمیان طے پایا۔ لیفٹیننٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی کی کتاب ’بیئانڈ تورا بورا‘ کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے 27 سال کے نیک محمد سے ملاقات کی۔
سلیم شہزاد کے مطابق اس ’معاہدے سے قبل پاکستانی فوج نے وہاں اس وقت امریکہ کے دباو پر کلوشہ آپریشن شروع کیا جب افغانستان سے القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجو منتقل ہوئے تاہم فوج کو آپریشن میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا‘ جس کے بعد بات چیت کا فیصلہ کیا گیا۔
اسٹیو کول نے اپنی کتاب ’ڈائریکٹوریٹ ایس‘ میں لکھا ہے کہ نیک محمد پر الزام تھا کہ ان کی پناہ میں غیر ملکی جنگجو تھے جو افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس وقت یہ تعداد چار سو تھی۔
وہ لکھتے ہیں کہ نیک محمد کی پناہ میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عرب اور ازبک، چیچن اور افغان جنگجو تھے جبکہ افغان طالبان سے منسلک افراد بھی شامل تھے۔
یہی وجہ ہے کہ نیک محمد پہلے ہی امریکہ کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ ڈائریکٹوریٹ ایس کے مطابق ’اس سے قبل جب 2003 میں جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا تو امریکہ کی خفیہ ایجنسی نے انھیں بتایا کہ اس حملے میں نیک محمد کا ہاتھ ہے۔ اسلام آباد میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ملاقات کی اور انھیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ نیک محمد کے خلاف آپریشن کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ کو انھیں مارنا پڑے گا ورنہ یہ ہمیں مار دیں گے۔‘
پاکستان نے آپریشن میں موثر نتائج حاصل نہ ہونے پر نیک محمد کو مذاکرات کی پیشکش کی جسے نیک محمد نے قبول کیا۔ سلیم شہزاد اپنی کتاب میں اس معاہدے کی شقوں سے متعلق لکھتے ہیں کہ شکئی امن معاہدے کے مطابق پاکستان نے یہ شرط قبول کی کہ وہ نیک محمد کے گرفتار ساتھیوں کو رہا کرے گا جبکہ فوجی آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کےلیے مقامی افراد جن میں جنگجو شامل ہیں کو رقم دی جائے گی۔
مقامی اخبار ڈان نیوز کے مطابق معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے شدت پسندوں کو رقم دی گئی تاکہ وہ القاعدہ سے لیا گیا قرض واپس کر سکیں۔
سلیم شہزاد لکھتے ہیں کہ نیک محمد سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر ملکی جنگجووں کی تفصیل دیں گے اور افغانستان میں حملے بند کریں گے۔
اس وقت کی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد نیک محمد نے غیر ملکی جنگجووں کو فوج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق شدت پسندوں نے ان مقامی عمائدین کو قتل کرنا شروع کر دیا جنھوں نے ان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی تھی۔
اس وقت سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے امریکی خبررساں ادارے پی بی سی کو لکھا کہ اس معاہدے نے نیک محمد، جو اس سے پہلے قبائل میں خاص اثرورسوخ نہیں رکھتے تھے، کو انتہائی مضبوط کیا۔
یہی تجزیہ سلیم شہزاد نے اپنی کتاب میں دیا اور لکھا کہ ’تکنیکی طور پر سنہ 2004 میں ہونے والے شکئی امن معاہدے نے القاعدہ اور قبائلی علاقوں میں ان کے اتحادیوں کو مضبوط کیا اور انھیں وہ سپیس دی جو ایک جنگ کے لیے چاہیے تھی۔ جنوبی وزیرستان (محسود اور وزیر قبائل) کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب ان کے پاس ایک آپریشنل بیس موجود تھی۔‘
شکئی معاہدہ دستخط ہونے کے بعد ہی ختم ہو گیا اور فوج نے اسی سال جون میں فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔
