تحریک طالبان اور حکومت میں مذاکرات: ’ریاست پاکستان کی شرائط پر مذاکرات ہوئے تو ٹھیک ورنہ فوج شدت پسندوں کے خاتمے تک لڑے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
حکومت پاکستان اور شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات اور فائر بندی پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کے بعد عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا انحصار ریاست کی جانب سے طے کردہ شرائط اور ریڈ لائنز پر ہو گا جو تحریک طالبان کے سامنے رکھی جا چکی ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں موجود ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ہونے والا اجلاس ناصرف خوشگوار ماحول میں ہوا بلکہ اس بات پر فریقین کا اتفاق تھا کہ اگر مذاکرات ریاستی شرائط کے تحت نہ ہوئے تو فوج شدت پسندوں کے خاتمے تک اُن سے لڑے گی۔
پارلیمانی اجلاس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے بارے میں بی بی سی نے جب فوجی اہلکار سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی، پاکستانی فوج اور سوسائٹی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ شدت پسندی کو کیسے ختم کیا جائے اور اس کے لیے بہتر موقع کیا ہو سکتا ہے۔
فوجی اہلکار کے مطابق یہ تمام سوالات اس بریفنگ میں بھی اٹھائے گئے جو سیاسی قیادت کو دی گئی جس میں مذاکرات کے حق اور مخالفت میں دلائل سامنے رکھے گئے جس کے بعد یہ بھی طے ہوا کہ ان مذاکرات کے دوران تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی جس پر سب شرکا نے اتفاق کیا۔ اعلی عسکری اہلکار نے یہ بھی کہا کہ ابھی مذاکرات کی ابتدا ہے اور ریاست کی جانب سے ریڈ لائنز کا تعین کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں فوجی قیادت نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو تحریک طالبان پاکستان سے ہونے والے مذاکرات اور دیگر اہم سکیورٹی امور پر بریفنگ دی تھی۔
تاہم اس اجلاس کے بعد پاکستان میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر رہنماؤں نے اس معاملے میں پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنے کے اقدام پر تنقید کی تھی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کی خبروں پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے بھی اس پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں کسی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوا تو کون ہوتا ہے صدرِ پاکستان یا وزیرِ خزانہ کہ وہ بھیک مانگتے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان سے بات کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی ’جس نے ہمارے فوجی سپاہیوں کو شہید کیا، ہماری قومی قیادت کو شہید کیا، ہمارے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا، یہ کون ہوتے ہیں کہ اپنے طور پر فیصلہ کریں کہ کس سے انگیج کرنا ہے۔‘
بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جو بھی پالیسی ہو اس کی پارلیمان منظوری دے، وہ اتفاقِ رائے سے بنے۔ وہ پالیسی بہتر پالیسی بھی ہو گی اور اس کی قانونی حیثیت بھی ہو گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ سیز فائر کا معاہدہ ہو چکا ہے بلکہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ ہی ہو گا۔ یاد رہے کہ فائر بندی کا اعلان گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا تھا۔
احسن اقبال کے مطابق اجلاس میں عسکری ادارے کی جانب سے یہ ضرور بتایا گیا کہ مذاکرات کی آپشن موجود ہے جس پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج فیصلہ سازی نہیں کر سکتی کیونکہ یہ کام صرف اور صرف حکومت یا پارلیمنٹ کر سکتی ہے، اسی لیے اپوزیشن نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہی ان مذاکرات پر قومی اتفاق رائے قائم ہو سکے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ اہم معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا بلکہ تحریک طالبان سے مذاکرات جیسے امور کی معلومات اس وقت سامنے آتی ہیں جب وزیر اعظم غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہیں۔
تحریک طالبان سے مذاکرات اور سیز فائر

تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات اور جنگ بندی کے بارے میں اعلان پیر کی شام وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کیا تھا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ 'ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی۔'
فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا تھا اور شدت پسند تنظیم کا کہنا تھا کہ 'یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات جنگ کا حصہ ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا انکار نہیں کر سکتی، لہٰذا تحریک طالبان پاکستان ایسے مذاکرات کے لیے تیار ہے جس سے ملک بھر میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔'
ٹی ٹی پی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان موجودہ مذاکراتی عمل میں تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے مابین ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے اور فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو آئندہ لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین نے نو نومبر سے نو دسمبر تک فائر بندی پر اتفاق کیا ہے جسے قائم رکھنا فریقین کی ذمہ داری ہو گی اور اس مدت میں فریقین کی رضامندی سے مزید توسیع بھی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور عوام دونوں کو نشانہ بناتی رہی ہے اور اس کے شدت پسندوں کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ بھی شامل تھا۔
پشاور کے وارسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر مسلح شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 کو حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
ماضی میں تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے ٹی آر ٹی نیوز کو ایک انٹرویو میں بھی بتایا تھا کہ حکومت پاکستان ٹی ٹی پی کے کچھ علیحدہ دھڑوں سے بات چیت کر رہی ہے۔