اسٹیوکول نے اپنی کتاب ’ڈائریکٹوریٹ ایس‘ میں نیک محمد کی ہلاکت کے بارے میں لکھا ہے کہ ٹھیک ایک ماہ بعد ’جب نیک محمد اپنے اس سیٹلائیٹ فون پر کسی سے گفتگو کر رہے تھے جس پر وہ ریڈیو کو انٹرویو دیا کرتے تھے، امریکی حکام نے اس کال کو انٹرسیپٹ کیا اور اس وقت وزیرستان کے اوپر موجود ڈرون سے ’ہیل فائر‘ نامی میزائل فائر کیا گیا اور نیک محمد ہلاک ہو گئے۔
سراروغہ امن معاہدہ
سلیم شہزاد نے اپنی کتاب ’انسائیڈ القاعدہ اینڈ طالبان‘ میں تفصیل سے اس معاہدے کا ذکر کیا جو فروری 2005 میں جنوبی وزیرستان میں ہی سراروغہ میں ہوا۔ چھے شقوں پر مشتمل یہ معاہدہ تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سلیم شہزاد کے مطابق ’معاہدے میں بیت اللہ محسود نے حکومتی اہلکاروں اور دفاتر پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی کہ وہ غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ فراہم نہیں کریں گے۔‘ اس کے بدلے میں ان کے لیے ساتھیوں سمیت معافی کا اعلان کیا گیا۔
بی بی سی کی معاہدے ناکام ہونے سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد طالبان کا شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں کی جانب پھیلاو روکنا تھا مگر یہی مقصد حاصل نہ ہو سکا اور تحریک طالبان مضبوط تر ہوتی گئی۔ طالبان اور فوج کے درمیان کارروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا جبکہ شہری علاقوں میں خودکش حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔
طالبان کا اثرورسوخ تمام قبائلی علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ اسی دوران بیت اللہ محسود کی سرپرستی میں ان علاقوں میں موجود کئی گروہوں نے تحریک طالبان پاکستان چیپٹر کا اعلان کیا۔
عسکری حکام کے مطابق پاکستانی فوج نے اس دوران آپریشن ’ٹرائی سٹار‘ جس میں پاکستان کی تمام مسلح افواج شامل تھیں، کے تسلسل میں جنوری 2008 میں آپریشن زلزلہ کا آغاز کیا۔ ا
سٹیو کول نے بھی اپنی ’کتاب ڈائریکٹوریٹ ایس‘ میں اس آپریشن کا ذکر کیا ہے۔ بیت اللہ محسود آخر کار اگست 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے مگر وہ حکیم اللہ محسود کے لیے ایک نہایت مضبوط تحریک طالبان پاکستان چھوڑ گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فوج نے بعد میں یہاں آپریشن راہ نجات جیسے آپریشنز بھی شروع کیے اور علاقے کو کلیئر کرنا شروع کیا۔
یوں دوسرا بڑا امن معاہدہ بھی ناکام ثابت ہوا۔
سوات امن معاہدہ
تیسرا بڑا اور اہم امن معاہدہ سوات میں مئی 2008 میں کیا گیا۔ سوات میں 2001 میں ہی شدت پسندی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملا فضل اللہ اور ان کے ماننے والوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا اور وہ سوات سمیت پورے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملا ریڈیو کے نام سے مشہور ملا فضل اللہ حکومت اور فوج خلاف ایف ایم پر خطبے دیتے، لڑکیوں کے سکول جائے گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
سنہ 2007 میں لال مسجد واقعہ نے انھیں ایک بہترین موقع دیا کہ وہ اپنے شدت پسندانہ پیغام کو زیادہ پھیلائیں اور انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔
سنہ 2008 میں خیبرپختونخواہ میں پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوات کے حالات قابو میں کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
بی بی سی کی اس وقت کی رپورٹ کے مطابق مئی 2008 میں 16 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تاہم معاہدے کے چند دن بعد ہی ملا فضل اللہ اور صوفی محمد نے ہتھیاڑ ڈالنے سے انکار کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی فوج پہلے اس علاقے سے نکلے اور ساتھ ان کے گرفتار کیے گئے ساتھیوں کو پہلے رہا کیا جائے۔
حملے دوبارہ شروع ہوئے اور بالآخر فوج نے آپریشن راہ حق کا آغاز کیا۔
سلیم شہزاد کے مطابق خیبر پختونخواہ کی حکومت فروری 2009 میں سوات میں طالبان کی شریعت پر مبنی ’نظام عدل‘ نافذ کرنے پر مان گئی، جس کے بعد ملا فضل اللہ نے سیز فائر کا اعلان کیا تاہم یہ معاہدہ بھی ناکام ہو گیا۔
اس دوران ملا فضل اللہ کے زیرقیادت طالبان مزید طاقتور ہو چکے تھے اور انھوں نے مینگورہ، شانگلہ اور بونیٹر ڈسٹرکٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا تھا۔
حکومت اور فوج نے آپریشن راہ راست کا اعلان کیا۔ ملا فضل اللہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت سوات سے سابق فاٹا میں فرار ہو گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی یا تو ہلاک ہو گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔
اس جنگ کے دوران بھی پاکستانی فوج نے مقامی افراد، جو طالبان کے ہمراہ فوج کے خلاف لڑ رہے تھے، کے لیے معافی کا اعلان کیا۔ اسی موقع پر ان کے لیے فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز قائم کیے اور ان کی نئے سرے سے تربیت کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کی 2018 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انھوں نے ’نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، میجر جنرل ثنا اللہ اور آرمی پبلک سکول پر حملے‘ کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ افغانستان فرار ہوئے اور صوبہ کنڑ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔
غیر تحریری معاہدے
کئی ایسے معاہدے بھی ہیں جو تحریری طور پر نہیں کیے گئے۔ ان معاہدوں کی شرائط لگ بھگ انہی تین بڑے معاہدوں کی طرز پر رہیں۔
عسکری حکام کے مطابق ان معاہدوں کا مقصد عام طور پر کسی بھی علاقے میں اس چھوٹے گروہ کی کاروائیوں کو روکنا ہوتا تھا تاکہ اس دوران خود فوج کو وقت مل سکے کہ وہ منصوبہ بندی کریں۔ بعض اوقات ان کا مقصد ان گروہوں سے ہتھیاڑ پھینکوانا ہوتا تھا تاہم ان میں سے بھی بیشتر ناکام رہے۔
ایسے ہی غیر تحریری معاہدوں میں سے ایک سراروغہ کی طرز پر شمالی وزیرستان میں کیا گیا۔ مقامی اخبار ڈان نیوز کے مطابق یہ ایک متنازعہ معاہدہ تھا جو 2006 میں حافظ گل بہادر کے ساتھ کیا گیا۔
گل بہادر شوری مجاہدین گروپ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان پر افغانستان میں حملوں کا الزام لگتا تھا۔
ان کے بارے میں سلیم شہزاد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ انھی گروپس میں سے ایک ہیں جن کے لیے ’گڈ طالبان‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے اور ان کی طرح یہ بھی امریکی افواج کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے۔
پاکستان نے ان سے معاہدہ کیا کہ وہ پاکستانی فوج اور شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ 2008 میں بھی دوبارہ کیا گیا اور اس گروہ نے فوج کے خلاف کارروائیاں روک دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم 2014 میں جب پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو حافظ گل بہادر گروپ نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب وہ ’افغانستان میں اپنی کارروائیاں روک رہے ہیں اور پہلے پاکستانی فوج سے نمٹیں گے۔‘
خیال رہے کہ یہ وہی گروپ ہے جس نے وزیراعظم کی جانب سے طالبان سے بات چیت کے حالیہ بیان کے بعد سیز فائر کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح کا ایک اور امن معاہدہ خیبر ڈسٹرکٹ میں لشکر اسلام (منگل باغ) اور انصار الاسلام (قاضی محبوب) گروپس کے ساتھ کیا گیا۔ یہ معاہدہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور ان گروپس کے خاتمے کے لیے آپریشن صراط مستقیم شروع ہوا۔
ڈان اخبار کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2008 میں ہی باجوڑ میں فقیر حسین کے ساتھ معاہدہ کیا گیا مگر وہ بھی نہ چل سکا اور بالآخر فوج کو آپریشن شیر دل کرنا پڑا۔












